سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(291) نشے کی حالت میں طلاق دینا

  • 12282
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-10
  • مشاہدات : 1969

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک آدمی نے شراب کے نشہ میں مدہوش اپنی بیوی کو طلاق دے دی، جب اسے ہوش آیا تو اسے بتا یا گیا کہ تونے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے تو اس نے سراسر انکار کردیا کہ مجھے اس کاعلم نہیں۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ نشہ اور بیماری کی مدہوشی میں طلاق ہوجاتی ہے؟ کتاب و سنت کی روشنی میں اس کی وضاحت فرمائیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

طلاق کے لئے ضروری ہے کہ خاوند طلاق دیتے وقت خودمختار، مکلف اور کامل ہوش و حواس میں ہو، حضر ت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ‘‘طلاق اور آزادی اغلاق میں نہیں ہوتی۔’’  (ابوداؤد،الطلاق:۲۱۹۳)

محدثین نے اغلاق کے دو مفہوم بیان کئے ہیں:

(۱)زبردستی لی جانے والی طلاق واقع نہیں ہوتی۔

(۲)شدید غصے او ر سخت نشہ میں جب انسان کی عقل پر پر دہ پڑھ جائے تو ایسی صورت میں دی ہوئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔

حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حالت نشہ میں موجود انسان اور مجبور شخص کی طلاق جائز نہیں ہے  ایسی طلاق واقع نہیں ہوتی۔(صحیح بخاری ،الطلاق:۱۰)

امام بخاری  ؒنے حضرت عثمان ؓ سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا:‘‘پاگل اور بحالت نشہ کی طلاق نہیں ہے۔’’ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے پاس ایک ایسا آدمی لایا گیا جس نے نشہ کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دی تھی۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ اسے شراب کی حد لگائی جائے اور اس کی بیوی کو الگ کردیا جائے ، ان سے حضرت ابان بن عثمان نے بیان کیا ہے کہ حضرت عثمانؓ کے نزدیک  جنون اور نشہ کی حالت میں دی ہوئی طلاق واقع نہیں ہوتی ۔ اس کے بعد آپ نے صرف حد لگائی لیکن اس کی بیوی کو اس سے الگ نہ کیا کیونکہ اس حالت میں دی ہوئی طلاق واقع نہیں ہوتی ہے۔   (بیہقی،ص:۳۵۹،ج۷)

ہمارے نزدیک نشہ کی حالت میں عقل ماؤف ہونے کے اعتبار سے دیوانگی کی ہی ایک قسم ہے ۔ جنون کے متعلق رسول اللہﷺ نے فرمایا:‘‘ تین آدمی مرفوع القلم ہیں۔ ایک سونے والا حتی کہ بیدار ہوجائے، دوسرا بچہ حتی کہ وہ بالغ ہوجائے اور تیسرا پاگل حتیٰ کہ عقل مند ہوجائے۔’’  (نسائی، الطلاق:۳۴۳۲)

اس بنا پر نشہ کی حالت میں دی ہوئی طلاق واقع نہیں ہوتی لیکن اس بات کا بغور جائزہ لینا ہوگا کہ نشے کی حالت میں جب طلاق دی گئی تھی تو اس وقت نشہ ابتدائی مرحلہ میں تھا یا پورے عروج پر تھا۔ اگر ابتدائی مرحلہ ہے کہ نشہ کرنے والا کا عقل و شعور پوری طرح ختم نہیں ہوا بلکہ اسے طلاق دینے کا علم تھا تو ایسی حالت میں  طلاق واقع ہوجائے گی اور اگر نشہ کرنے والا ایسی حالت میں ہے کہ اسے عقل و شعور نہیں بلکہ اسے طلاق دینے  کا قطعاً علم نہیں تو ایسی حالت میں طلاق واقع نہیں ہوگی کیونکہ طلاق دہندہ کی عقل ماؤف ہوچکی ہے جبکہ طلاق کے مؤثر ہونے کے لئے بقائم ہوش وحواس ہونا ضروری ہے۔  (واللہ اعلم)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:306

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ