سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(220) عورت کا اپنے گھر میں اعتکاف بیٹھنا

  • 12210
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-04
  • مشاہدات : 1023

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا عورت اپنے گھر میں اعتکاف بیٹھ سکتی ہے رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد امہات المؤمنین نے مسجد میں اعتکاف کیا تھا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اعتکاف کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے:

‘‘تم مسجدوں میں اعتکاف بیٹھے ہوتو پھر  بیویوں سے مباشرت نہ کرو۔’’(۲/البقرہ:۱۸۷)

اس آیت کریمہ سےمعلوم ہوا کہ اعتکاف صرف مسجد میں ہی ہوسکتا ہے کیونکہ اعتکاف کے دوران بیوی سے مباشرت کرنا تو ہرحال میں منع   ہے،پھر مساجد کے حوالہ سے اسے کیوں بیان کیا گیا ہے؟ اس پر تمام اہل علم کا اجماع ہے کہ اعتکاف کے لئے مسجد کا ہونا ضروری ہے اس کے علاوہ حضرت  عائشہؓ کا بیا ن ہے  کہ مسجد کے علاوہ اعتکاف نہیں ہوتا۔ (دارقطنی،ص:۲۰۱،ج۲)

اعتکاف کے لئے مرد اور عورت کی تفریق بھی صحیح نہیں  ہے کہ مردوں کے لئے مسجد کو ضروری قرار دے دیا جائے اور عورتوں کے متعلق گھر میں اعتکاف کرنے کی اجازت دی جائے جبکہ  طریقہ نبوی اس کے خلاف ہے ،کیونکہ رسول اللہﷺ کی موجودگی میں ازواج  مطہرات مسجد میں ہی اعتکاف کرتی تھیں،جیسا کہ ایک مرتبہ آپ نے اعتکاف کا ارادہ فرمایا جب آپ اعتکاف کے لئے  مسجد میں اپنے خیمہ کی طرف گئے تو دیکھا کہ آپ کی بیویوں نے بھی مسجد نبوی میں اعتکاف کےلئے خیمے لگا رکھے ہیں۔ آپ نے یہ دیکھ کر فرمایا:‘‘ان بیویوں نے یہ کام حسن  نیت کی بنا پر  بلکہ جذبہ رقابت کی وجہ سے کیا ہے۔’’ آپ نے ان سب کے خیمے اکھاڑ دینے کا حکم دیا،پھر آپ نے اپنا خیمہ بھی اکھڑ وادیا۔ (صحیح بخاری،الاعتکاف :۲۰۳۴)

اگر خواتین کے لئے مسجد کے علاوہ گھروں کے اعتکاف کرنا صحیح ہوتا توآپ انہیں گھروں میں اعتکاف کرنے کا حکم دے  دیتے لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں کے لئے بھی مسجد کا اہتمام ضرور ی ہے لیکن اس کےلئے چند شرائط ہیں :

(۱)عورت کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے خاوند یا سرپرست سے اجازت لے۔

(۲)مسجد میں اعتکاف کرنے سے کسی قسم کے فتنہ وفساد کا اندیشہ نہ ہو۔

(۳)مسجد میں سحری و افطاری کا معقول انتظام ہویا کوئی گھر سے لانے والا ہو،رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد ازواج مطہرات ؓ نے اعتکاف کیا تھا اگر چہ مسجد کی صراحت احادیث میں نہیں ہے ۔تاہم آثار و قرائن سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے مسجد میں ہی اعتکاف کیا تھا۔(واللہ اعلم)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:246

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ