سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(450) شب براءت کی شرعی حیثیت

  • 12469
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-19
  • مشاہدات : 718

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

شب براء ت کے متعلق وضاحت کریں کہ اس کی شریعت میں کیا حیثیت ہے، کیا اس دن روزہ رکھنا چاہیے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بعض ناقابل حجت روایات کی بنا پر لیلۂ مبارکہ سے مراد ماہ شعبان کی پندرھویں رات مراد لی گئی ہے۔ جس کا نام لوگوں نے شب براء ت رکھا ہے، پھر ستم بالائے ستم یہ ہے کہ جس قدر فضائل و مناقب لیلۃ القدر کے متعلق احادیث میں وارد ہیں ان تمام کو شب براء ت کے کھاتے میں ڈال کر اسے خوب رواج دیا گیا ہے۔ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے ماہ شعبان کے متعلق مندرجہ ذیل طرز عمل منقول ہے:

٭  حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کو ماہ شعبان میں بکثرت روزے رکھتے دیکھا ہے۔ [صحیح بخاری، الصوم:۱۹۶۹]

٭  حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان کے پورے روزے رکھتے حتی کہ اسے ماہ رمضان سے ملا دیتے ۔ [ابودائود، الصوم:۲۳۳۶]

شعبان کی پندرھویں تاریخ کو صرف ایک روزہ رکھنا جائز نہیں ہے۔ اسی طرح شب براء ت کے قیام کی بھی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:448

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ