سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(344) ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی ہیں

  • 12335
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-12
  • مشاہدات : 492

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

دو جوڑوں کا نکاح وٹہ سٹہ کی بنیاد پر ہوا، پھر گھریلو حالات خراب ہونے سے دونوں لڑکیا ں اپنے اپنے والدین کےہاں چلی گئی اور ان کا سامان بھی اٹھوا دیا گیا ۔ کچھ عرصہ بعد پھر صلح کےلئے پنجائیت کا اہتمام کیا  گیا۔ وہاں ایک خاوند نے غصہ میں آکر تین دفعہ طلاق، طلاق، طلاق کہا۔ اب فریقین راضی نامہ کرنا چاہتے ہیں  کیا ایسا کرنا ممکن ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صورت مسئولہ میں پہلے وٹہ سٹہ کی شادی  ہی محل نظر ہے۔ اسلام ن اس قسم کی نارواشرائط کو جائز ہی قرار نہیں دیا جو کہ وٹہ سٹہ کی صورت میں ایک دوسرے پر عائد کی جاتی ہیں کیونکہ اس کانتیجہ وہی برآمد ہوا جو صورت مسئولہ میں بیان کیا گیا ہے جو حضرات اس کےمتعلق کوئی نرم گوشہ رکھتے ہیں وہ اس نکاح شغار کو چند ایک شرائط کے ساتھ جائز قرار دیتے ہیں۔ تاہم یہ مسئلہ اپنی جگہ پر قابل اعتبار ہے کہ ایک  مجلس کی تین طلاق ایک رجعی شمار ہوتی ہے،جیسا کہ حضرت ابورکانہ ؓ  نے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس  میں تین طلاق دیں تھیں پھر اس پر نادم و پشیمان ہوئے تو رسول اللہﷺ نے حضرت ابورکانہ ؓ سے فرمایا‘‘کہ یہ تو ایک رجعی طلاق ہے اگر چاہو تو رجوع کرلو۔’’ چنانچہ حضرت ابورکانہ ؓ نے اپنی بیوی سے رجوع کرکے دوبارہ اپنا گھر آباد کر لیا تھا۔(مسند امام احمد، ص:۲۶۵،ج ۱)

 حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں کہ یہ حدیث مسئلہ تین طلاق میں ایک فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے جس کی اور کوئی تاویل نہیں کی جاسکتی۔ (فتح الباری ، الطلاق)

اگرچہ اس انداز سے طلاق دینے کو رسول اللہﷺ نے اللہ تعالیٰ  کی کتاب کے ساتھ کھیلنا قرار دیا ہے اور اس پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔  (نسائی، الطلاق:۳۴۳۰)

واضح رہے کہ اس سہولت سے وہی لوگ فائدہ اٹھانے کے حقدار ہیں جو کتا ب و سنت کو ہی آخری اتھا رٹی قرار دیتے ہیں۔ البتہ جو حضرات تقلید کے بندھن میں جکڑے ہوئے ہیں انہیں  مطلب پرستی کے طور پر اہلحدیث کی طرف رجوع کرنا قابل ستائش نہیں ہے۔ بہرحال صورت مسئولہ میں یہ ایک رجعی طلاق ہے اس کے بعد (دوران عدت ازخود) رجوع کی گنجائش ہے اور بعد از عدت نکاح جدید کے ساتھ گھر پھر سے آباد کیا جاسکتا ہے۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:357

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ