سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
(261) بیٹے کی موجودگی میں پوتے کا حصہ
  • 12252
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-26
  • مشاہدات : 1206

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک آدمی بقید حیات ہے اور اس کے دوبیٹے بھی زندہ ہیں جبکہ اس کاایک بیٹا اوربیٹی فوت ہوچکے ہیں ان فوت شدگان کی نرینہ اورمادینہ اولادموجود ہے کیااس آدمی کی وفات کے بعد اس کے بیٹوں کی موجودگی میں اس کے پوتے، پوتیاں، نواسے اورنواسیاں اس کی جائیداد کے حقدار ہیں اگر ہیں تووہ کس قدر حصہ پائیں گے؟۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 اسلام کے نظام وراثت کاقاعدہ ہے کہ وفات کے وقت جو قریبی ورثا زندہ ہوں انہیں مرحوم کی جائیداد سے حصہ ملتا ہے اورجورشتہ داراس کی زندگی میں وفات پاچکے ہیں یا وفات کے وقت قریبی رشتہ دار موجودہوں تودور کی قرابت رکھنے والے محروم ہوتے ہیں۔ صورت مسئولہ میں جوبیٹا اوربیٹی وفات پاچکے ہیں وہ کسی صورت میں باپ کی جائیداد کے حقدار نہیں ہیں۔ اس طرح اس کے پوتے پوتیاں اورنواسے نواسیاں بھی وراثت سے حصہ نہیں پائیں گے کیونکہ اس سے زیادہ قرابت رکھنے والے دوبیٹے موجود ہیں۔لہٰذااگر باپ فوت ہوجائے توموجودہ حالات کے پیش نظر صرف اس کے بیٹے وارث ہوں گے۔[واللہ اعلم]

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:280

تبصرے