سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(332) پہلی بیوی کو مطمئن کرنے کے لیے اس کے ہاتھ میں دوسری کا طلاق نامہ دینا

  • 12323
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-11
  • مشاہدات : 546

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

افتخار نامی ایک شخص  نے پہلی بیوی کی موجودگی میں عقد ثانی کا ارادہ کیا دوسری بننے والی بیوی نے پہلی بیوی کو طلاق دینےکی شرط عائد کی ، چنانچہ موصوف نے اسےمطمئن کرنےکے لئے  پہلی بیوی  کے نام طلاق تحریر کرکے دوسری ہونےوالی بیوی  کے حوالے کردی کہ تم اس تحریر کو خود ہی ارسال کردو۔ اس نے تحریر کو اپنے پاس رکھا، اس طرح شادی  ہوگئی، دوسری طرف سے اس نے  پہلی بیوی سے کہہ دیا کہ اگر تجھے میری طرف سے تحریر  ملےتو اسے وصول نہ کرنا یا اسے پھاڑدینا ، اس نکاح جدید کےد وسال  تین ماہ بعد پہلی بیوی کےہاں بچہ پیدا ہوا جو اس کےساتھ رہائش رکھے ہوئے تھی۔ جب دوسری بیوی  کو اس کا علم ہوا تو اس نے طلاق نامہ مع اپنا نکاح نامہ  پہلی  بیوی کوارسال کردیا۔ جب اس کے والدین کو پتہ چلا تو وہ اپنی لڑکی کو افتخار کےگھر سے لے گئے۔ اب اس کا موقف ہے کہ میں نے طلاق نامہ خوشی سے نہیں لکھا تھا بلکہ مجبوری اور دوسری سےنکاح کےلالچ میں تحریر کیا تھا۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ آیا یہ طلاق واقع ہوچکی ہے ، افتخار کا اس دوران پہلی بیوی کےپاس رہنا  درست تھا، کیا پہلی بیوی سےرجوع ہوسکتا ہے یا نہیں؟کیونکہ اس نے تینوں طلاق بیک وقت تحریر کردی تھیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صورت مسئولہ  میں نکاح ثانی کے وقت دین سے ناواقفی کی بنا پر کئی ایک غیر شرعی کام ہوئے ہیں پہلا تو یہ کہ کسی عورت کا پہلی بیوی کو طلاق دینے کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں ہے۔ رسول اللہﷺ نے اس کے متعلق واضح طور پر منع کیا ہے فرمان نبوی ﷺ ہے کہ ‘‘ کوئی عورت نکاح کے وقت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تا کہ اس کے برتن کو انڈیل کر رکھ دے۔ ’’(صحیح بخاری ،الشروط:۲۷۲۳)

دوسری روایت میں ہےکہ  اسے تو وہی کچھ ملے گا جو اس کے مقدر ہے۔ (اس لئے مطالبہ طلاق کے بغیر ہی نکاح کرے) (صحیح بخاری،النکاح:۵۱۵۲)

دوسرا غیر شرعی کام یہ ہے کہ خاوند نے اداکاری کے طور پر طلاق  دی ہے، حالانکہ طلاق کا معاملہ انتہائی نزاکت کا حامل ہے وہ یوں کہ اگر کوئی بطور مذاق اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے تو وہ شرعاً نافذ ہوتی ہے۔ حدیث میں ہے کہ تین کام ایسے ہیں کہ اگر کوئی  سنجیدگی سےکرے یا ازراہ مذاق انہیں سرانجام دے وہ بہرصورت منعقد ہوجاتےہیں وہ نکاح ، طلاق اور رجوع ہے۔(ابوداؤد،الطلاق:۱۳۸۴)

بنا بریں  بیوی کی طلاق صحیح ہے ، اگرچہ اس نے دوسری سے نکاح کےلالچ میں تحریر  کی ہے۔ واضح رہے کہ طلاق کے وقت عورت کا موجود ہونا یا اسے مخاطب کرنا ضروری نہیں بلکہ یہ خالص خاوند کا حق ہے وہ جب بھی اپنے اختیارات کو استعمال کرے گا طلاق واقع ہوجائے گی۔ خواہ عورت طلاق نامہ کو وصول نہ کرے یا وصول کرکےاسے پھاڑ دے، ایسا کرنے سے طلاق پر کرئی اثر نہیں پڑتا، اسی طرح نکاح ثانی بھی صحیح ہے کیونکہ  اس کے لئے پہلی بیوی کی رضامندی ضروری نہیں ہے ، پھر دوسری بیوی کی نکاح کےلئے شرط ناجائز تھی اس کا پورا کرنا بھی ضروری نہیں تھا تاہم خاوند نے اسے پورا کیا ہے۔ طلاق نامہ لکھ کر اس کےحوالے کردیا، اب رہا رجوع کا مسئلہ تو یہ دوطرح سے ہوسکتا ہے۔ خاوند اپنی زبان سے رجو ع کرے یا دوسرا  یہ کہ عملی طورپر وظیفہ زوجیت ادا کرے۔ سوال میں اس بات کی وضاحت نہیں ہے کہ اس نے طلاق کےکتنے عرصے بعد وظیفہ زوجیت ادا کیا ہے جس کے نتیجہ میں بچہ پیدا ہوا، اگر دوران  عدت عملی رجوع ہوا ہے تو ایسا کرنا  اس کاحق تھا۔ اگر عدت گزرنے کے بعد رجوع کیا تو یہ رجوع صحیح نہیں ہے کیونکہ عدت گزرنے کے بعد نکاح ختم ہوجاتا ہے، پھر بیوی اس کےلئے اجنبی عورت بن جاتی ہے۔ واضح رہے کہ ہمارے نزدیک ایک ہی مجلس میں تین طلاق کہنا یا تحریر کرنا اس سے ایک رجعی طلاق ہوتی ہے۔ دوران عدت تجدید نکاح کے بغیر رجوع ہوسکتا ہے جبکہ عدت کے بعد تجدید نکاح ممکن ہے بشرطیکہ یہ پہلا یا دوسرا واقعہ ہو۔  (واللہ اعلم)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:349

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ