سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(290) گھر سے بھاگ کر نکاح کرنا والدین کی اجازت سے

  • 12281
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-10
  • مشاہدات : 1216

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک لڑکی اپنے گھر سے بھاگ کر اپنے آشنا کے پاس آگئی اور اس سے شادی کا ارادہ ظاہر کیا ، آشنا نے لڑکی کے والدین سے فون پر رابطہ کرکے اس سے شادی کی اجازت طلب کی تو انہوں نے یہ کہہ کر فون بندکردیا کہ وہ گھر سے بھاگ کرگئی ہے اور آپ سے شادی کرناچاہتی ہے، اس لئے ہماری طرف سے اجازت ہی ہے لیکن ہماری طرف سے کوئی بھی شادی میں شریک نہیں ہوگا، آشنا نے اپنے دوستوں کو گواہ بنا کر عدالتی نکاح کرلیا ، چند سال بعد لڑکی کے والدین سے صلح ہوگئی ۔ اس نکاح کو تقریباً 15 سال ہوگئے ہیں چار بچے بھی ہیں۔ اس نکاح کی شرعی حیثیت سے ہمیں آگاہ کریں کہ صلح کے بعد انہیں دوبارہ نکاح کرنا چاہیے تھا یا پہلا نکاح ہی کافی تھا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہمارے معاشرے کا یہ المیہ ہے کہ ہم ایک کام کو اپنے ہاتھوں خراب کردیتے ہیں، پھر اس خرابی کو موجود رکھتے ہوٗئے اس کا کوئی شرعی حل تلاش کرتےہیں۔ صورت مسئولہ میں ایسا ہی معاملہ درپیش ہے کہ لڑکی خود گھر سے بھاگ کر آٗئی ہے او راپنے آشنا سے شادی کرنے کا اظہار کرتی ہے۔ آشنا کو بھی علم ہے کہ والد کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے فوراً لڑکی کے والد سے نکاح کی اجازت لینے کے لئے رابطہ کیا ۔ لڑکی والوں نے جو جواب دیا ہے اس سے ان کی اجازت کو کشید نہیں کیا جاسکتا ، بلکہ انہوں نے اپنی غیر ت کا اظہار کیا ہے کہ جب ہماری لڑکی گھر سے بھاگ گئی ہے تو ہماری عزت تو اس وقت پامال ہوچکی ہے، اب ہم اجازت دیں یا نہ دیں اس سے معاملہ کی سنگینی میں کوئی فرق نہیں پڑے گا، اس لئے ‘‘ہماری طرف سے اجازت ہی اجازت ہے۔’’ کے الفاظ کو حقیقی اجازت پر محمول نہیں  کیا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے برملا کہا کہ ہماری طرف سے اس ‘‘ شادی’’ میں کوئی شرکت نہیں کرے گا۔ حق تو یہ تھا کہ لڑکی کو سمجھا بجھا کر واپس بھیج دیا جاتا ، پھر حالات سازگار ہونے پر نکاح کی بات چیت  ہوتی،لیکن لڑکی اور لڑکا دونوں جذباتی دو میں شادی ہوگئی۔ اس کے بعد لڑکی کے والدین نے حالات سے مجبور ہو کر صلح کرلی۔ حدیث میں بیان ہے کہ سرپرست کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ‘‘ولی کی اجازت کے بغیر نکاح درست نہیں۔’’  (مسند امام احمد،ص:۳۹۴،ج۴)

حضرت عائشہؓ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ‘‘جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے ۔’’ آپ نے تین مرتبہ یہ الفاظ دہرائے۔  (ابوداؤد ، النکاح ۲۰۸۳)

حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:‘‘ کوئی عورت کسی دوسری عورت کا نکاح نہ کرے ، یعنی نکاح میں اس کی سرپرستی نہ کرے اور نہ ہی کوئی عورت خود اپنا نکاح کرے، بلاشبہ وہ بدکار عورت ہے جس نے اپنا نکاح خود کرلیا۔’’(ابن ماجہ، النکاح:۱۸۸۳)

ان احادیث کا تقاضا ہے کہ صور ت مسئولہ میں جو نکاح ہوا ہے وہ سرپرست کی اجازت کے بغیر ہوا ہے جبکہ اس کی اجازت انعقاد نکاح کے لئے شرط ہے، لہٰذا اس ‘‘ عدالتی نکاح ’’ کو نکاح تسلیم نہیں کیا جاسکتا ، ہمارے نزدیک دو صورتوں میں عدالتی نکاح صحیح ہوتا ہے جس کی تفصیل حسب ذیل ہے:

٭جس عورت کا کوئی بھی سرپرست نہ ہوتو عدالت کی سرپرستی میں اس کا نکاح کیاجاسکتا ہے اگر عدالت تک رسائی مشکل ہوتو گاؤں یا محلے کے سنجیدہ اور پختہ لوگوں پر مشتمل یا پنجائیت کی سرپرستی میں بھی نکاح کیا جاسکتا ہے۔

٭کسی عورت کا ولی موجود ہے لیکن وہ اپنی ولایت سے ناجائز فائدہ اٹھانا چاہتا ہے یا اپنے مفادات کی وجہ سے لڑکی کا کسی غلط جگہ پر نکاح کرنے پر تلا ہوا ہے تو ایسے حالات میں بھی عدالت یا پنجائیت کی سرپرستی میں نکاح ہوسکتا ہے۔

چونکہ اس نے نکاح  سے پہلےاپنے والدسے رابطہ کیا اور اس کے ان الفاظ سے  کہ ‘‘اجازت ہی اجازت ہے’’ سے فائدہ اٹھا کرعدالتی نکاح کیا ہے۔ لہٰذا اس شبہ نکاح کا فائدہ ‘‘ملزم ’’کو ملنا چاہیے ۔ اس کا فائدہ صرف اتنا ہی ہونا چاہیے کہ اس کی اولاد کو صحیح النسب قرار دیا جائے لیکن حقیقت کے اعتبار سے نکاح صحیح نہیں ہے۔ا س لئے آیندہ اسے گناہ کی زندگی سے بچانا چاہیے۔ جس کی صورت یہ ہےکہ ان کی درمیان فوراً علیحدگی کردی جائے۔ ایک ماہ تک دونوں ‘‘میاں بیوی’’ ایک دوسرے سے الگ رہیں۔ انہیں اس فعل شنیع پر ملامت بھی کی جائے۔ انہیں اللہ تعالیٰ سے معافی اور استغفار کی تلقین کرنی چاہیے ، پھر ایک ماہ بعد ازسرنو نکاح کیا جائے اور نکاح کی شرائط کوملحوظ رکھاجائے۔ ہمارے نزدیک احتیاط کا تقاضا یہی ہے۔ امید ہے کہ ایسا کرنے سے دونوں قیامت کے دن مواخذہ سے محفوظ رہیں گے۔  (واللہ اعلم)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:305

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ