سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(328) طلاق کے بعد رجوع کی مدت

  • 12319
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-11
  • مشاہدات : 376

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص نے تحریری  طورپر اپنی بیوی کو طلاق دی جو اس نے وصول کرلی تقریباً دو ماہ کے اندر اندر مذکورہ شخص رجوع کے ارادہ سے اپنے ایک رشتہ دار کے ہمراہ سسرال کے شہر گیا لیکن لڑائی جھگڑے کےخدشہ کے پیش نظر سسرال کے ہاں خود جانے کے بجائے اپنے رشتہ دار کو برائے مصالحت بھیج دیا اس وقت مصالحت نہ ہوسکی، اب تقریباً چار سال بعد ہماری بیوی صلح پر آمادہ ہے اور ایک ساتھ رہنے کے لئے تیارہیں۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ شخص کو رجوع کا فائدہ پہنچتا ہے یا انہیں دوبارہ نکاح کرنے کی ضرورت ہے؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص نے تحریری  طورپر اپنی بیوی کو طلاق دی جو اس نے وصول کرلی تقریباً دو ماہ کے اندر اندر مذکورہ شخص رجوع کے ارادہ سے اپنے ایک رشتہ دار کے ہمراہ سسرال کے شہر گیا لیکن لڑائی جھگڑے کےخدشہ کے پیش نظر سسرال کے ہاں خود جانے کے بجائے اپنے رشتہ دار کو برائے مصالحت بھیج دیا اس وقت مصالحت نہ ہوسکی، اب تقریباً چار سال بعد ہماری بیوی صلح پر آمادہ ہے اور ایک ساتھ رہنے کے لئے تیارہیں۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ شخص کو رجوع کا فائدہ پہنچتا ہے یا انہیں دوبارہ نکاح کرنے کی ضرورت ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہمارے ہاں رجوع کے متعلق چند غلط فہمیاں ہیں، اس لئے پہلے رجوع کی حیثیت سمجھنا ضروری ہے ، اس کے متعلق چند بنیادی باتیں حسب ذیل ہیں:

(۱)طلاق، رجوع دونوں خاوند کا حق ہیں سسرال یا بیوی کا قبول کرنا یا اس پر اپنی رضامندی کا اظہار کرنا ضروری نہیں ہے۔

(۲)رجعی طلاق دینےکی صورت میں اگر دوران عدت رجوع کا پروگرام بن جائے تو سابقہ نکاح برقرار ہے ۔ تجدید نکاح کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے۔

(۳)اگر عدت گزارنےکےبعد رجوع کا خیال آیا تو اب تجدید نکاح سے رجوع ہوسکے گا کیونکہ پہلا نکاح ختم ہوچکا ہے۔ اس صورت میں سرپرست کی اجازت ، بیوی کی رضامندی ضروری ہے حق مہر اور گواہوں کا بھی ازسرنو اہتمام کرنا ہوگا۔

(۴)رجو ع گفتگو سے بھی ہوسکتا ہے اور وظیفہ زوجیت ادا کرنے سے بھی ، خلوت صحیحہ کا میسر آنا بھی اس کا حکم ہے۔ بشرطیکہ رجوع کی نیت ہو۔

صورت مسئولہ میں اگر خاوند نے اپنے رشتہ دار کے سامنے رجوع کا زبانی اظہار کیا ہے اور اپنے سسرال کے ہاں یہ کہہ کربھیجا ہے کہ میں نے رجوع کرلیا ہے اس بنا پر میرے ساتھ صلح کی جائے تو اس صورت میں اس کا رجوع صحیح ہے، چونکہ یہ تحریک دوران عدت ہی چلائی گئی تھی ، لہٰذا نئے نکاح  کی ضرورت نہیں ہے اگر اس کےبرعکس اس نے زبانی طور پر اپنے رشتہ دار کے سامنے رجوع کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی اس نے  سسرال بھیجتے وقت اسے یہ ہدایت دی ہے تو اس صورت میں رجوع نہیں ہوگا۔ اب چونکہ عدت گزرنے کےبعد فریقین صلح پر آمادہ ہوئے ہیں ، لہٰذا مؤخر الذکر صورت میں انہیں تجدید نکاح کرنا ہوگا، البتہ اول الذکر صورت میں پہلا نکاح کافی ہے۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:346

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ