سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(413) اجتماعی اعتکاف اور اجتماعی مجالس کی شرعی حیثیت

  • 12424
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-16
  • مشاہدات : 595

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے ہاں دو نئے کام شروع ہوچکے ہیں ،یعنی اجتماعی اعتکاف کےلئے درخواستیں وصول کی جاتی ہیں اور طاق راتوں میں وعظ و نصیحت کی مجالس کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ اس اجتماعی اعتکاف اور اجتماعی مجالس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اعتکاف کا مطلب یہ ہے کہ آدمی عبادت کےلئے رمضان کے آخری دس دن عباد ت میں گزارے اور یہ دن اللہ کے ذکر کےلئے مختص کردے۔ رسول اللہ ﷺ ہر سال ماہ رمضان میں دس دن کا اعتکاف کرتے تھے اور جس سال آپ فوت ہوئے اس سال بیس دن کا اعتکاف فرمایا تھا۔ (صحیح بخاری ،الصوم، الاعتکاف:۲۰۴۴)

احادیث میں اعتکاف کرنے کی بہت فضیلت بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا:‘‘جو شخص اللہ کے رضاجوئی کےلئے صرف ایک دن کا اعتکاف کرتا ہے ،ا للہ تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقوں کو حائل کردیں گے۔ا یک خندق کے دونوں کناروں کا فاصلہ مشرق سے مغرب تک ہوگا۔’’ (قیام رمضان  بحوالہ طبرانی باسناد حسن )

رسول اللہﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں بحالت اعتکاف عباد ت کے لئے اتنی محنت اور مشقت اٹھاتے کہ دوسرے دنوں میں اتنی کوشش نہ کرتے تھے۔ (صحیح مسلم ،الاعتکاف:۱۱۷۵)

روایت میں اس کوشش کی تفصیل بھی بیان ہوئی ہے رسول اللہ ﷺ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں عبادت کےلئے کمر بستہ ہوجاتے۔ رات کو عبادت کرکے اسے زندہ رکھتے اور اپنے اہل عیال کوعبادت کے لئے بیدار کرتے۔(صحیح بخاری ،الصوم :۲۰۲۴)

حضرت زینب بنت ام سلمہؓ کابیان ہے کہ جب رمضان ختم ہونے میں دس دن باقی رہ جاتے گھر میں ہر اس فرد کو نیند سے اٹھادیتے جو قیام کی طاقت رکھتا تھا۔ ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اعتکاف اور طاق راتوں کا قیام ایک انفرادی عبادت ہے۔ صرف نماز تراویح کو ادا کرنے میں اجتماعیت کو برقرار رکھنے کی گنجائش ہے،اس کے علاوہ کسی مقام پر اجتماعیت نظر نہیں آتی ، اس لئے ہمیں ان قیمتی دنوں اور سنہری راتوں کو اجتماعی اعتکاف اور اجتماعی مجالس کی نذر نہیں کردینا چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ سے اس کی نظیر نہیں ملتی ۔ رسول اللہﷺ کا فرمان ہے کہ ‘‘ جو شخص ہمارے دین میں کسی نئی چیز  کو رواج دیتا ہے جس کا تعلق دین سے نہیں ہے،وہ مردود ہے۔ ’’ (صحیح بخاری ،الصلح :۲۲۹۷)

اسی طرح آپ کا فرمان ہے کہ ‘‘ جو شخص نے ایسا کام کیا جس پر ہمارا امر نہیں ہے وہ رد کردینے کے قابل ہے۔’’(صحیح بخاری ،باب نمبر :۶۰)

ان احادیث کا تقاضا ہے کہ ایسے اعمال و افعال سے اجتناب کیا جائے، جن کا کتاب وسنت سے ثبوت نہیں ملتا ، کیونکہ بدعات کے ارتکا ب سے ثواب کے بجائے الٹا گناہ کا اندیشہ ہے۔(واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:414

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ