سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(435) خاوند کی اجازت کے بغیر گھریلو اخراجات کے لیے پیسے لینا

  • 12454
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-18
  • مشاہدات : 449

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے گھر میں اللہ کا دیا ہوا سب کچھ ہے،اس کے باوجود میرے خاوند گھریلو اخراجات کےمتعلق بہت تنگ کرتے ہیں، ایسے حالات میں مجھے شرعا اجازت ہے کہ میں گھریلو اخراجات کےلئے اپنے خاوند کی جیب سے اس کی اجازت کے بغیر پیسے نکال لوں؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے گھر میں اللہ کا دیا ہوا سب کچھ ہے،اس کے باوجود میرے خاوند گھریلو اخراجات کےمتعلق بہت تنگ کرتے ہیں، ایسے حالات میں مجھے شرعا اجازت ہے کہ میں گھریلو اخراجات کےلئے اپنے خاوند کی جیب سے اس کی اجازت کے بغیر پیسے نکال لوں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نکاح کے بعد بیوی کے جملہ اخراجات کی ذمہ داری خاوند پر عائد ہوتی ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:‘‘خوشحا ل کو چاہیےکہ وہ اپنی حیثیت  کے مطابق اخراجات پورے کرے اور تنگدست اللہ کی دی ہوئی حیثیت کے مطابق خرچہ کرے۔’’ (۶۵/الطلاق:۷)

اوررسول اللہﷺ نے بھی اسی بات کی تلقین فرمائی ہے حدیث میں ہے :‘‘بیوی کے کھانے پینے اور لباس وغیرہ کے اخراجات تمہارے ذمے ہیں۔’’ (صحیح مسلم ،الحج:۲۹۵۰)

ان اخراجات میں کھانا ،پینا ،علاج ، رہائش اور لباس وغیرہ شامل ہیں۔ خاوند کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی حیثیت کےمطابق ان اخراجات کو پورا کرے اور اگر وہ ان اخراجات کی ادائیگی سے پہلو تہی کرتا ہے یا بخل سے کام لے کر پورے ادانہیں کرتا تو بیوی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ کسی بھی طریقہ سے خاوند کی آمدن سے انہیں پورا کرسکتی ہے ، جیسا کہ حضرت ہند بنت عتبہ ؓ نے ایک مرتبہ رسول اللہﷺ سے اپنے خاوند کے متعلق شکایت کی کہ میرا خاوند ابوسفیانؓ گھریلو اخراجات پورے طور پر ادا  نہیں کرتا تو کیا مجھے اجازت ہے کہ میں اس کی آمدن سے اتنی رقم اس کی اجازت کے بغیر لےلوں، جس سے گھر کا نظام چل سکے۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا۔‘‘ہاں !ْ اس کے مال سے اس کی اجازت کے بغیر اتنا لے سکتی ہو جس سے معروف طریقہ کےمطابق تیرے اور تیری اولاد کی گزراوقات ہوسکے، یعنی گھر کا نظام چل سکے۔’’ (صحیح بخاری ، النفقات:۵۳۶۴)

امام بخاری ؒ نے اس حدیث پر بایں الفاظ عنوان قائم کیا ہے:

‘‘اگر خاوند اخراجات پورے نہ کرے تو بیوی کےلئےجائز ہے کہ وہ اس  کی اجازت کے بغیر اس کےمال سے اس قدر لے لے، جس سےمعروف طریقہ کےمطابق اہل خانہ کا گزاراہوسکے۔’’

مندرجہ بالااحادیث کےپیش نظر اگر خاوند گھریلو اخراجات کی ادائیگی میں کنجوسی کرتا ہے تو بیوی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے اس کی اجازت کےبغیر اس کےمال  سے اتنی رقم لےسکتی ہے جس سے گھر کا نظام چل سکے لیکن یہ اجازت صرف ضروریات کے لئے ہے  فضولیات کےلئے نہیں  ، نیز ایسا کرنے سے بیوی ، خاوند کے درمیان اختلاف اور تعلقات کےکشید ہونے کا اندیشہ ہے تو اس طریقہ سے اخراجات پورے نہیں کرنے  چاہییں، کیونکہ بیوی ، خاوند کے تعلقات کی استواری مقدم ہے ، اس بات کا فیصلہ بیوی  خود کرسکتی ہے کہ ایسا کرنے سے تعلقات تو خراب نہیں ہوں گے، بہرحال ایسے حالات میں ضروریات  کو پورا کرنے کےلئے بیوی کو  اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر اس کے مال سے اس قدر رقم لینے کی شرعاً اجازت ہے۔ جس سےمعروف طریقہ کےمطابق گزر اوقات ہوسکے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:437

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ