سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(266) ورثہ سے نواسی کا حصہ

  • 12251
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-09
  • مشاہدات : 208

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک شخص کی وفات کے وقت اس کے تین بھتیجے اور ایک نواسی زندہ تھی۔ وراثت اس کے بھتیجوں کومل گئی، کافی عرصہ بعد اس کی نواسی نے عدالت میں دعویٰ کردیا ہے کہ نانا کی وراثت میں میرا حق ہے۔ قرآن و حدیث کے مطابق بتایا جائے کہ نواسی کو کچھ حصہ ملتا ہے یا نہیں؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص کی وفات کے وقت اس کے تین بھتیجے اور ایک نواسی زندہ تھی۔ وراثت اس کے بھتیجوں کومل گئی، کافی عرصہ بعد اس کی نواسی نے عدالت میں دعویٰ کردیا ہے کہ نانا کی وراثت میں میرا حق ہے۔ قرآن و حدیث کے مطابق بتایا جائے کہ نواسی کو کچھ حصہ ملتا ہے یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قرآن کریم کے ضابطہ وراثت کے مطابق میت کی جائیداد کے سب سے پہلے حقدار وہ ورثا ہیں جن کے حصص قرآن یا حدیث میں مقرر ہیں جنہیں اصحاب الفروض کہاجاتا ہے۔ان سے بچاہوا ترکہ عصبات کو ملتا ہے۔ صورت مسئولہ میں نواسی نہ  تو اصحاب الفروض سے ہے اور نہ ہی عصبات میں  اس کا شمار ہوتا ہے بلکہ نواسی ذوی الارحام میں شامل ہے جو اصحاب الفروض اور عصبات کی عدم موجودگی میں وارث ہوتے ہیں۔ مرحوم کی وفات کے وقت اسےکے بھتیجے زندہ تھے ۔ ایسے حالات میں اس کی جائیداد کے وہ وارث ہیں کیونکہ ان کا شمار عصبات میں ہوتا ہے۔ا ن کی موجودگی میں نواسی محروم ہے، لہٰذا اس کا عدالت میں دعویٰ کرنا درست نہیں ہے اور نہ ہی اسے مرحوم کی بیٹی کے قائم مقام سمجھ کر وراثت کا حقدار قراردیا جاسکتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ ‘‘ حصے داروں کو حصہ دینے کے بعد میت کےقریبی مذکر رشتہ دار وارث بنتے ہیں۔’’

اس حدیث کے پیش نظر بھتیجے قریبی مذکر رشتہ دار ہیں جو وراثت کے حقدار ہوں گے نواسی ان میں شامل نہیں ہے، اس بنا پر نانا کی جائیداد سے اس کا کوئی حق نہیں بنتا۔ (واللہ اعلم)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص280

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ