سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(413) اجتماعی اعتکاف اور اجتماعی مجالس کی شرعی حیثیت

  • 12424
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-16
  • مشاہدات : 640

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے ہاں دونئے کام شروع ہوچکے ہیں، یعنی اجتماعی اعتکاف کے لئے درخواستیں وصول کی جاتی ہیں اور طاق راتوں میں وعظ ونصیحت کی مجالس کااہتمام کیا جاتا ہے۔ اس اجتماعی اعتکاف اوراجتماعی مجالس کی شرعی حیثیت کیاہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اعتکاف کامطلب یہ ہے کہ آدمی عبادت کے لئے رمضان کے آخری دس دن عبادت میں گزارے اوریہ دن اللہ کے ذکر کے لئے مختص کردے۔ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم ہرسال ماہ رمضان میں د س دن کااعتکاف کرتے تھے اورجس سال آپ فوت ہوئے اس سال بیس دن کااعتکاف فرمایا تھا۔     [صحیح بخاری، الصوم، الاعتکاف: ۲۰۴۴]

احادیث میں اعتکاف کرنے کی بہت فضیلت بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جوشخص اللہ کی رضاجوئی کے لئے صرف ایک دن کااعتکاف کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے اورجہنم کے درمیان تین خندقوں کوحائل کردیں گے ۔ایک خندق کے دونوں کناروں کافاصلہ مشرق سے مغرب تک ہوگا۔‘‘     [قیام رمضان بحوالہ طبرانی باسنادحسن ]

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں بحالت اعتکاف عبادت کے لئے اتنی محنت اورمشقت اٹھاتے کہ دوسرے دنوں میں اتنی کوشش نہ کرتے تھے۔      [صحیح مسلم ،الاعتکاف :۱۱۷۵]              

روایت میں اس کوشش کی تفصیل بھی بیان ہوئی ہے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں عبادت کے لئے کمربستہ ہوجاتے۔ رات کوعبادت کرکے اسے زندہ رکھتے اوراپنے اہل وعیال کوعبادت کے لئے بیدار کرتے۔ [صحیح بخاری ، الصوم : ۲۰۲۴]

حضرت زینب بنت ام سلمہ  رضی اللہ عنہا کابیان ہے کہ جب رمضان ختم ہونے میں دس دن باقی رہ جاتے گھر میں ہر اس فرد کو نیند سے اٹھادیتے جوقیام کی طاقت رکھتا تھا ۔ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اعتکاف اورطاق راتوں کاقیام ایک انفرادی عبادت ہے۔صرف نماز تراویح کواداکرنے میں اجتماعیت کوبرقراررکھنے کی گنجائش ہے ،اس کے علاوہ کسی مقام پر اجتماعیت نظرنہیں آتی ،اس لئے ہمیں ان قیمتی دنوں اورسنہری راتوں کواجتماعی اعتکاف اوراجتماعی مجالس کی نذر نہیں کردیناچاہیے۔رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ کرام  رضی اللہ عنہم سے اس کی نظیرنہیں ملتی ۔رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ’’جوشخص ہمارے دین میں کسی نئی چیز کورواج دیتا ہے جس کا تعلق دین سے نہیں ہے، وہ مردودہے۔‘‘     [صحیح بخاری ،الصلح :۲۶۹۷]

اسی طرح آپ کافرمان ہے کہ ’’جس شخص نے ایساکام کیاجس پرہماراامرنہیں ہے وہ رد کردینے کے قابل ہے۔‘‘ [صحیح بخاری ، باب نمبر :۶۰]

ان احادیث کاتقاضا ہے کہ ایسے اعمال وافعال سے اجتناب کیاجائے ،جن کاکتاب وسنت سے ثبوت نہیں ملتا ،کیونکہ بدعات کے ارتکاب سے ثواب کے بجائے الٹاگناہ کااندیشہ ہے ۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:414

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ