سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(222) معتکف کا تیمارداری کے لیے جانا

  • 12212
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-04
  • مشاہدات : 553

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا اعتکاف کرنے والا کسی بیمار کی تیمارداری یا کسی عزیز کے جنازہ میں شریک ہوسکتا ہے؟قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اعتکاف کا لغوی معنی‘‘بند رہنا اور کسی چیز کو لازم پکڑ لینا ہے’’ ہے۔ا ور اس کی شرعی تعریف یہ ہے کہ خاص کیفیت کے ساتھ کسی شخص کا خود  کو مسجد میں روک لینا اعتکاف کہلاتاہے ۔ اس کے متعلق رسول اللہﷺ کا اسوۂ مبارکہ یہ ہے:حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ آپ ؓ نے فرمایا کہ جب رسول اللہﷺ اعتکاف بیٹھتے تو کسی سخت حاجت کے بغیر گھر میں داخل نہ ہوتے۔(صحیح بخاری ،الاعتکاف:۲۰۲۹)

حضرت عائشہ ؓ سے ہی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:‘‘اعتکاف کرنے والے پر سنت یہ ہے کہ سوائے کسی ضروری حاجت  کے مسجد سے باہر نہ نکلے۔’’(بیہقی،ص:۳۲۱،ج۴)

ان احادیث کے پیش نظر اعتکاف کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ مسجد سے باہر نہ  نکلے ،ہاں ،اگر سخت ضرورت ہے جو مسجد سے نکلے بغیر پوری نہیں ہوسکتی تو ایسے حالات  میں مسجد سے نکلنا جائز ہے،مثلاً:

٭مسجد میں نہانے یا قضائے حاجت کا بندوبست نہیں ہے یا مسجد میں پانی وغیر ہ کا نظام خراب ہوچکا ہے،ایسے حالات میں وہ گھر جا کر اپنی ضرورت پوری کرسکتا ہے۔

٭کھانا وغیرہ لانے والا کو ئی نہیں ہے تو گھر جا کر کھانا وغیرہ کھا سکتا ہے لیکن لازم ہے کہ ضرورت پورا ہوتے ہی مسجد میں واپس آجائے۔

٭ایک دفعہ دوران اعتکاف رسول اللہﷺ کی زیارت کے لئے حضرت صفیہؓ تشریف  لائیں تو آپ انہیں گھر چھوڑنے گئے کیونکہ رات کافی گزرچکی تھی۔ (صحیح بخاری،الاعتکاف:۲۰۳۵)

بیمار کی تیمارداری کرنا یا جنازہ میں شریک ہونا ایسی ضروریات سے نہیں ہے،لہٰذا معتکف کسی کی تیمارداری یا جنازہ میں شریک نہیں ہوسکتا ،چنانچہ حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ اعتکاف کرنے والے کے لئے سنت یہ ہے کہ وہ کسی مریض کی تیمارداری کرے اور نہ ہی کسی کا جنازہ پڑھے۔ (ابوداؤد ،الصوم:۲۴۷۳)

ہاں ،اگر مسجد میں جنازہ آجائے تو شریک ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے ،اسی طرح اگر کوئی نمازی مسجد میں آکر بیمار ہوگیا ہے تو مسجد میں اس کی تیمارداری کی جاسکتی ہے ،مسجد سے باہر نکل کر یہ کام کرنے درست نہیں ہیں۔ (واللہ اعلم)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:247

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ