سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(336) وضع حمل کے بعد طلاق کی شرعی حیثیت

  • 12327
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-11
  • مشاہدات : 761

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے داماد نے میری بیٹی  کو طلاق دی ، پھر رجوع کرلیا، کچھ عرصہ راضی خوشی رہے، اس دوران بیٹی کو حمل ٹھہرا تو اس نے پھر طلاق دے دی اور وضع حمل سے پہلے رجوع کرلیا وضع حمل کے بعد اس نے تیسری دفعہ طلاق دے دی، اب ہمارے لئے شرعی حکم کیا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بشرط صحت سوال واضح ہو کہ دین اسلام کے بیان کردہ ضابطہ طلاق کے مطابق خاوند کو زندگی بھر تین طلاق دینے کا اختیار ہے، پہلی اور دوسری طلاق کے بعد حق رجوع باقی رہتا ہے جس کی صورت یہ ہے کہ اگر دوران عدت رجوع کرلیا جائے تو نکاح جدید کی ضرور ت نہیں ، لیکن عد ت گزرنے کے بعد نکاح جدید کے بغیر رجوع نہیں ہوسکے گا۔ تیسری طلاق کے بعد حق رجوع ختم ہوجاتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :‘‘پھر اگر شوہر (دودفعہ طلاق دینے کے بعد تیسری )طلاق دیدے تو اس کے بعد جب تک کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرے اس (پہلے خاوند) پر حلال نہ ہوگی۔’’  (۲/البقرہ:۲۳۰)

حدیث کے مطابق آیت مذکورہ میں نکاح سے مراد مباشرت ہے اور یہ بھی واضح رہے کہ یہ نکاح بھی گھر بسانے کی نیت سے  کیا جائے، کوئی سازشی یا مشروط نکاح نہ ہو، جیسا کہ ہمارے ہاں بدنام زمانہ ‘‘حلالہ’’ کیا جاتا ہے ، کیونکہ ایسا کرنا حرام اور باعث لعنت ہے ۔ اس شرعی نکاح کے بعد اگر دوسرا خاوند فوت ہوجائے یا کسی وجہ سے اس عورت کو طلاق ہوجائے تو عدت گزارنے کے بعد وہ پہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے۔

صورت مسئولہ میں خاوند نے اپنی بیوی کو وقتاً فوقتاً تین طلاقیں دیدی ہیں۔ اب عام حالات میں رجوع ممکن نہیں ہے کیونکہ تیسری طلاق کے بعد ہمیشہ کےلئے حرام ہوگئی ہے۔ لڑکی کے باپ کو اس کی اطلاع ہونا ضروری  نہیں۔ کیونکہ طلاق دینا خاوند کا حق ہے جو اس نے استعمال کرلیا ہے۔ عورت کا اسے قبول کرنا یا اس کے باپ کو اس کی اطلاع ہونا وقوع طلاق کےلئے ضروری نہیں ہے۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:352

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ