سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(319) متعدد دفعہ طلاق دینا

  • 12304
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-10
  • مشاہدات : 365

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میرے خاوند نے مجھے متعدد مرتبہ طلاق دی، پھر برادری کے دباؤ پر صلح کرتے رہے، میری یادداشت کےمطابق کم از کم دس مرتبہ ایسا ہوچکا ہے۔ اب اس نے پھر مجھے طلاق دے دی ہے برادری میرے والد کو صلح پر مجبور کررہی ہے جبکہ مجھے علم ہوا کہ اب ایسا کرنا گناہ کی زندگی گزارنے کے مترادف ہے ، اس سلسلہ میں راہنمائی فرمائیں؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے خاوند نے مجھے متعدد مرتبہ طلاق دی، پھر برادری کے دباؤ پر صلح کرتے رہے، میری یادداشت کےمطابق کم از کم دس مرتبہ ایسا ہوچکا ہے۔ اب اس نے پھر مجھے طلاق دے دی ہے برادری میرے والد کو صلح پر مجبور کررہی ہے جبکہ مجھے علم ہوا کہ اب ایسا کرنا گناہ کی زندگی گزارنے کے مترادف ہے ، اس سلسلہ میں راہنمائی فرمائیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہمارے اس ترقی یافتہ دور میں جہالت کی انتہا ہے کہ ہمیں روزمرہ کےدینی مسائل کا علم نہیں ہے۔ قرآن کریم کے مطابق  خاوند کو زندگی میں صرف تین طلاقیں دینے کا اختیار ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:‘‘ طلاق (رجعی) دوبار ہے، پھر یا تو سیدھی طرح سے اسے اپنے پاس رکھا جائے یا بھلے طریقہ سے اسے رخصت کردیا جائے۔’’ (۲/البقرہ:۲۲۸)

دور جاہلیت میں مرد کو لاتعداد طلاق دینے کاحق تھا مرد جب بگڑ جاتا تو  اپنی بیوی کو طلاق دےدیتا ، پھر دوران عدت رجوع کرلیتا اس طرح لامتناہی سلسلہ جاری رہتا ، نہ اسے اچھی طرح اپنے پاس رکھتا اور نہ ہی اسے آزاد کرتا کہ وہ کسی دوسرے سے نکاح کرسکے، آیت کریمہ میں اس معاشرتی برائی کا سد باب کیا گیا ہے اور مرد کو صرف دوبار طلاق دینے اور اس سے رجوع کرنے کا حق دیاگیا ہے تیسری طلاق کے بعد بیوی ہمیشہ کےلئے خاوند پر حرام ہوجاتی ہے اور عام حالات میں رجو ع کرنے کا کائی اختیار نہیں رہتا۔ صورت مسئولہ میں بیوی ، خاوند اس کے والدین اور پوری برادری جہالت  کا شکار ہے۔ اب بیوی کسی صورت میں خاوند کے لئے حلال نہیں ہے اگر برادری کے دباؤ پر پہلے کی طرح ‘‘رجوع ’’ کیا تو واقعی یہ گناہ کی زندگی گزارنے کے مترادف ہے۔ (واللہ اعلم)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص328

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ

ABC