سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(288) تین طلاقوں کے بعد رجوع کرنا

  • 12279
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-10
  • مشاہدات : 474

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے ایک دوست کی شادی کوتقریباًدوسال ہوچکے ہیں۔ اس نے تقریباًایک سال قبل اپنی بیوی کو طلاق دی، پھر چند روز بعدرجوع کرلیا ،پھر تقریباًچھ ماہ قبل دوبارہ اپنی بیوی کو طلاق دیدی ،طلاق دینے کے دوسرے روزباہمی رضامندی سے رجوع کرلیا ،اب اس نے بایں الفاظ اپنی بیوی کوتیسری طلاق دے ڈالی ہے کہ تجھے یکم جون ۲۰۰۶ء میں طلاق ہوجائے گی اب بیوی خاوند کے درمیان جھگڑے کی بنیاد ختم ہوچکی ہے اوردونوں آیندہ خوشگوار زندگی گزارنے کے خواہاں ہیں۔ کیا ان کے لئے مل بیٹھنے کی کوئی صورت ممکن ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

واضح رہے کہ شریعت اسلامیہ کی رو سے خاوند کواپنی زندگی میں دومرتبہ طلاق رجعی دینے کا حق ہے جوشخص اپنی منکوحہ کو دو مرتبہ طلاق دے کر اس سے رجوع کرچکاہو وہ آیندہ جب کبھی اس بیوی کوتیسری طلاق دے گا عورت اس سے مستقل طور پر جدا ہوجائے گی اورشوہر کے لئے حق رجوع بھی ساقط ہوجائے گا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :

’’طلاق دو بار دے، پھریا توسیدھی طرح عورت کوروک لیاجائے یابھلے طریقے سے اس کورخصت کر دیا جائے۔‘‘           [۲/البقرہ : ۲۲۸]

  صورت مسئولہ میں خاوند نے اپنی بیوی کودومختلف اوقات میں دوطلاقیں دی ہیں اورپھران سے رجوع بھی کر چکا ہے۔ اب اس نے مستقبل سے وابستہ مزید طلاق دے ڈالی ہے ۔ظاہرہے کہ شوہر دودفعہ اپناحق رجوع استعمال کرچکا ہے، اب اسے رجوع کاکوئی موقع اورحق نہیں رہا۔ مستقبل سے وابستہ طلاق کوبھی ائمۂ کرام نے نافذ العمل قراردیا ہے، البتہ اس کے وقت تاثیر میں اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ اورامام مالک رحمہما اللہ  کے نزدیک فوراًنافذ العمل ہو گی۔ آیندہ وقت کاانتظار نہیں کیاجائے گا جبکہ امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ  کاموقف ہے کہ جب مستقبل میں وقت آئے گا جس پرطلاق کووابستہ کیا ہے۔ اس وقت مؤثر ہوگی اس سے پہلے پہلے غیر مؤثر ہے، البتہ ابن حزم  رحمہ اللہ نے اس قسم کی رائے کااظہار کیا ہے کہ اس طرح کی طلاق سرے سے واقع نہیں ہوتی اب نہ آیندہ۔ (محلیٰ ابن حزم)

ہمارے نزدیک امام ابوحنیفہ اورامام ابن حزم رحمہما اللہ کاموقف افراط وتفریط پرمبنی ہے ۔امام شافعی اورامام احمد بن حنبل رحمہما اللہ  کی رائے میں وزن معلوم ہوتا ہے، لہٰذا دونوں یکم جون ۲۰۰۶ء تک میاں بیوی کی حیثیت سے اکٹھے رہ سکتے ہیں۔ماہ جون ۲۰۰۶ء کا دن ان کے لئے ہمیشہ جدائی کادن ہوگا۔اس صورت میں رجو ع کریں توکس چیز سے رجوع کیاجائے، کیونکہ رجوع کا موقع ہاتھ سے نکل چکا ہے ۔اس قسم کی بے احتیاطی ،بے اعتدالی اورنادانی کانتیجہ ندامت اورشرمساری ہی ہواکرتا ہے ۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:303

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ