سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(355) خاوند کا بیوی کو ’’میں نے تجھے آزاد کیا‘‘ جیسے الفاظ کہنا

  • 12346
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-14
  • مشاہدات : 845

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر خاوند اپنی بیوی کو کہے کہ میں نے تجھے آزاد کیا تو اس طرح طلاق ہوجائے گی؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اللہ تعالیٰ کے نزدیک نکاح کا رشتہ اس قدر حساس اور مضبوط ہے کہ اسے اشاروں ، کنایوں سے نہیں توڑا جاسکتاہے۔ اسے ختم کرنے کےلئے صراحت کے ساتھ لفظ طلاق استعمال کرنا  پڑتا ہے یا پھر سیاق و سباق کا خیال کرتے ہوئے نیت کو دیکھنا چاہیے۔ صورت مسئولہ میں خاوند کا اپنی بیوی کو یوں کہنا  کہ ‘‘میں نے تجھے آزاد کیا ۔’’ رشتہ ازدواج  کو ختم کرنے کے لئے صریح اور واضح نہیں ہے، ہاں ، اگر سیاق و سباق کے پیش نظر ان الفاظ سے خاوند کی نیت اپنی بیوی کو طلاق دینے کی تھی تو ان الفاظ سے طلاق ہوجائے گی ، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ایک منکوحہ کو طلاق دینے کے لئے یہ الفاظ استعمال کئے کہ تو ‘‘ اپنے گھر چلی جا۔’’(صحیح بخاری ،الطلاق:۵۲۵۴)

چونکہ رسول اللہﷺ کی نیت طلاق دینے کی تھی، اس لئے سیاق و سباق کے پیش نظر یہ الفاظ طلاق کےلئے کافی تھے۔ لیکن جب یہی الفاظ حضرت کعب بن مالک ؓ نے اپنی بیوی کےلئے استعمال کئے :‘‘تو اپنے گھر چلی جا۔’’ (صحیح بخاری ،المغازی:۴۴۱۸)

تو ان الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوئی کیونکہ حضرت کعب بن مالک ؓ کی نیت طلاق کی نہ تھی۔امام بخاری ؒ نے اپنی صحیح میں ایک باب بایں الفاظ قائم کیا ہے۔‘‘جب خاوند اپنی بیوی سے کہے کہ میں نے تجھ کو الگ یا آزاد کیا یا کوئی لفظ  جس سے طلاق کا مفہوم لیا جاسکتا ہوتو معاملہ اس کی نیت پر محمول ہوگا۔’’  (صحیح بخاری ،کتاب الطلاق)

ان حقائق کے پیش نظر صورت مسئولہ میں اگر ان الفاظ سے خاوند کی نیت طلاق دینے کی تھی تو طلاق واقع ہوجائے گی۔ بصورت دیگر طلاق نہیں ہوگی، تاہم خاوند کو چاہیے کہ اگر اپنی بیوی کو طلاق نہیں دینا چاہتا تو اس طرح کے ذو معنی الفاظ استعمال کرنے سے بھی گریز کرے،کیونکہ معاشرتی طور پر ایسے الفاظ سے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:364

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ