سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(353) خلع کے بعد دوبارہ نکاح کرنا

  • 12344
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-14
  • مشاہدات : 638

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہندہ کی شادی زید سے ہوئی دوسال بعد ان میں اختلافات پیدا ہوگئے اور ہندہ نے زید سے علیحدگی کا مطالبہ کردیا اور اپنی مرضی سے بذریعہ عدالت خلع لےلیا۔ اب ہندہ دوبارہ زید کے ہاں آباد ہونا چاہتی ہے ، کیا کتاب وسنت کی رو سے ایسا ممکن ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عارضی زندگی میں شرعی طورپر طلاق دینا خاوند کا حق ہے لیکن اگر میاں بیوی کے تعلقات اس حد تک کشیدہ ہوجائیں کہ باہمی اتفاق کی کوئی صورت نہ رہے اور خاوند طلاق دینے پر بھی آمادہ نہ ہوتو ایسے حالات میں اسلام نے عورت کو حق دیا ہے کہ وہ اپنے خاوند کو کچھ دےدلا کر اس سے خلاصی حاصل کرے، اسے شریعت میں خلع کہتے ہیں ۔ اس کےلئے شرط یہ ہےکہ میاں بیوی کو ازدواجی زندگی میں حدود اللہ کے پامال ہونے کا اندیشہ ہو۔ا س وضاحت کے بعد دین اسلام میں بیوی کے ازدواجی تعلقات ختم ہونے پر دوصورتیں ایسی ہیں کہ وہ عام حالات میں اکٹھے نہیں ہوسکتے جس کی تفصیل حسب ذیل ہے:

*جب خاوند اپنی زندگی میں وقفے وقفے کے بعد تین طلاقیں دے ڈالے تو ہمیشہ کےلئے مطلقہ عورت اپنے سابقہ خاوند کےلئے حرام ہوجاتی ہے، البتہ تحلیل شرعی کے بعد اکٹھا ہونے کی گنجائش ہے۔ واضح رہے کہ تحلیل شرعی مروجہ حلالہ  نہیں کیونکہ ایسا کرنا حرام اور باعث لعنت ہے۔

*لعان کے بعد جو جدائی عمل میں آتی ہے وہ آیندہ زندگی میں باہمی نکاح کرنے کے لئے رکاوٹ کا باعث ہے کسی بھی صورت میں ان کا آپس میں نکاح نہیں ہوسکتا ہے،جیسا کہ حدیث میں ہے۔ان دو صورتوں کے علاوہ کوئی ایسی صورت نہیں کہ دائرہ اسلام  میں رہتے ہوئے ازدواجی تعلقات ختم ہونے پر دوبارہ میاں بیوی کا نکاح نہ ہوسکتا ہو۔ صورت مسئولہ میں یہاں بیوی کی علیحدگی بذریعہ خلع عمل میں آئی ہے، لہٰذا اگر عورت اپنے موقف سے دستبردار ہو کردوبارہ اپنے سابقہ خاوند کے ہاں آباد ہونے کی خواہش مند ہے تو شرعی نکاح کرنے کے بعد ازدواجی زندگی گزارنے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے ، البتہ نکاح جدید میں ان تمام شرائط کو ملحوظ رکھنا ہوگا جو  نکاح کےلئے ضروری ہیں۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:363

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ