سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(346) قبل از رخصتی طلاق دینا

  • 12337
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-12
  • مشاہدات : 554

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک آدمی کا کسی لڑکی سے صرف نکاح ہوا۔ اس نے قبل از رخصتی اسے طلاق دے دی۔ تحریر میں یہ بھی لکھا کہ آیندہ  ہمارا آپ سے اور تمہارا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اب وہ صلح کرنا چاہتے ہیں جبکہ طلاق پر چھ ماہ گزر چکے ہیں؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک آدمی کا کسی لڑکی سے صرف نکاح ہوا۔ اس نے قبل از رخصتی اسے طلاق دے دی۔ تحریر میں یہ بھی لکھا کہ آیندہ  ہمارا آپ سے اور تمہارا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اب وہ صلح کرنا چاہتے ہیں جبکہ طلاق پر چھ ماہ گزر چکے ہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

واضح رہے کہ میاں بیوی کے ازدواجی تعلقات  ختم ہونے پر صرف دو  صورتیں  ایسی ہیں کہ عام حالات میں وہ دوبارہ اکٹھے نہیں ہوسکتےہیں۔                 

(الف)اگر خاوندزندگی میں وقفہ وقفہ بعد تین طلاقیں دے ڈالے۔ ایسی صورت میں مطلقہ عورت سابقہ خاوند کےلئے حرام ہوجاتی ہے۔ البتہ تحلیل شرعی کے بعد اکٹھا ہونے کی گنجائش ہے۔ (مروجہ حلالہ سے مراد نہیں کیونکہ یہ باعث لعنت ہے)

(ب)لعان کے بعد میاں بیوی کے درمیان جو جدائی عمل میں آتی ہے اس کی  وجہ سے وہ   آیندہ اکٹھے نہیں ہوسکتے ۔ کسی صورت میں ان کا باہمی  نکاح نہیں ہوسکتا۔ ان دوصورتوں کے علاوہ  او ر کوئی  ایسی صورت نہیں ہے کہ وہ دائرہ اسلام میں رہتے ہوئے ازدواجی تعلقات ختم ہونے پر میاں بیوی کا آپس میں نکاح نہ ہوسکتا ہے۔ صورت مسئولہ میں چونکہ نکاح کے بعد  قبل از رخصتی طلاق ہوئی ہے، لہٰذا  ایسی صورت میں عدت وغیرہ نہیں ہوتی طلاق ملتے ہی نکاح ختم ہوجاتا ہے۔ آیندہ جب بھی حالات سازگار ہوجائیں تو شرعی نکاح کرنے کے بعد میاں بیوی  کے طورپر زندگی گزارنے میں شرعاً قباحت نہیں ہے۔ اس نئے نکاح کے لئے چار چیزوں کا ہونا ضروری ہے:

(۱)عورت کی رضامندی                                         (۲)سرپرست کی اجازت

(۳)حق مہر کا تعین                                                (۴)گواہوں کی موجودگی 

واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ احزاب آیت نمبر ۴۹ میں اس قسم کی طلاق کا ذکر فرمایا ہے۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:359

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ