سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(354) عورت کو نہ تو طلاق دینا نہ نباہ کرنا

  • 12345
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-14
  • مشاہدات : 483

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں عرصہ تین سال سے شادی شدہ ہوں میرا خاوند ناگفتہ بہ غیر اخلاقی حرکات کا عادی ہے۔ میں تین سال سے اپنے والدین کے ہاں قیام پذیر ہوں۔ اس دوران مجھے کوئی نان ونفقہ نہیں دیا گیا۔ برادری کے طور پر میرے والدین نے باہمی صلح کی بہت کوشش کی ہے لیکن میرا خاوند اس پر آمادہ نہیں ہوا۔ اس کا کہنا ہے کہ نہ تو نباہ کرنا اور نہ ہی طلاق دینا ہے ۔ اب قرآن وحدیث کی روشنی میں میرے متعلق جو حکم ہے اس کی نشاندہی کی جائے تاکہ میں مستقبل کے متعلق کوئی واضح فیصلہ کرسکوں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شریعت اسلامیہ میں طلاق دینا اگرچہ خاوند کا حق ہے ، لیکن یہ بھی زیادتی ہے کہ میاں بیوی کےتعلقات کشیدہ ہو جائیں اور ان دونوں میں کسی طرح نباہ نہ ہوسکتا ہو، مگر شوہر طلاق دینے پر آمادہ بھی نہ ہوتو سنگین حالت میں بھی عورت اپنے خاوند کا ظلم و ستم برداشت کرتی رہے اور خاوند کی طرف سے طلاق کے انتظار  میں اپنی زندگی کو اجیرن بنائے رکھے۔ اس صورت میں اسلام نے عورت  کو یہ حق دیا ہے کہ وہ اپنے خاوند کو کچھ دے دلا کر اس سے طلاق حاصل کرے ۔ اس طرح طلاق لینے کو شریعت کی اصطلاح میں خلع کہاجاتا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے:‘‘اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں حدود الہٰی پر قائم نہ رہیں گے تو ان دونوں کے درمیان یہ معاملہ طے ہوجانے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ عورت اپنے خاوند کو کچھ معاوضہ دے کرعلیحدگی اختیار کرے۔’’ (۲/البقرہ:۲۳۹)

حدیث میں ہے کہ حضرت ثابت بن قیس ؓ کی بیوی نے حق مہرواپس دے کر اپنے خاوند سے خلع حاصل کرلیا تھا۔(ابو داؤد،الطلاق:۵۲۷۶)

خلع کی صورت میں بہتر ہے کہ عورت باہمی رضامندی سے اپنے گھر میں ہی کوئی معاملہ طے کرلے۔ اگر خاوند اس پر رضامند نہ ہو، جیسا کہ صورت مسئولہ میں ہے تو عورت کو چاہیے کہ وہ حاکم وقت یا اس کی قائم کردہ  عدالت میں حاضر ہو کراستغاثہ پیش کرے اوربذریعہ عدالت اپنے خاوند سے خلع حاصل کرے۔ رسول اللہ ﷺ کا حضرت  ثابت بن قیسؓ کو یہ حکم دینا کہ تم اپنا باغ واپس لے لو اور بیوی کو طلاق دے دو۔ اس با ت کا بین ثبوت ہے کہ میاں بیوی میں ناچاقی کے وقت عورت کی درخواست پر خلع کروانا عدالت کا کام ہے۔ بشرطیکہ وہ عدالت اپنے طور پر مطمئن ہوجائے کہ فریقین کے لئے باہمی معاشرت میں احکام الٰہیہ کی پابندی کرنا ممکن نہیں ہے۔ صورت مسئولہ میں اگر واقعی خاوند اپنی بیوی کو طلاق  دینے پر آمادہ نہیں ہے تو شریعت نے عورت کو حق دیا ہے کہ وہ عدالت کے ذریعے خلع کی ڈگری حاصل کرے ، پھر تاریخ اجرا سے عدت گزارنے کے بعد نکاح ثانی کرے۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:364

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ