سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(318) طلاق کے لیے اور لفظ استعمال کرنا

  • 12309
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-11
  • مشاہدات : 363

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں نے اپنی بیوی کو کسی  معاملہ پر جھگڑتے وقت  کہا:اگر تم نے میرا کہنا نہیں ماننا تو جاؤ ، پھر میں نے تڑاق کا لفظ کہہ دیا  میری بیوی اور اس کی دونوں بہنوں نے کہا تم نے لفظ طلاق بولا ہے۔ بہرصورت ہم بیوی خاوند اس واقعہ  کے دوسرے دن سے ہی خوشگوار زندگی بسر کررہے ہیں۔ ہمیں کسی نے کہا کہ ایسا کہنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں بتایا جائے کہ کیا واقعی ایسا کہنے سے طلاق ہوجاتی ہے؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں نے اپنی بیوی کو کسی  معاملہ پر جھگڑتے وقت  کہا:اگر تم نے میرا کہنا نہیں ماننا تو جاؤ ، پھر میں نے تڑاق کا لفظ کہہ دیا  میری بیوی اور اس کی دونوں بہنوں نے کہا تم نے لفظ طلاق بولا ہے۔ بہرصورت ہم بیوی خاوند اس واقعہ  کے دوسرے دن سے ہی خوشگوار زندگی بسر کررہے ہیں۔ ہمیں کسی نے کہا کہ ایسا کہنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں بتایا جائے کہ کیا واقعی ایسا کہنے سے طلاق ہوجاتی ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

لفظ تڑاق کسی چیز کو توڑتے وقت جو آواز پیدا ہوتی ہے اس کےلئے استعمال ہوتا ہے اور یہ لفظ طلاق کےلئے صریح نہیں ہے۔ اگر خاوند نے اپنی بیوی کو محض ڈرانے دھمکانے کےلئے یہ لفظ استعمال کیا ہے تو سرے سے طلاق واقع نہیں  ہوئی  اور  اگر طلاق دینے کی نیت سے کہاتو ایسا کہنے سے رجعی طلاق ہوجاتی ہے، اس طلاق کا حکم یہ ہے کہ عدت کے اندر اندر تجدید نکاح کے بغیر رجوع ہوسکتا ہے۔ صورت مسئولہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خاوند نے وقوعہ کے اگلے دن ہی بیوی سے رجو ع کرلیا جو درست اور جائز ہے ، اب انہیں بیوی خاوند کی طور پر رہنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے ، البتہ ہم اتنی وضاحت کردینا ضروری خیال کرتے ہیں کہ بیوی کو ڈرانے دھمکانے کےلئے ایسا مبہم لفظ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ جو باعث نزاع اور موجب اشتباہ ہو۔ مذکورہ صورت میں بیوی اور اس کی دونوں بہنوں  نے اسے طلاق ہی سمجھا، تاہم خاوند کی وضاحت سے یہ اشتباہ دور ہوگیا۔ لیکن ایسا کرنا درست نہیں  ہے۔ بہرحال طلاق کا معاملہ بہت نازک ہے خاوند کو  چاہیے کہ وہ اپنے اس حق کو استعمال کرتے وقت خوب سوچ و بچار کرے ڈرانے دھمکانے کے لئے کوئی اور طریقہ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے۔اب بیوی خاوند کو چاہیے کہ آیندہ حزم اور احتیاط اور خوش اسلوبی سے زندگی بسر کریں اور ایسی باتوں سے اجتناب کریں جو نزاع کا باعث ہوں۔  (واللہ اعلم)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:331

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ