سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(210) معتکف جائے اعتکاف میں کب داخل ہو؟

  • 12196
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-02
  • مشاہدات : 1036

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اعتکاف کرنے والے کو اپنی جائے اعتکاف میں کب داخل ہوناچاہیے،نیز معتکف کے لئے بوقت ضرورت اعتکاف گاہ سے باہر نکلنا جائز  ہے،قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت کریں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ماہ رمضان کے آخری عشرہ میں آدمی کا خود کو اللہ تعالیٰ  کی عبادت کے لئے مسجد کے اندر روک لینا ‘‘اعتکاف ’’کہلاتا ہے ۔رمضان کے علاوہ بھی اعتکاف کرنا ثابت ہے ،تاہم ماہ رمضان میں اعتکاف کرنا سنت مؤکدہ ہے۔اعتکاف کرنے والے کو چاہیے کہ وہ بیس رمضان کی شام کو مسجد میں پہنچ جائے اور رات مسجد میں اعتکاف کی نیت سے گزارے ،اگلے روز،یعنی اکیسویں رمضان کو نما زفجر سے فراغت کے بعد اعتکاف میں داخل ہوجائے کیونکہ حدیث میں ہےکہ رسول اللہﷺ آخری عشرہ کا اعتکاف کرتے تھے۔ (صحیح بخاری،الاعتکاف:۲۰۲۳)

آخری عشرہ بیسویں رمضان کو مغر ب کے بعد شروع ہوتا ہے۔ اس کےساتھ حضرت عائشہ ؓ کی صراحت کو ملایا جائے کہ رسول اللہﷺ جب اعتکاف کا ارادہ فرماتے تو نماز فجر پڑھ کر اپنی جائے اعتکاف میں داخل ہوتے۔ (ترمذی ،الصوم:۷۹۱)

صحیح بخاری میں بھی صراحت ہے کہ رسول اللہﷺ ہر رمضان میں اعتکاف کیا کرتے تھے جب صبح کی نماز پڑھ لیتے تو اس  جگہ تشریف لے جاتے  جہاں اعتکاف کرنا ہوتا۔ (صحیح بخاری،الاعتکاف :۲۰۴۱)

ان احادیث کے مطابق اعتکاف کرنے والے کو چاہیے کہ بیس رمضان کو نماز مغرب مسجد میں ادا کرے اور یہ رات بحالت اعتکاف مسجد میں گزارے ،پھر صبح کی نماز پڑھ کر اپنی جائے اعتکاف میں چلاجائے ۔معتکف  کا کسی ایسے امر کے لئے باہر نکلنا جائز ہے جس کے بغیر شرعاًیا طبعاً چارہ کا رنہ ہو،مثلاًوضو اور غسل کے لئے مسجد سے باہر نکلنا جبکہ مسجد میں ان کا انتظام نہ ہو،اس طرح سحری و افطاری کے لئے اپنے گھر آنا جبکہ کوئی کھانا لانے والا دستیاب نہ ہو،لیکن اعتکاف کےمنافی امور کے لئے مسجد سے نکلنا جائز نہیں ہے، مثلاً:خریدوفروخت کے لئے باہر جانا یا بیوی سے اپنی جنسی خواہش پوری کرنے کے لئے اپنے گھر آنا،کیونکہ یہ فعل شرعاًحرام ہے۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:240

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ