سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(308) غصہ کی طلاق کا شریعت میں حکم

  • 12299
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-10
  • مشاہدات : 685

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص نے شدید غصہ کی حالت میں اپنی بیوی کو کئی بار طلاق کے لفظ کہے  لیکن غصہ کی بنا پر اسے پتہ نہیں رہا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں، البتہ ایسے شواہد ملتے ہیں کہ اس نے کہا‘‘میں اپنی منکوحہ کو طلاق دیتا ہوں اور کچھ شواہد اس بات پر ہیں کہ اس نے یوں کہا: میرے گھر سے نکل جا، بصورت دیگر میں طلاق دے دوں گا، بہرحال غصہ اس قدر شدیدتھا کہ خاوند کوہوش نہ رہا کہامیں کیا کہہ رہا ہوں اور کیا کر رہاہوں، برائے مہربانی ہماری اس الجھن کو دور کردیں؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص نے شدید غصہ کی حالت میں اپنی بیوی کو کئی بار طلاق کے لفظ کہے  لیکن غصہ کی بنا پر اسے پتہ نہیں رہا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں، البتہ ایسے شواہد ملتے ہیں کہ اس نے کہا‘‘میں اپنی منکوحہ کو طلاق دیتا ہوں اور کچھ شواہد اس بات پر ہیں کہ اس نے یوں کہا: میرے گھر سے نکل جا، بصورت دیگر میں طلاق دے دوں گا، بہرحال غصہ اس قدر شدیدتھا کہ خاوند کوہوش نہ رہا کہامیں کیا کہہ رہا ہوں اور کیا کر رہاہوں، برائے مہربانی ہماری اس الجھن کو دور کردیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حالت غصہ میں دی ہوئی طلاق کے واقع ہونے یا نہ ہونے کے متعلق علمائے امت کا اختلاف ہے بعض کا خیال ہے کہ غصہ میں دی ہوئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ کیونکہ حدیث میں ہے کہ  بحالت اغلاق نہ طلاق ہوئی ہے اور نہ ہی غلام کو آزادی ملتی ہے۔(ابوداؤد،الطلاق:۲۱۹۳)

اس حدیث میں آمد لفظ ‘‘اغلاق’’ کا معنی امام احمد بن حنبل ؒ سے غضب منقول ہے۔ یعنی بحالت غصہ طلاق دینا اور غلام کو آزاد کرنا شرعاً کوئی حیثیت نہیں رکھتا ۔ امام ابوداؤد ؒ نے اغلاق کا یہی معنی کیا ہے فرماتے ہیں ‘‘ الاغلاق اظنہ فی الغضب’’ابو داؤد کے بعض نسخوں میں بایں الفاظ عنوان قائم کیا گیا ہے:‘‘باب الطلاق علی غضب’’یعنی ‘‘ بحالت غصہ طلاق دینے کا بیان۔’’ ان حضرات کے نزدیک غصہ کی حالت میں دی ہوئی طلاق نافذ نہیں ہوتی ۔ جبکہ بعض دوسرے علمائے کرام کے ہاں بحالت غصہ دی ہوئی طلاق نافذ  ہوجاتی ہے۔ ان کا موقف یہ ہے کہ رضا و رغبت اور خوشی سے کوئی بھی طلاق نہیں دیتا  بلکہ حالات خراب ہونے پر غصہ کی حالت میں ہی طلاق دی جاتی ہے ۔ اگر غصہ کی حالت میں دی ہوئی طلاق کا اعتبار نہ کیا جائے تو  کوئی بھی طلاق مؤثر نہیں ہوسکتی ۔ کیونکہ ہمیشہ طلاق غصہ میں ہی دی جاتی ہے۔ امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیمؒ نے اس موضوع پر ذرا تفصیل سے گفتگو ہے فرماتے ہیں کہ غصہ کی تین حالتیں ہوتی ہیں:

(۱)ابتدائی حالت: یہ وہ حالت ہے جس میں  غصہ تو ہوتا ہے لیکن انسان کے ہوش وحواس قائم رہتے ہیں، اس حالت میں دی ہوئی طلاق بااتفاق ہوجاتی ہے۔

(۲)انتہائی حالت: یہ وہ حالت ہےجس میں شدید غصہ کی وجہ سے انسان کی ہوش و حواس قائم نہیں رہتے۔ اسے کوئی علم نہیں ہوتا کہ میں کیا کہہ رہاہوں یا کیا کررہاہوں۔ اس حالت میں دی ہوئی طلاق بالاتفاق نہیں ہوتی کیونکہ یہ ایک جنونی کیفیت ہے اور دیوانگی کی ایک صورت ہے اور مجنون اور دیوانہ مرفوع القلم ہے ، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ ‘‘تین آدمیوں سے قلم اٹھالیا گیا ہے، ان میں سے ایک مجنون بھی ہے۔’’  (مسند امام احمد:۱۰۲/۶)

(۳)درمیانی حالت : یہ وہ حالت ہے کہ غصہ کی وجہ سے عقل بالکل تو زائل نہیں ہوتی ، تاہم یہ غصہ اس کی قوت فکر پر اس حد تک اثر انداز ضرور ہوتا ہےکہ اس دوران کی ہوئی کوتاہی پر بعد میں نادم ہوتاہے۔  (زادلمعاد، فصل طلاق فی الاغلاق)

آخری صورت محل اختلاف ہے۔ امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم ؒ و دیگر حنابلہ کے نزدیک اس درمیانی حالت میں دی ہوئی طلاق بھی واقع نہیں ہوتی۔ ان کی دلیل مذکورہ بالا حدیث میں ہے، جبکہ دوسرے اس درمیانی حالت میں دی ہوئی طلاق کو نافذ خیال کرتے ہیں۔ ہمارے نزدیک موخرالذکر علماکا موقف ہی صحیح ہے۔ کیونکہ طلاق عموماً غصہ میں دی جاتی ہے اور درمیانی حالت میں غصہ دیوانگی کی حد تک نہیں پہنچتا ۔ اس حالت میں طلاق دہندہ کو مرفوع القلم قرار دیا جائے۔ لہٰذا اگر غیظ و غضب اس حد تک پہنچ جائے جو انتہائی حالت میں بیان ہوا ہے کہ انسا ن اپنے آپ سے باہر ہوجائے اور اس کے ہوش و حواس بالکل قائم نہ رہ سکیں۔ یہاں تک اسے یہ بھی معلوم نہ ہو کہ میرے منہ سے کیا نکلا ہے اور اس کا انجام کیا ہوگا۔ تو ایسی حالت میں طلاق واقع نہیں نہیں ہوگی۔ مگر غصے کی یہ انتہائی حالت شاذونادر ہی ہوتی ہے اور ایسا بہت کم ہوتاہے۔

اس تفصیل کے پیش نظر جب صورت مسئولہ کے ظاہری الفاظ کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ طلاق دہندہ طلاق دیتے وقت انتہائی غصے کی حالت میں تھا۔ اس حالت میں دی ہوئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ لیکن آیا وہ حقیقتاً ایسا ہی تھا تو یہ طلاق دینے والا ہی بہتر جانتا ہے ۔ لہٰذا اسے خود سوچنا چاہیے کہ میں طلاق دیتے وقت کس حالت میں تھا۔ حقیقت  حال کے خلاف الفاظ تحریر کرکے فتویٰ لے لینے سے حرام شدہ چیز حلال نہیں ہوگی۔ حلال وحرام کے معاملہ میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔ اگر واقعی طلاق دہندہ نے غصے کی انتہائی حالت میں طلاق دی ہے اس کے ہوش و حواس قائم نہیں  تھے تو  اس صورت میں سرے سے طلاق واقع نہیں  ہوگی اور اگر غصہ کی ابتدائی یا درمیانی حالت ہے تو طلاق واقع ہوجائے گی۔ بالخصوص  جبکہ وہ کئی بار ایسا کرچکا ہے ، جیسا کہ سوال میں ذکر ہے تو وہ اپنی بیوی سے ہمیشہ  کےلئے ہاتھ دھوبیٹھا ہے۔ بشرطیکہ طلاق دینے کا معاملہ مختلف مواقع میں پیش آیا ہو۔ اب عام حالت میں صلح کی کوئی صورت نہیں ہے اور اگر ایک ہی مجلس میں ایسا ہوا ہے تو ایک طلاق ہوگی  اور عدت کے اندر اندر رجوع ہوسکے گا اگر دو دفعہ ایسا ہوا تو بھی رجوع کا حق باقی ہے۔ لیکن تیسری دفعہ ایسا کرنے سے رجوع کا حق ختم ہوجاتا ہے۔  (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:324

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ