سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(345) ایک سال بعد بھی رجوع نہ کرنا

  • 12336
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-12
  • مشاہدات : 533

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص نے اپنی بیوی کو کہا، تجھے طلاق، تجھے طلاق، تجھے طلاق اس کے بعد لڑکی اپنے میکے چلی آئی ایک سال تک خاوند نے رجوع نہیں کیا ، کیا اب  لڑکی آگے نکاح کرسکتی ہے؟ واضح رہے کہ چند ایک معزز گواہان کی موجودگی میں اس نے طلاق دینے کا اقرار کیا ہے کتا ب وسنت کی روشنی میں فتوی ٰ درکا رہے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

رسول اللہﷺ کے عہد مبارک میں حضرت ابو بکر صدیقؓ کے دور خلافت اور حضرت عمر ؓ کے ابتدائی دور حکومت میں بیک وقت کی تین طلاق ایک رجعی شمار ہوتی تھی۔ (صحیح مسلم، کتاب الطلاق :۳۶۷۳)

اسی طرح حضرت رکانہ بن عبد یزید ؓ کےساتھ  بھی اسی طرح کا واقعہ پیش آیا کہ اس نے اپنی  بیوی کو مجلس میں تین دفعہ طلاق دے ڈالی تھی تو رسول اللہﷺ نے اسےایک رجعی طلاق قرار دیتے ہوئے رجوع کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ چنانچہ انہوں نے اپنی بیوی سے دوبارہ رجوع کرلیا تھا۔  (مسند امام احمد، ص:۲۶۵،ج۱)

اس انداز سے طلاق دینے کے بعد خاوند کو حق ہے کہ دوران عدت رجوع کرے اگر عدت گزرجائے تو نکاح ختم ہوجاتاہے۔ پھر ولی کی اجازت ،عورت کی رضامندی ، حق مہر اور گواہوں کی  موجودگی میں نیا نکاح ہوسکتا ہے۔ اس سلسلہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :‘‘جب عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو ان کو دوسرے شوہروں کے ساتھ نکاح کرنے سے مت روکو جبکہ وہ آپس میں جائز طورپر راضی ہوجائیں۔’’ (۲/البقرہ: ۲۳۲)

صورت مسئولہ میں اگر خاوند نے واقعی اپنی بیوی کو طلاق دیدی ہے اور گواہان بھی قابل اعتبار ہیں اور اس نے دوران عدت رجوع بھی نہیں کیا توعدت کے بعد عورت آزاد ہے۔ خواہ طلاق دہندہ سے دوبارہ نکاح  کرے یا کسی دوسرے خاوند سے شادی کرے۔ سوال سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی عدت گزرچکی ہے او ر خاوند نےد وران عدت رجوع بھی نہیں کیا ۔ ایسے حالات میں عورت پر کسی قسم کا دباؤ نہ ڈالاجائے۔ وہ نکاح کرنے میں خود مختار ہے، بشرطیکہ وہ ولی کی سرپرستی میں رہتے ہوئے اسے سرانجام دے۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:358

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ