سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(443) وصال کے روزوں کی شرعاً حقیقت

  • 1247
  • تاریخ اشاعت : 2012-06-12
  • مشاہدات : 535

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
وصال کے روزے سے کیا مراد ہے اور کیا یہ شرعاً جائز ہے؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

وصال کے روزے سے کیا مراد ہے اور کیا یہ شرعاً جائز ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

وصال کے روزے سے مراد یہ ہے کہ انسان دو دن افطار نہ کرے اور دو دن متواتر روزے کی حالت میں رہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے:

«من ا أَرَادَ أَنْ يُوَاصِلَ فَلْيُوَاصِلْ الی السَّحَرِ» صحيح البخاری، الصوم، باب الوصال الی السحر، ح: ۱۹۶۷۔

’’جو شخص وصال کرنا چاہے، وہ سحری تک وصال کرے۔‘‘

سحری تک وصال جائز ہے، حکم شریعت نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے روزہ جلدی افطار کرنے کی ترغیب دی ہے۔ آپ نے فرمایا:

«لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ» صحيح البخاری، الصوم، باب تعجيل الافطار، ح:۱۹۵۷وصحيح مسلم، الصيام، باب فضل السحور،ح:۱۰۹۸۔

’’لوگ ہمیشہ خیر کے ساتھ رہیں گے جب تک جلد افطار کرتے رہیں گے۔‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے سحری تک وصال کو صرف جائز قرار دیا ہے اور جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ تو وصال فرماتے ہیں، تو آپ نے فرمایا:

«اِنِّیْ لَسْتُ کَهَيْئَتِکُمْ» صحيح البخاری، الصوم، باب برکة السحور فی غير ايجاب، ح: ۱۹۲۲۔

’’یقینا میں تمہاری ہیئت کی طرح نہیں ہوں میری بات الگ ہے۔‘‘

وباللہ التوفیق

فتاویٰ ارکان اسلام

روزے کے مسائل  

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ