سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(327) حاملہ عورت کو طلاق دینا

  • 12318
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-11
  • مشاہدات : 1617

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرا بیوی سے جھگڑا ہوگیا ہے جبکہ وہ چار ماہ کی حاملہ تھی میں اسے میکے چھوڑ کر آیا ، پھر اس کی غیر موجودگی میں تین بار طلاق ،طلاق، طلاق کہہ دیا ۔ میری بیوی نے یہ الفاظ نہیں سنے ، اس کےلئے عموماً یہ الفاظ استعمال کرتا رہا کہ میں نے اسے فارغ کردیا ہے بعد ازاں اس نے ایک بچے کو جنم دیا  حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ ہمیں صلح کرنا پڑی ۔ کتاب و سنت کی روشنی میں اب مجھے کیا کرنا چاہیے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اپنی بیوی کو طلاق دینے کا یہ طریقہ کار انتہائی  غلط اورخلاف شرع ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایسے انسان پر اظہار ناراضی فرمایا ہے، البتہ احناف کے نزدیک اس انداز سے دی ہوئی ایک مجلس  کی تین طلاق تینوں ہی نافذ ہو جاتی ہیں اور طلاق دہندہ کی بیوی ہمیشہ کےلئے اس پر حرام ہوجاتی ہے جبکہ قرآن و حدیث کے مطابق اس انداز سے دی ہوئی تین طلاق صرف ایک رجعی واقعی ہوتی ہے۔ صورت مسئولہ  میں طلاق کےوقت بیوی حاملہ تھی اور حاملہ کی عدت وضع حمل ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے:‘‘حمل والی عورتوں کی عدت وضع حمل ہے۔’’  (۶۵/الطلاق:۴)

لہٰذا مذکور ہ عورت کی عدت وضح حمل  کے بعد ختم ہوچکی ہے اب اگر بیوی اپنے سابقہ خاوند کے ہاں آنا چاہے تو نکاح جدیدہوگا کیونکہ عدت ختم ہوتےہی نکاح بھی ختم ہوچکا ہے۔ تجدید نکاح کے بغیر رجوع کا موقع ہاتھ سے نکل چکا ہے اگر صلح نئے نکاح سے ہوتی  ہے تو ٹھیک بصورت دیگر ابھی سےنیا نکاح کرلیا جائے اور نئے نکاح کےبغیر صلح کرنے کی غلطی پر اظہار ندامت کرتےہوئے اللہ تعالی ٰسے معافی مانگی جائے اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کےلئے مساکین کو صدقہ و خیرات بھی دیا جائے۔ آخر میں ہم یہ کہنا اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ خانگی معاملا ت میں جذبات میں آکرفیصلے نہ کئے جائیں بلکہ نہایت سنجیدگی اور ذہانت سے ایسے نازک معاملات کو نبٹایا جائے اور شریعت کا دامن کسی وقت بھی ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہیے۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:345

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ