سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(489) دورِ حاضر کی جماعت المسلمین

  • 12508
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-23
  • مشاہدات : 2920

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

دور حاضر میں جماعت المسلمین والے صرف اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ،دوسروں کو فرقہ واریت کی پیداوار کہہ کر مسلمان خیال نہیں کرتے، ان کا کہنا ہے کہ جو ہمارے امیر کی بیعت کرے گا وہی مسلمان ہے جو بیعت سے انکار کرتا ہے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس جماعت کےمتعلق وضاحت کریں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہمیں معلوم نہیں کہ سائل نے کس ‘‘جماعت المسلمین’’ کے متعلق سوال  کیا ہے،کیونکہ اس وقت تک متعدد ‘‘جماعت المسلمین ’’ خودروبوٹیوں کی طرح نمودار ہوچکی ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہے:

٭65ہجری میں معتدل خوارج کی ایک تنظیم ‘‘جماعت المسلمین ’’ کے نام سےموسوم تھی ،جس کا بانی عبداللہ بن اباض تھا، جسے اہل جماعت المسلمین کے لقب سے یاد کرتے تھے۔

٭دور حاضر میں عربوں نے ایک جماعت المسلمین بنا رکھی ہے۔ جن کا ایک کاغذی خلیفہ انگلینڈ میں پناہ لئے ہوئے ہے۔

٭کراچی میں بھی ایک جماعت المسلمین ہے ، جسے مسعود احمد بی ایس سی نے کاشت کیا ، ان کا دعویٰ ہے کہ ہماری جماعت ہی امت مسلمہ ہے باقی جماعتیں امت مسلمہ سے خارج ہیں۔

٭اس جماعت المسلمین سے ایک المسلمین نامی جماعت پیدا ہوئی ہے ۔ اس کے پیروکار رفع عیسی اور حیات عیسی علیہ السلام کے منکر ہیں۔

٭ایک جماعت المسلمین لوگوں سے خفیہ بیعت لیتی ہے، انہوں نے بڑی تگ و دو کے بعد ایک قریشی خلیفہ دریافت کیا ہے۔ جو بنگلہ دیش میں روپوش ہے۔

٭کراچی میں ایک ہی جماعت المسلمین ردعمل کے طور پر معرض وجود میں آٗئی ہے۔ اس کے بانی ہمارے محترم جناب مولانا ابوجابر عبداللہ دامانوی ہیں اور وہ اسے حقیقی جماعت المسلمین قرار دیتے ہیں۔ دراصل اس ہنگامہ خیزی کے دور میں جماعت سازی کا فتنہ عروج پر ہے جو زبان آور یا قلم کار ہے۔ وہ سب سے پہلے جماعت سازی کے متعلق سوچتا ہے۔ اس قماش کے لوگ خدمت ملت یا خدمت اسلام کا نعرہ لے کر اٹھتے ہیں ۔ جب انہیں عوام میں کچھ پذیرائی ہوتی ہے تو جسد اسلام سے ایک لوتھڑا الگ کرکے اپنی ایک الگ دکان سجا لیتے ہیں پھر جو شخص اس دکا ن سے سودا نہ خریدے ان کے ہاں اس کا ایمان مشکوک قرار پاتا ہے۔ انہیں اپنے علاوہ کوئی دوسرا مسلمان دکھائی نہیں دیتا ، چنانچہ ہم مسعود احمد بی ایس سی کی جماعت المسلمین کو دیکھتے ہیں جو ۱۳۹۵ہجری میں حکومت پاکستان کے ہاں رجسٹری ہوئی اور اسے خوب عروج حاصل ہوا۔ یہ تکفیری گروہ اہل حدیث حضرات کو اپنا مدمقابل خیال کرتا ہے۔ اہل حدیث جماعت سے ان کی دشمنی کا ایک واقعہ ہدیہ قارئین ہے۔

ڈاکٹر سید شفیق الرحمن زیدی کسی زمانے میں مسعود احمد بی ایس سی کی جماعت المسلمین میں شا مل تھے۔ بہاولپور میں قیام کے دوران حافظ عبداللہ بہاولپوری کی اقتدا میں نمازمیں پڑھ لیا کرتے تھے۔ ان کے پیرومرشد نے انہیں بایں الفاظ ہدایت نامہ جاری کیا۔ آپ ابھی تک جماعت کے شدید ترین دشمن  کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں،آپ نے ایک فرقہ پرست کوامام بنارکھا ہے ،ا ٓپ نے ایک فرقہ پرست کو چھوڑنے کے بجائے اس کو ایک بڑا اعزاز دے رکھا ہے،لہٰذا پہلے آپ ان سے دینی تعلقات منقطع کریں۔ ان کے پیچھے نماز پڑھنا چھوڑیں ، پھر اپنے سوالات بھیجیں۔ جماعت المسلمین کے تمام ارکان کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ کسی فرقے سے تعلق رکھنے والے شخص کے پیچھے نماز نہ  پڑھیں۔ اس کے پیچھے نماز پڑھنا اپنی حقانیت پر خود ضرب لگانا ہے اور اپنے وجود کو ختم کرنا ہے۔ (مراسلہ بنام شفیق الرحمٰن، بحوالہ تحقیق مزید بسلسلہ جماعت المسلمین، ص:۹۹)

ان کے عقائد کی جھلک درج ذیل ہے:

٭جو شخص مسعود احمد کے ہاتھ پر بیعت نہیں کرتا وہ غیر مسلم ہے۔

٭غیر مسعودی کی اقتدا میں نماز پڑھنا جائزنہیں ۔

٭غیر مسعودی کی نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں اور نہ ہی ان کے معصوم بچوں کے جنازہ میں شریک ہونا جائز ہے۔

٭غیر مسعودی کولڑکی دینا یا ان سے لڑکی لینا جائز نہیں۔

٭ مسعودی اپنے معاہدہ نکاح میں یہ شرط شامل کرتے ہیں کہ جماعت چھوڑنے کی صورت میں ہماری لڑکی کو طلاق دوگے۔

٭جماعت المسلمین کو چھوڑنے والا مرتد اور خارج از اسلام ہے۔

٭غیر مسعودی کی اقتدا میں حج کرنا جائز نہیں ہے۔

خوارج کی طرح ان کا رویہ انتہائی سخت اور خشونت بھرا ہوتا ہے، ان کے عقائد و نظریات بڑی حد تک روافض و قادیانیوں سے یکسانیت رکھتے ہیں۔ ان حضرات نے امت مسلمہ کی تکفیر کرکے سیاسی اقتدار کے حصول کے بغیر ‘‘ جماعت المسلمین’’کے نام سے ایک خود ساختہ نظام حکومت قائم کرنے کا نظریہ بھی خوارج سے مستعار لیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا تھا کہ جو آیات کفارو منافقین کے متعلق نازل ہوئی ہیں ۔ یہ لوگ انہیں مسلمانوں پر چسپاں کرکے قلبی سکون حاصل کرتے ہیں۔ قرآن کریم نے ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا ہے کہ ‘‘ان کے ساتھ مت بیٹھو تا آنکہ وہ کسی دوسری بات میں نہ لگ جائیں۔ بصورت دیگر تم بھی اس وقت انہی جیسے ہوجاؤگے۔’’ (۴/النساء:۱۴۰)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:478

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ