سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(339) خلع کی صورت میں عورت سے حق مہر زیادہ وصول کرنا

  • 12330
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-11
  • مشاہدات : 577

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

خلع کی صورت میں عورت سے حق مہر سے زیادہ مال وصول کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟قرآن و حدیث کی رو سےا س کا جواب درکار ہے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عورت کا اپنے شوہر کو کچھ دے دلا کر اس سے طلاق حاصل کرنا‘‘خلع ’’ کہلاتا ہے ۔ کیا خاوند کو حق مہر سے زیادہ مال وصول کرنے کی اجازت ہے یا نہیں؟ اس کےمتعلق بعض فقہا نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اگر عورت قصوروار ہونے کے باوجود طلاق کا مطالبہ کرتی ہے تو خاوند کو حق  مہر سے زیادہ وصول کرنے کی اجازت ہے ، لیکن محدثین کرام نے فقہا کےاس موقف سے اتفاق نہیں کیا۔ انہوں نے اس بات کو ناپسند کیا ہے کہ جو مال شوہر نے بیوی کو دیا ہے اس سے زیادہ کامطالبہ کیا جائے۔ اگرچہ قرآن کریم سےمعلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ بیوی خاوند کی باہمی رضامندی پر موقوف ہے ، لیکن احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ یہ حکم عام نہیں ہے بلکہ زیادہ دینے یا وصول کرنے سے منع کیا جاتا ہے، چنانچہ حدیث میں ہے کہ جب حضرت ثابت بن قیس انصاری ؓ کی بیوی نے رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنے خاوند سے طلاق لینے کا مطالبہ کیا  تو آپ نے فرمایا:‘‘کیا تو اس کا حق مہر میں دیا ہوا باغ واپس کردے گی؟’’ ثابت بن قیس ؓ کی بیوی نے عرض کیا کیوں نہیں، بلکہ اس سے زیادہ بھی دوں گی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:‘‘زیادہ دینے کی کوئی ضرورت نہیں ، صرف باغ ہی واپس لوٹا دے۔’’  (دار قطنی:۳۳۵/۳)

ایک روایت میں بیان ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ثابت بن قیسؓ کی بیوی کو اس کا باغ واپس کردینے کے متعلق کہاتو خاوند کو حکم دیا کہ اپنا باغ وصول کرلو اور اس سے زیادہ وصول نہ کرو۔  (ابن ماجہ،الطلاق:۲۰۵۶)

اگرچہ بعض روایات میں اس عورت کی طرف سے زیادہ دینے کے الفاظ بھی ملتے ہیں لیکن رسول اللہﷺ نے عورت کی طرف سے  حق مہر سے زیادہ دینے کو برقرار نہیں رکھا۔پھر یہ روایت محدثین کرام کے معیار صحت پر نہیں اترتی۔ا گر صحیح بھی ہو تو زیادہ دینا عورت کیا اپنی صوابدید پر موقوف ہے۔ آدمی کی طرف سے مطالبے کے پیش نظر ایسا نہیں کیا گیا۔ اس بنا پر خاوند کو چاہیے کہ وہ حق مہر سے زیادہ وصول نہ کرے جو اس نے بیوی کو دیا ہے ویسے بھی حق مہر سے زیادہ وصول کرنا اخلاقی اصولوں کے خلاف معلوم ہوتا ہے لیکن عقل سلیم اس کی اجازت نہیں دیتی۔  (واللہ اعلم بالصواب)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:354

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ