سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(342) وضع حمل کے بعد طلاق کا موصول ہونا

  • 12333
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-11
  • مشاہدات : 415

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی پھر چند دن کے بعد رجوع کرلیا ، کچھ دنوں بعد حمل ٹھہرا تو پھر طلاق دیدی، وضع حمل سے قبل رجوع کرلیا ، پھر اسے تیسری طلاق ارسال کردی ، لیکن سسرال والوں کو وضع حمل کے بعد موصول ہوئی، راہنمائی فرمائیں کہ اب اس  عورت سے دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے یا نہیں ؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی پھر چند دن کے بعد رجوع کرلیا ، کچھ دنوں بعد حمل ٹھہرا تو پھر طلاق دیدی، وضع حمل سے قبل رجوع کرلیا ، پھر اسے تیسری طلاق ارسال کردی ، لیکن سسرال والوں کو وضع حمل کے بعد موصول ہوئی، راہنمائی فرمائیں کہ اب اس  عورت سے دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے یا نہیں ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

واضح رہے کہ دین اسلام کے بیان کردہ ضابطہ طلاق کے مطابق خاوند کو اپنی  زندگی میں صرف تین طلاق دینے کا اختیار ہے پہلی اور دوسری طلاق کے بعد حق رجوع باقی رہتا ہے جس کی صورت یہ ہےکہ اگر دوران  عدت رجوع کر لیا جائے تو نکاح جدید کی ضرورت نہیں لیکن عدت کے بعد نکاح جدید کے بغیر رجوع نہیں ہوسکے گا۔ تیسری طلاق کے بعد حق رجوع ختم ہوجاتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :‘‘پھر اگر شوہر (دو طلاق  کے بعدتیسری) طلاق عورت کو دے دے تو اس کے بعد جب تک عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے اس (پہلے شوہر ) پر حلال نہ ہوگی۔’’  (۲/البقرہ:۲۳۰)

حدیث کے مطابق آیت میں مذکورہ نکاح سے مراد مباشرت ہے اور یہ بھی  واضح رہے کہ یہ نکاح بھی اپنا گھر بسانے کی نیت سے کیا جائے کوئی سازشی یا مشروط قسم کا نکاح نہ ہو، جیسا کہ ہمارے  ہاں بدنام زمانہ ‘‘ حلالہ’’ کیا جاتا ہے، کیونکہ ایسا کرنا حرام اور باعث لعنت ہے۔ اس شرعی نکاح کے بعد اگر دوسرا خاوند فوت ہوجائے یا کسی وجہ سے عورت کو طلاق ہوجائے تو عدت گزارنے کے بعد پہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے۔

صورت مسئولہ میں سائل نے اپنی بیوی کو یکے بعد دیگرے تین طلاق دیدی ہیں، اب عام حالات میں رجوع کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ کیونکہ تیسری طلاق کے بعد بیوی ہمیشہ کےلئے  حرام ہوگئی ہے۔ سسرال والوں کو وضع حمل کےبعد موصول ہونا اس کے واقع ہونے پر کوئی اثر انداز نہیں ہوتا، کیونکہ طلاق دینا خاوند کا حق ہے جو اس نے استعمال کر لیا ہے۔ عورت کا اسے قبول کرنا یا نہ کرنا اسے وضع حمل کے بعد موصول ہونا وقوع طلاق کےلئے شرط نہیں ہے۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:356

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ