سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(469) وہ عورت جو ہر بات کا جواب قرآنی آیات سے دیتی تھی

  • 12480
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-19
  • مشاہدات : 725

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ہمارے ہاں اکثر خطیب حضرات واقعہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مبارکؒ کو دوران سفر ایک ایسی عورت سے گفتگو کا موقع ملا جو ہر بات کا جواب قرآنی آیات سے دیتی تھیں اس واقعہ کی اصلیت کیا ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے ہاں اکثر خطیب حضرات واقعہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مبارکؒ کو دوران سفر ایک ایسی عورت سے گفتگو کا موقع ملا جو ہر بات کا جواب قرآنی آیات سے دیتی تھیں اس واقعہ کی اصلیت کیا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہمارے ہاں یہ المیہ ہے کہ واعظین حضرات قرآن و حدیث کے صحیح اورمستند واقعات کے بجائے من گھڑت قصے بیان کرنے کے عادی ہیں۔ چونکہ ان میں انوکھا پن ہوتا ہے، اس لئے انہیں جھوم جھوم کر بیان کیا جاتا ہے۔ مذکورہ واقعہ بھی اس قبیل سے ہے۔افسوس کہ جماعت اہل حدیث سندھ کے ترجمان رسالہ’’دعوت اہل حدیث‘‘ میں تحقیق و تبصرہ کے بغیر تین چار صفحات تک اسے پھیلایا گیا ہے۔ عرصہ پچیس ، تیس سال قبل بندہ نےا س واقعہ کے متعلق ’’اہل حدیث‘‘ میں لکھا تھا کہ یہ بے بنیاد اور خود ساختہ ہے۔ غالباًعلامہ البانیؒ کی تحقیق کو بنیاد بنایا تھا۔ بہر حال یہ واقعہ’’حکایه متکلم بالقرآن کے عنوان سے المستطرف فی کل فن مستطرفْ‘‘ (ص۵۶،ج۱)

میں بیان ہو اہے۔ اس کا کوئی حوالہ باسند بیان نہیں ہوا۔ بلاسند واقعات اکثر و بیشتر خود ساختہ ہوتے ہیں ویسے بھی اس  اس کتاب میں اس طرح کے دیگر واقعات بھی فضول اور بے بنیاد ہیں۔ اس پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔ اسی طرح کا ایک واقعہ امام ابن حبان سے بیا ن کیا ہے۔ (روضۃ العقلاءو نزھۃ الفضلاءص:۴۸۳)

انہوں نے اس کی سند بھی بیا ن کی ہے۔ اس میں ایک راوی محمد بن زکریا بن دینار الغلابی ہے۔ جس کے متعلق امام دار قطنی نے لکھا ہے کہ حدیثیں بنایا کرتا تھا۔ (کتاب الضعفاء والمترکین ،ص:۴۸۳)

اس کتاب میں مذکورہ واقعہ الاصمی کی زبانی بیان ہوا ہے۔ انہوں نے واقعہ کے آخر میں بتایا ہے کہ میر ی معلومات کےمطابق و ہ عورت شیعہ تھی۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص454

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ