سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(340) تین طلاقوں کے بعد رجوع شرعاً صحیح نہیں

  • 12331
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-11
  • مشاہدات : 336

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک عورت کی شادی کو پندرہ ، سولہ سال گزر چکے ہیں شادی کے چار سال تک اپنے خاوند کے گھر آباد رہی ، اس کا خاوند کویت چلاگیا اور وہاں سے تین طلاقیں روانہ کردیں ۔ عدالت میں نان و نفقہ کا دعویٰ بھی ہوا، فیصلہ لڑکی کے حق میں ہوا عدالت میں لڑکی نے کئی بار طلاق وصول کرنے کا اقرار کیا اب گیارہ بارہ سال بعد لڑکے والے کہتے ہیں کہ ہم نے طلاق نہیں دی لڑکی والوں نے تسلیم کرکے لڑکی لڑکی کو روانہ کردیا ہے آپ اس بات کی وضاحت کریں کہ طلاق ہوئی ہے کہ نہیں ، واضح رہے کہ لڑکی کے ہاں طلاق کے بعد لڑکا بھی پیدا ہوا ہے؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک عورت کی شادی کو پندرہ ، سولہ سال گزر چکے ہیں شادی کے چار سال تک اپنے خاوند کے گھر آباد رہی ، اس کا خاوند کویت چلاگیا اور وہاں سے تین طلاقیں روانہ کردیں ۔ عدالت میں نان و نفقہ کا دعویٰ بھی ہوا، فیصلہ لڑکی کے حق میں ہوا عدالت میں لڑکی نے کئی بار طلاق وصول کرنے کا اقرار کیا اب گیارہ بارہ سال بعد لڑکے والے کہتے ہیں کہ ہم نے طلاق نہیں دی لڑکی والوں نے تسلیم کرکے لڑکی لڑکی کو روانہ کردیا ہے آپ اس بات کی وضاحت کریں کہ طلاق ہوئی ہے کہ نہیں ، واضح رہے کہ لڑکی کے ہاں طلاق کے بعد لڑکا بھی پیدا ہوا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بشرط صحت سوال واضح ہو کہ مذکورہ صورت مسئولہ کے متعلق لڑکی یا لڑکے والوں کو دریافت کرنا چاہیے بالآخر ہمیں کسی کے داخلی معاملات میں کیوں اتنی دلچسپی ہے بیان کردہ صورت حال سے معلوم ہوتا ہے کہ لڑکے نے طلاق نامہ بھیجا ہے اور عدت گزرنے کے بعد رجوع کیا ہے، چونکہ کتاب وسنت کی روسے ایک مجلس میں تین طلاقیں دینے سے ایک طلاق ہوتی ہے، اگرچہ اس طرح طلاق دینا انتہائی قبیح حرکت ہے۔ رسول اللہﷺ نے نہ صرف اس عمل پر اظہار ناراضی فرمایا ہے بلکہ اسے کتاب اللہ کے ساتھ کھیلنا بھی قرار دیا ہے۔ (نسائی،الطلاق:۳۰۳۰)

حدیث میں بیان ہے کہ حضرت رکانہ بن عبد یزید ؓ نے ایک مرتبہ اپنی بیوی کو ایک ہی دفعہ تین طلاق کہ دی تھیں۔ اس کے بعد بہت پریشان ہوئے۔جب رسول اللہ ﷺ کو اس بات کا علم ہوا تو آپ نے اس سے دریافت فرمایاکہ ‘‘ طلاق کیسے دی تھی؟’’ عرض کیا کہ ایک مجلس میں تین طلاق کہہ دی تھیں ۔ آپ نے فرمایا:‘‘یہ تو ایک رجعی طلاق ہے اگر تم چاہو تو رجوع کرسکتے ہو۔’’ چنانچہ اس نے دوبارہ رجوع کرکے اپنا گھر آباد کرلیا۔  (مسند امام احمد،ص:۴۵،ج ۱)

حافظ ابن حجر ؒ کہتے ہیں کہ یہ حدیث طلاق دلانے کے متعلق فیصلہ کن اور صریح نص کی حیثیت رکھتی ہے جس کی اور کوئی تاویل نہیں ہوسکتی ۔ (فتح الباری،ص:۳۶۲، ج ۹)

چونکہ طلاق کے بعد لڑکے کی پیدائش سے عدت ختم ہوچکی تھی، اس لئے رجوع کےلئے نئے نکاح کی ضرورت تھی جو یقیناً ہوا  ہوگا۔ اگر بلاوجہ تجدید نکاح لڑکی کو روانہ کردیا گیا ہے تو جائز نہیں ہوا، ایسی صورت حال کےپیش نظر ان کے درمیان تفریق کرادی جائے۔ تجدید نکاح سے ہی دوبارہ صلح ہوسکتی ہے۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:355

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ