سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(329) تنسیخ نکاح کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنا

  • 12320
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-11
  • مشاہدات : 461

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہم نے اپنی بیٹی کے لئے تنسیخ نکاح کا مقدمہ دائر کیا تھا عدالت نے ہمارے حق میں فیصلہ دیدیا ہے اب کیا ہم اپنی بیٹی کا نکاح کسی دوسری جگہ کرسکتے ہیں؟ کتاب وسنت  کے مطابق فتویٰ درکار ہے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شریعت اسلامیہ نے خاوند کو اس بات کا پابند کیا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو نان و نفقہ  اور دیگر ضروریا ت زندگی فراہم کرے اور اگر وہ اس ذمہ داری سےعہدہ برآہونے کی اپنے اندر ہمت نہیں پاتا تو اچھےطریقے سے اسے چھوڑدے ۔ ارشاد باری تعالیٰ  ہے:

‘‘تم معروف طریقہ سے ان عورتوں کو گھروں میں  رکھو یا اچھے طریقہ سے انہیں چھوڑدو’’  (۲/البقرہ:۲۳۱)

بیوی کو تکلیف دینےکی غرض سے گھر میں روکے رکھنا اور اس کی ضروریا ت زندگی فراہم کرنےسے راہ فرار اختیار کرنا کوئی دانشمندانہ اقدام نہیں ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس سے منع کیا ہے۔ فرمان الہٰی ہے :‘‘اور انہیں تکلیف دینے اور ان پر زیادتی کرنے کےلئے مت روکےرکھو۔’’   (۲/البقرہ:۲۳۱)

جب خاوند اپنی بیوی کی جائز ضروریا ت زندگی  کو پورا نہیں کرتا اور نہ ہی اس کےدیگر حقوق ادا کرتا ہے اس پر مزید ظلم بایں طور کرتا ہے کہ اسے اپنی زوجیت سے بھی الگ نہیں کرتا تو ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے عورت کو یہ حق دیا ہے کہ وہ اپنے آپ پر ہونے والے اس ظلم کو دور کرنے کےلئے عدالتی چارہ جوئی کرے۔ شریعت نے بھی بعض معاملات میں عدالت کو یہ اختیاردیا ہے کہ وہ معاملات کی چھان بین کرنےکے بعد تنسیخ  نکاح کی ڈگری جاری کرے۔ صورت مسئولہ میں جب عورت کے سرپرست نے عدالت سے رجوع کیا ہے اور عدالت نے اپنے ذرائع کے مطابق تحقیق کرنے کےبعد عورت کےحق میں تنسیخ نکاح کا فیصلہ دے دیا ہے تو اب عورت کو حق ہے کہ عدت گزارنے کے بعد وہ اپنی زندگی کے باقی ماندہ ایام باعزت طورپر گزارنے کے لئے نکاح ثانی  کرسکتی ہے اور اس کے لئے شرعاً کوئی امر مانع نہیں ہے۔ (واللہ اعلم)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:346

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ