سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(280) تقسیم جائیداد کے متعلق سوال

  • 12271
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-09
  • مشاہدات : 969

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے ہاں ایک آدمی فوت ہوا، پس ماندگان میں دو بیویاں ، چھ لڑکے اور سات لڑکیاں موجود ہیں، اس نے اپنی زندگی میں جائیداد لگوادی جبکہ کچھ لڑکے اس کی زندگی میں برسرروزگار تھے، انہیں کچھ نہیں دیاگیا، باضابطہ طور پر انہیں الگ نہیں کیاگیا  تھا برسرروزگار بیٹوں نے کچھ جائیداد ذاتی طور پر بنائی ہے۔ ان حالات کے پیش نظر چند ایک سوالات کا جواب مطلوب ہے:

٭مرحوم کی دونوں بیویاں اور اولاد کے اس کے ترکہ سے کیا حصص ہوں گے۔

٭کیا باپ کو اپنی زندگی میں کسی بیٹے کو کچھ دینے کا اختیار ہے اگر ہے تو اس کا ضابطہ کیا ہے۔

٭کیا باپ اپنے کسی نافرمان بیٹے کو اپنی جائیداد سے عاق کرسکتا ہے۔

٭کیا باپ کے فیصلے کو اس کےمرنے کے بعد کالعدم کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔

٭اگر باپ کی زندگی میں اس کے بچے کاروبار کرتے ہیں تو ان کی کمائی سے حاصل شدہ جائیداد کی کیا حیثیت ہوگی، کیا اسے باپ کے ترکے میں شمار کیا جائے گا یا اسے اس کے ترکے سے الگ رکھا جائے گا، کتاب و سنت کی روشنی میں ان کا جواب مطلوب ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مندرجہ ذیل سوالات کے جوابا  ت بالترتیب حسب ذیل ہیں:

٭دونوں بیویوں کو اس کے منقولہ غیر منقولہ جائیداد سے آٹھواں حصہ ملے گا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :‘‘اگر اولاد ہو تو بیویوں کے لئے اس کے ترکے سے 8/1 ہے۔’’   (۴/النساء:۱۲)

بیویوں کو حصہ دے کر جو باقی بچے اسے اولاد میں اس طرح تقسیم کردیا جائے کہ ایک لڑکے کو دو لڑکیوں کے برابر حصہ ملے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :‘‘اللہ تعالیٰ اولاد کے متعلق حکم دیتا ہے کہ مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہوگا۔’’ (۴/النساء:۱۱)

سہولت کے پیش نظر مرحوم کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کے 152 حصے کرلئے جائیں، ان میں سے 152 کا 8/1 یعنی 19 حصے دونوں بیویوں میں تقسیم کردیے جائیں اور باقی 133 حصے اس طرح تقسیم ہوں گے کہ 14،14 حصے فی لڑکا اور 7،7 حصے فی لڑکی کو دیے جائیں، یعنی ایک لڑکے کو ایک لڑکی کے مقابلہ میں دوگنا حصہ ملے۔

دونوں بیویوں کے حصے:19۔

چھ لڑکوں کے حصے:14×6=84۔

سات لڑکیوں کے حصے:7×7=49۔

میزان:152 کل جائیداد۔

٭اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا میں خود مختار بنا کربھیجا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شریعت کی حدود میں رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو جس طرح چاہے استعمال کرسکتا ہے۔ مال بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نعمت ہے، اس میں بھی تصرف کرنے کا پورا پورا حق ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:‘‘ ہر مالک اپنے مال میں تصرف کرنے کا زیادہ حق رکھتا ہے، وہ اس حق کو جیسے چاہے استعمال کرسکتا ہے ۔’’  (بیہقی۔ص:۱۷۸،ج ۶)

(ا)اس تصرف ک ضابطہ یہ ہےکہ یہ تصرف کسی ناجائز اور حرام کے لئے نہ ہو۔

(ب)جائز تصرف کرتے وقت کسی شرعی وارث کو محروم کرنا مقصود نہ ہو۔

(ج)اگر یہ تصرف بطور ہبہ ہے تو نرینہ اولاد کے ساتھ مساویانہ سلوک پر مبنی ہو۔

(د) اگر یہ تصرف بطور وصیت عمل میں آئے تو کسی صورت میں 3/1 سے زیادہ ہو اور نہ ہی کسی شرعی وارث کے لئے وصیت کی گئی ہو۔

صورت مسئولہ میں باپ کو چاہیے تھا کہ جائیداد دیتے وقت تمام اولاد بیٹوں اور بیٹیوں کو برابر برابر جائیداد دیتا ، جیساکہ حدیث میں ہے کہ حضرت نعمان بن بشیرؓکو اس کے والدنے ایک غلام بطور عطیہ دیا اور رسول اللہ ﷺ کو اس پر گواہ بنانا چاہا تو آپ نے فرمایا:‘‘ کیا تو نے دوسرے بیٹوں کو بھی اس قدر عطیات دیئے ہیں۔’’ اس نے عرض کیا نہیں ،آپ نے فرمایا:‘‘ اس عطیہ سے رجوع کرلو اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اولاد میں عدل و انصاف کیا کرو۔’’  (صحیح بخاری ،الھبہ:۲۵۸۲)

ایک روایت میں ہے کہ ‘‘اگر میں عطیہ کے سلسلہ میں برتری دینا چاہتا تو عورتوں کو برتری دیتا۔’’   (بیہقی ،ص:۱۷۷،ج۶)

اس لئے حدیث کے پیش نظر باپ کا یہ اقدام غلط ہے کہ وہ کسی ایک بیٹے کے نام جائیداد لگوادے اور دوسروں کو اس سے محروم کردے ۔

٭انسان کو اللہ تعالیٰ نے یہ حق نہیں دیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ قانون وراثت کو پامال کرتے ہوئے کسی نافرمان بیٹے کو اپنی جائیداد سے محروم کردے، اخبارات میں ‘‘ عاق نامہ’’ کے اشتہارات اللہ تعالیٰ کے ضابطہ وراثت کے خلاف کھلی بغاوت ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:‘‘ مردوں کے لئے اس مال میں حصہ ہے جو والدین اور رشتے داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لئے اس مال میں حصہ ہے جو والدین   اور رشتے داروں نے چھوڑا ہو، خواہ وہ مال تھوڑا ہو یا زیادہ لیکن اس میں یہ حصہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہے۔’’ (۴/النساء)

اس آیت کے پیش نظر کسی وارث کو بلاوجہ شرعی وراثت سے محروم نہیں کیا جاسکتا، احادیث میں بھی اس کی وضاحت ملتی ہے۔فرمان نبوی ہے کہ ‘‘کسی کی وراثت ختم کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے مقرر کی ہے اللہ تعالیٰ جنت میں اس کی وراثت ختم کردیں گے۔’’   (شعب الایمان بیہقی،ص:۱۱۵،ج۱۴)

اگر بیٹا نافرمان ہے تووہ اس نافرمانی کے سزا قیامت کےدن اللہ کے ہاں ضرور پائے گا لیکن والد کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اسے جائیداد سے محروم کردے، ایسا کرنے سے انسان کی عاقبت کے خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔

٭اگر باپ نے اپنی زندگی میں کوئی غلط فیصلہ کیا ہے تو اسے مرنے کے بعد توڑا جاسکتا ہے بلکہ اسے کالعدم کرکے اس کے اصلاح کرنا ضروری ہے، یہ کوئی پختہ لکیر نہیں  ہے جسے مٹانا کبیرہ گناہ ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:‘‘ہاں جو شخص وصیت کرنے والے کی طرف سے جانب داری یا حق تلفی کا اندیشہ رکھتا ہو اگر وہ آپس میں ان کی اصلاح کردے ، تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔’’   (۲/البقرہ:۱۸۲)

خود رسول اللہ ﷺ نے بعض صحابہ کرام ؓ کے غلط فیصلوں کی ان کے مرنے کے بعد اصلاح فرمائی ہے  ، چنانچہ حدیث میں ہے کہ ایک انصاری صحابی کی کل جائیداد چھ غلام تھے،اس نے وصیت کے ذریعے ان سب کو آزاد کردیا، اس کے مرنے اور کفن و دفن کے بعدا س کے شرعی ورثا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حقیقت حال سے آپ کو آگاہ کیا تو آپ نے مرنے والے کو سخت برابھلا کہا۔ پھر اس کی  وصیت کو کالعدم کرتے ہوئے،ا ن چھ غلاموں کے متعلق قرعہ اندازی کی جنہیں بذریعہ وصیت آزاد کردیاتھا، 6 کا 3/1 یعنی دو غلام آزاد کردیے اور باقی چار ورثا کے حوالے کرکے ان کے نقصان کی تلافی کردی۔(صحیح مسلم ،ا لایمان:۱۶۶۸)

دیگر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس شخص کے متعلق فرمایا:‘‘اگر ہمیں اس کی حرکت کا پہلے علم ہوجاتا تو ہم اس کی نماز جنازہ ہی نہ پڑھتے۔’’   (مسند امام احمد،ص:۴۴۳،ج ۴)

بلکہ ایک روایت میں ہے کہ ہم اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کرتے۔   (ابو داؤد،العتق:۳۹۵۸)

ان احادیث کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ باپ نے اگر زندگی میں حقوق العباد کے سلسلہ میں کوئی غلط اقدام کیا تھا تو اس کے مرنے کے بعد کالعدم کیا جاسکتا ہے اور اس میں مناسب ترمیم کرکے کتاب و سنت کے مطابق کرنا ضروری ہے۔ مرحوم کے ساتھ ہمدردی کا بھی یہی تقاضا ہے کہ اس کے غلط اقدام کو برقرار رکھ کر اس کے بوجھ کو زیادہ وزنی نہ بنائیں بلکہ اس کی اصلاح کرکے اس کی عاقبت کو سنوارنے کی فکر کیجائے۔

٭اولاد کی دو حیثیتیں ہیں ایک یہ ہے کہ وہ باپ کے ساتھ ہی کاروبار میں شریک ہوتی اور اس کے ساتھ ہی ایام زندگی گزارتی ہے اس صورت میں باپ کے پاس رہنے والی اولاد کی کمائی باپ کی ہی شمار ہوتی ہے کیونکہ حدیث میں ہے:‘‘تو اور تیرا مال سب تیرے باپ کے لئےہے۔’’   (مسند امام احمد،ص ۲۰۴ج ۲)

ایسے حالات میں کسی بیٹے کےلئے جائز نہیں ہے کہ وہ چالو کاروبارسے کچھ رقم پس انداز کرکے اپنی الگ جائیداد بنالے،اگر ایسا کیا گیا ہے تو ایسی جائیداد کو باپ کی جائیداد سمجھتے ہوئے اس کے ترکے میں شمار کرنا ہوگا۔ہاں ،اگر اولاد کا حق ملکیت تسلیم کر لیا جائے تو اولاد میں کسی کو الگ جائیداد بنانے میں کوئی حرج نہیں ہے یا کوئی ملازمت پیشہ بیٹا اپنے باپ سے کہہ دے کہ میری اس رقم سے آپ نے میرے لئے کوئی پلاٹ یا مکان خریدنا ہے،ایسے حالات میں اس کی خریدی ہوئی جائیداد کو بیٹے کی جائیداد سمجھا جائے گا اور اسے باپ کے ترکے میں شامل  نہیں کیا جائے گا۔ اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہےکہ اگر کسی بیٹے نے قرض وغیرہ پکڑ کر پراپرٹی خریدی یا مکان بنایا ہے تو مکان یا پلاٹ کو باپ کے ترکےمیں شامل کرتے وقت ا س قرضہ کو مشترکہ جائیداد سے منہا کرنا ہوگا۔اولاد کی دوسری حیثیت یہ ہے کہ کوئی بیٹا شادی شدہ ہے باپ نے باضابطہ طور پر اسے الگ کردیا ہے اب وہ خود محنت کرتا ہے اور اپنے گھر کا نظام بھی خود چلاتا ہے باپ کے ذمے اس کا کوئی بوجھ نہیں ہے ایسی صورت میں اگر وہ بیٹا کوئی مکان یا پلاٹ یا جائیداد بناتا ہے تو اسے باپ کے ترکہ میں شمار نہیں کیا جائے گا کیونکہ اس کا الگ حق ملکیت تسلیم کرلیا گیا ہے، ایسے حالات میں باپ اس کے لین دین کا بھی ذمہ دار نہیں ہے۔

آخر میں ہم اس بات کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ حقوق العباد کا معاملہ بہت ہی نازک ہے۔ قیامت کے دن اس کی معافی نہیں ہوگی،اپنی نیکیاں دے کر اور دوسروں کی برائیاں اپنےکھاتے میں ڈال کر اس کی تلافی کی جائے گی۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:‘‘ہم قیامت کے دن انصاف پر مبنی ترازو قائم کریں گے اس بنا پر کسی کی کچھ حق تلفی نہ ہوگی اور اگر کسی کارائی کے دانے کے برابر بھی ظلم ہواتو وہ بھی سامنے لایا جائے گاا ور ہم حساب لینے کے لئے کافی ہیں۔’’   (۲۱/الانبیاء:۴۷)

یہ دنیا کا مال و متاع دنیا میں رہ جائےگا،ا س کی خاطر اپنی آخرت کو برباد نہ کیاجائے۔ (واللہ اعلم بالصواب)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:290

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ