سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(475) بطور ضمانت رقم وصول کرنا

  • 12494
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-22
  • مشاہدات : 408

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے ڈیرے پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی ہمیں جن لوگوں پر شبہ تھا، سراغ رسانی کے کتوں کے ذریعے ان پر الزام صحیح ثابت ہوا۔ جبکہ انہوں نے صحت جرم سے انکار کردیا ۔ برادری کے کچھ آدمی ان کی صفائی دینے کے لئے تیار ہوئے۔ہم نے ان سے دس آدمیوں کا انتخاب کیا اور دو لاکھ روپیہ بطور ضمانت رکھ لیا کہ اگر ان میں سے ایک آدمی بھی منحرف ہوتو زرضمانت کو ضبط کرلیا جائے گا۔ اس معاملہ کی شرعی حیثیت کے متعلق وضاحت کریں تا کہ ہم کسی نتیجہ پر پہنچ سکیں؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے ڈیرے پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی ہمیں جن لوگوں پر شبہ تھا، سراغ رسانی کے کتوں کے ذریعے ان پر الزام صحیح ثابت ہوا۔ جبکہ انہوں نے صحت جرم سے انکار کردیا ۔ برادری کے کچھ آدمی ان کی صفائی دینے کے لئے تیار ہوئے۔ہم نے ان سے دس آدمیوں کا انتخاب کیا اور دو لاکھ روپیہ بطور ضمانت رکھ لیا کہ اگر ان میں سے ایک آدمی بھی منحرف ہوتو زرضمانت کو ضبط کرلیا جائے گا۔ اس معاملہ کی شرعی حیثیت کے متعلق وضاحت کریں تا کہ ہم کسی نتیجہ پر پہنچ سکیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کسی مسلمان کو بلاوجہ مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا ،اگر کسی پر شک و شبہ ہوتو اسے ثابت کرنے  کےلئے شریعت نےد و چیزوں کا اعتبار کیا ہے۔ ایک یہ کہ ملزم خود اقرار جرم کرے، یا اس کے جرم کو ثابت کرنے کے لئے دوگواہ پیش کئےجائیں۔ اگر ملزم کی طرف سے اقرار جرم نہ ہو اور نہ ہی اس کے خلاف دوگواہ پیش کئے جاسکیں تو ملزم قسم اٹھا کر اپنے الزام سے بری ہوسکتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ‘‘مدعی پر دلیل پیش کرنا لازم ہے اور قسم وہ اٹھائے گا جس نے انکار کیا۔’’( بیہقی،ص:۲۵۲،ج۱۰)

حضرت اشعث بن قیس ؓ کہتے ہیں کہ میں اور ایک آدمی رسو ل اللہﷺ کے پاس ایک جھگڑا لے کرگئے ۔آپ نے فرمایا:‘‘تجھے ثبوت جرم کے لئے دوگواہ پیش کرناہوں گے یا پھر مدعا علیہ سے قسم لی جائے گی۔’’ (صحیح بخاری ،الشہادات:۲۶۶۹)

صورت مسئولہ میں مدعیان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس بات پر گواہ پیش کریں کہ واقعی فلاں لوگوں نے فائرنگ کی ہے۔

آرمی کے سراغ رسانی کے کتوں کے ذریعے جرم ثابت نہیں کیا جاسکتا ۔ انہیں صرف گواہی کی تائید میں پیش کیا جاسکتا ہے، کیونکہ ان کتوں کے سونگھنے کی قوت اگرچہ بہت تیز ہوتی ہے، تاہم بعض اوقات ان سے خطاممکن ہے۔ا یسے واقعات بھی ہمارے سامنے ہیں کہ سراغ رسانی کے کتے تھک ہانپ کرایک جگہ بیٹھ گئے۔فوجی حضرات نے جہاں بیٹھےتھے انہیں کو جرم میں دھر لیا،لہٰذا کتوں وغیرہ سے جرم ثابت نہیں کیا جاسکتا ۔ یہی وجہ ہے کہ عدالتیں اور پولیس انہیں تسلیم نہیں کرتے۔ اگر جرم ثابت نہ ہوتو ملزموں سے قسم لی جائے گی اگرچہ ان کی ثقاہت مجروح ہی کیوں نہ ہو۔ رسول اللہﷺ کے عہد مبارک میں ایک شخص قتل ہوا ،مقتول کے ورثا نے یہود پر الزام لگایا  کیونکہ ان کے علاقہ میں مقتول پایا گیا تھا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ‘‘تم اس پرگواہ پیش کرو کہ واقعی انہوں نے قتل کیا ہے یا پھر یہودیوں میں سے پچاس آدمی قسم اٹھا کر اس الزام سے بری ہوجائیں گے۔ ’’انہوں نے کہا کہ یہود کی قسم کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ رسول اللہﷺ نے اس مقتول کی دیت بیت المال سے ادا کردی تا کہ مسلمان کا خون ضائع نہ ہو۔(صحیح بخاری ،حدیث نمبر:۲۷۰۲)

لیکن ملزمان کی بجائے دوسروں سے قسم لینا اس کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہاجاسکتا ہے کہ دوسرے آدمی ان سے قسم لے کر ان کی طرف سے صفائی دے سکتے ہیں لیکن ان کی جگہ پر وہ قسم اٹھائیں اس کا ثبوت محل نظر ہے۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:465

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ