سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(317) پہلی طلاق کے چار سال بعد رجوع کرنا

  • 12308
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-11
  • مشاہدات : 444

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے ایک دوست نے اپنی بیوی کو ایک سال چار ماہ قبل کاغذ پر تین بار طلاق لکھ کر بھیج دی، اس کے بعد تحریر ی یا زبانی کو ئی طلاق نہیں دی اب وہ رجوع کرنا چاہتا ہے، کتا ب وسنت کے حوالے سے راہنمائی فرمائیں؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے ایک دوست نے اپنی بیوی کو ایک سال چار ماہ قبل کاغذ پر تین بار طلاق لکھ کر بھیج دی، اس کے بعد تحریر ی یا زبانی کو ئی طلاق نہیں دی اب وہ رجوع کرنا چاہتا ہے، کتا ب وسنت کے حوالے سے راہنمائی فرمائیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہمارے ہاں آج کل علم و عمل کے اعتبار سے دینی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ صبر و تحمل کے بجائے  غصہ و اشتعال کادور دورہ ہے۔ ذہنی پریشانیاں اس پر مستزاد ہیں۔ معمولی معمولی رنجش کی وجہ سے اپنی بیوی کو طلاق دے دینا عام معمول بن چکا ہے۔ دین سے ناواقفیت کی بنا پر اکٹھی تین طلاقیں دے دی جاتی ہیں، پھر جب غصہ دور ہوتا ہے اور جذبات ٹھنڈے پڑجاتے ہیں تو مسئلہ پوچھنے کی ضرورت پیش آتی ہے ، حالانکہ بیک وقت تین طلاق دینا  شریعت میں انتہائی ناپسندیدہ فعل ہے۔ چنانچہ رسو ل اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں ایک شخص نے اپنی بیوی کو بیک وقت تین طلاق دے ڈالیں تو رسول اللہﷺ نے انتہائی ناراضی کےعالم میں فرمایا: ‘‘ تم نے میرے موجودگی میں کتاب اللہ کے ساتھ کھیلنا شروع کردیا ہے۔’’ رسول اللہ ﷺ کی اس خفگی کو دیکھ کر ایک جاں نثار نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! اگر آپ مجھے اجازت دیں تو  مین اسے قتل نہ کردوں۔  (نسائی،الطلاق:۳۴۳۱)

تاہم اس انداز سے طلاق دینے میں ایک رجعی طلاق ہوتی ہے، جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے دور خلافت  اور عمرؓ کے ابتدائی عہد حکومت میں ایک مجلس کی تین طلاق کو ایک ہی شمار کیا جاتا تھا، پھر حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ ‘‘ جس کام میں لوگوں کو غوروفکر کرنے کی مہلت دی گئی تھی اس میں انہوں نے جلد بازی سے کام لینا شروع کردیا ہے، اس بنا پر ان تینوں کو نافذ کردینا چاہیے، چنانچہ انہوں نے تینوں کو جاری کردیا ۔’’(صحیح مسلم، الطلاق:۳۶۷۴)

حافظ ابن قیمؒ نے علامہ اسماعیلی ؒ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ حضرت عمر ؓ کا یہ  اجتہادی اقدام مصالح امت کے لئے تھا، تاہم حضرت عمرؓ نے اپنی عمر کے آخر حصہ میں اس پر افسوس و ندامت کا اظہار کیا اور خواہش فرمائی کہ کاش! میں اس طریقہ سے طلاق دینے کو حرام ٹھہر ا دیتا۔  (اغاثۃ اللہفان، ص:۳۰۲،ج ۱)

رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں بیک وقت تین طلاق دینے کو ایک رجعی شمار کیا جاتا تھا ، جیسا کہ حضرت رکانہ ؓ نے اپنی بیوی کو ایک ہی سانس میں تین طلاقیں دیدیں ، پھر انہیں بہت غم اور افسوس لاحق ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا کہ تو نے کس طرح طلاق دی تھی عرض کیا کہ میں نے ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے ڈالی ہیں آپ نے فرمایا  کہ ‘‘ یہ تو ایک طلاق ہے اگر چاہو تو بیوی سے رجو کرکے اپنا گھر آباد کرلو۔’’ چنانچہ اس نےا پنی بیوی سے رجوع کرلیا۔ (مسند امام احمد،ص:۲۶۵،ج ۱)

 اس حدیث کے متعلق حافظ ابن حجرؒ لکھتے ہیں کہ مسئلہ طلاق ثلاثہ کے متعلق یہ حدیث نص صریح کی طرح ایک فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے جس کی اور کوئی تاویل نہیں کی جاسکتی ۔ (فتح الباری ،ص:۳۶۲،ج ۹)

ان دلائل کی بنا پر ایک مجلس میں دی ہوئی تین طلاق ایک رجعی ہوتی ہے۔ چنانچہ امام ابن تیمیہ ؒ لکھتے ہیں:‘‘ہم نہیں جانتے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں کسی شخص نے ایک ہی وقت ، ایک ہی سانس سے تین طلاقیں دیدی ہوں تو آ پ نے انہیں نافذ کردیا ہو۔’’  (فتاویٰ ابن تیمیہ ،ص:۱۲،ج ۳۳)

طلاق رجعی کے بعد خاوند کو رجوع کرنے کاحق ہے ، پھر اس رجوع کی دوصورتیں ہیں:

(۱)دوران عدت کےتجدید نکاح کے بغیر ہی رجوع کیا جاسکتا ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:‘‘ اگر ان کے خاوند اس مدت میں آبادی کی نیت سے دوبارہ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ ہوں  تو وہ انہیں زوجیت میں واپس لینے کے زیادہ حق دار ہیں۔’’(۲/البقرہ:۲۲۸)

واضح رہے کہ یہ رجوع پہلی یا دوسری طلاق کے ساتھ مشروط ہے۔ تیسری طلاق کے بعدحق ختم ہوجائے گا۔

(۲)عدت گزر جانے کے بعد تجدید نکاح سے رجوع ممکن ہے ، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :‘‘اور جب عورتوں کو طلاقدے دو اور ان کی عدت پوری ہونے کو آجائے تو انہیں اپنے پہلے خاوندوں سے نکاح کرنے سے نہ روکو جبکہ وہ معروف طریقہ سے آپس میں نکاح کرنے پر راضی ہوں۔’’  (۲/البقرہ:۲۳۲)

لیکن اس تجدید نکاح کےلئے چار چیزوں کا ہونا ضروری ہے ، انہیں پورا کئے بغیر نکاح نہیں ہوگا۔

(۱)ازسر نو حق مہر کی تعیین۔                                                                   (۲)گواہوں کی موجودگی ۔

(۳)سرپرست کی اجازت۔                                         (۴)عورت کی رضامندی۔

صورت مسئولہ میں تین طلاق اکٹھی تحریر کی گئی ہیں۔ کتاب و سنت کے مطابق یہ ایک رجعی طلاق ہے لیکن اس تحریری طلاق پر ایک سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے،ا س لئے اب تجدید نکاح  سے دوبارہ  گھر آباد کیا جاسکتا ہے اور یہ نکاح اسی طلاق دہندہ سے ہوگا کسی قسم کے بدنام زمانہ حلالہ وغیرہ کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ایسا کرنا بے شرمی اور بے حیائی ہے۔

واضح رہے کہ ایک مجلس کی  تین طلاق  کا ایک رجعی طلاق کا ہونا اس شخص کے لئے ہے جو کتا ب وسنت پر عمل کو ہی اپنے لئے ذریعہ نجات خیال کرتا ہو لیکن اگر صرف مطلب  برآری کےلئے ایسا کرنا چاہتا ہے تو یقیناً یہ سہولت اس کےلئے سود مند نہیں ہوگی کیونکہ یہ دنیوی مارکیٹ نہیں ہے کہ جہاں سودا سلف سستا ملے وہاں سے لے لے، دین کے لئے ایسی حیلہ گری کامیاب نہیں ہوسکتی، اس لئے طلاق دہندہ کو چاہیے کہ وہ کتاب و سنت پر عمل کرنے کا عزم کرتے ہوئے اپنی بیوی سے مذکورہ شرائط کے ساتھ دوبارہ نکاح کرلے۔  (واللہ اعلم)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:330

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ