سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(286) طلاق دینے کے بعد بھی ازدواجی تعلق قائم رکھنا

  • 12277
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-10
  • مشاہدات : 552

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے خاوند نے مجھے طلاق دی، پھر میرے کہنے پر وہ دوران عدت ملتا رہا، باہمی ملاقات اس طرح ہوتی رہی کہ وظیفہ زوجیت کے علاوہ سب کچھ ہوتارہا ، جو میاں بیوی میں ہوتا ہے ایک دوسرے کے جسم کو ہاتھ لگانا اور بوس و کنار کرنا یہاں تک کہ بے لباس بھی ہوجانا، لیکن اس دوران میرا خاوند مجھے  یہ بھی کہتا رہا، کہ میرا رجوع کا ارادہ نہیں ہے صرف آپ کے خوشی کےلئے ایسا کررہاہوں۔ کیا شریعت کی نظر میں طلاق کے بعد ایسے تعلقات سے رجوع ہوسکتا ہے یا نہیں ؟ اس سلسلہ میں ہماری راہنمائی فرمائیں۔


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے خاوند نے مجھے طلاق دی، پھر میرے کہنے پر وہ دوران عدت ملتا رہا، باہمی ملاقات اس طرح ہوتی رہی کہ وظیفہ زوجیت کے علاوہ سب کچھ ہوتارہا ، جو میاں بیوی میں ہوتا ہے ایک دوسرے کے جسم کو ہاتھ لگانا اور بوس و کنار کرنا یہاں تک کہ بے لباس بھی ہوجانا، لیکن اس دوران میرا خاوند مجھے  یہ بھی کہتا رہا، کہ میرا رجوع کا ارادہ نہیں ہے صرف آپ کے خوشی کےلئے ایسا کررہاہوں۔ کیا شریعت کی نظر میں طلاق کے بعد ایسے تعلقات سے رجوع ہوسکتا ہے یا نہیں ؟ اس سلسلہ میں ہماری راہنمائی فرمائیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

طلاق کے بعد رجوع کرنا خاوند کا حق ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:‘‘ان کے خاوند دوران عدت انہیں لوٹا لینے کا زیادہ حق دار ہیں اگر ان کا ارادہ اصلاح کا ہو۔’’  (۲البقرہ:۲۲۸)

اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ جب کوئی آزاد شخص اپنی آزاد بیوی کو پہلی یا دوسری طلاق رجعی طلاق دے تو وہ اس سے رجوع کرنے کا زیادہ حق دار ہے ، خواہ عورت اسے ناپسند ہی کیوں نہ کرتی ہو۔  (مغنی،ص:۵۴۷،ج ۱۰)

اور جوع قول اور عمل دونوں سے ہوسکتا ہے، یعنی گفتگو اور کلام وغیرہ سے کہے کہ میں اپنی بیوی سے رجوع کرتا ہوں یا اپنی بیوی سے جماع اور ہم بستری کرے۔ فقہا کی اکثریت  نے ہم  بستری سے رجوع کی صورت  میں نیت اور ارادہ کو ضروری قرار نہیں دیا ہے جبکہ امام مالک اور اسحاق بن راہو یہ کہتے ہیں کہ ہم بستری کے ذریعے اس وقت رجوع ہوگا جب اس کی  نیت ہو بصورت دیگر رجوع نہیں ہوگا۔ ہمارے نزدیک جماع کی صورت میں رجوع کی صحت کےلئے ارادہ کی شرط لگانا صحیح نہیں ہے۔ لیکن صورت مسئولہ میں وظیفہ زوجیت کے علاوہ بیوی سے بوس و کنار یا ایک دوسرے کے جسم کو ہاتھ لگانا سےرجوع ہوسکے گا یا نہیں، اس میں اختلاف ہے ، امام احمد فرماتے ہیں کہ بیوی سے بوس و کنار کرنا، اسے شہوت سے ہاتھ لگانا یا اس کی شرمگاہ کو دیکھنا اور بغل گیر ہونا یہ رجوع کےلئے کافی نہیں ہے جب تک وہ عملاًجماع نہ کرے۔   (مغنی،ص:۵۶۰،ج ۱۰)

جبکہ احناف کا موقف ہےکہ بیوی سے بوس و کنار اور شہوت کے ساتھ ہاتھ لگانا رجوع ہے، اسی طرح شرمگاہ کو دیکھ لینا بھی رجوع ہے۔  (احکام القرآن للقرطبی۔ص،۱۵۸،ج ۱۸)

ان حضرات کا کہنا ہے کہ مذکورہ امور رجوع کے مترادف ہیں کیونکہ خاوند اسے بیوی خیال کرکے ہی ایسا کرتا ہے لیکن ہمارے زندیک وظیفہ زوجیت کے علاوہ مذکورہ امور رجوع کے لئے کافی نہیں ہیں اور یہ کہنا کہ خاوند اسے بیوی خیال کرکے یہ امور سرانجام دیتا ہے۔ رجوع کے لئے کافی نہیں ہیں کیونکہ دوران عدت مطلقہ بیوی ہی رہتی ہے ، خواہ خاوند مذکورہ امور سرانجام دے یا نہ دے۔ یہی وجہ ہے کہ بیوی خاوند میں سے اگر کوئی دوران عدت فوت ہوجائے تو زندہ رہنے والے کو مرنے والے کا وارث بنایا جاتا ہے اور اس کے ترکہ سے اسے حصہ دیاجاتاہے۔

لیکن صورت مسئولہ میں تو خاوند یہ امور سرانجام دینے کے باوجود برملا کہتا ہے میرا قطعی طور پر رجوع کرنے کا ارادہ نہیں ہے۔ صرف بیوی کو خوش رکھنے کے لئے یہ کام کئے ہیں۔ بہرحال ہمارے نزدیک مذکورہ امور رجوع کے لئے کافی نہیں ہیں ، اگر بیوی خاوند نے انہیں  رجوع خیال کرکے اکٹھا رہنا شروع کردیا ہے حتی کہ عدت گزرچکی ہے تو ان کا نکاح بھی ختم ہوچکا ہے اب انہیں فوراًالگ ہوجانا چاہیے، استبرائے رحم کے لئے چند دن تک توقف کیا جائے، پھر نکاح جدیدسے اپنی ازدواجی زندگی کا آغاز کیا  جائے، نکاح جدید کےبغیر بیوی خاوند کی حیثیت سے زندگی گزارنا گناہ کی زندگی ہے جس سے ایک مسلمان کو اجتناب کرنا چاہیے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:301

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ