سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(209) مستورات کا مسجد میں سفر کرنا اور محرم کے بغیر سفر کرنا

  • 12195
  • تاریخ اشاعت : 2014-06-02
  • مشاہدات : 500

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مستورات کا مسجد میں اعتکاف کرنا شرعاً کیسا ہے؟محرم کے بغیر عورت اکیلی سفر نہیں کرسکتی تو مسجد میں دس یوم تک اکیلی اعتکاف کیسے کرسکتی ہے تو اس کے لیے کیا لواز م ہیں،نیز کیا نابالغ بچی اعتکاف کرسکتی ہے۔کتاب و سنت کی روشنی میں جواب دیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

واضح رہے کہ دنیاوی علائق سے الگ تھلگ ہو کرتقرب الہٰی کی نیت سے کچھ وقت مسجد میں قیام کرنے کو شرعاً اعتکاف کہا جاتا ہے۔ اس بنا پر اگر تقرب الہٰی کی نیت نہ ہوچکی تھی ۔نیت تو ہے لیکن مسجد میں قیام نہیں  ہے تو ان دونوں  صورتوں کو شرعی اعتکاف نہیں کہا جائے گا۔ مسجد کی شرط اس لئے ہے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :‘‘اور جب تم مساجد میں اعتکاف بیٹھے ہو تو ان (بیویوں ) سے مباشرت نہ کرو۔’’ (۲/البقرہ:۱۸۷)

آیت کریمہ میں مساجد کا بطور خاص ذکر اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اعتکاف کےلئے مسجد کا ہونا ضروری ہے۔ اس بنا پر عورتوں کاگھر وں میں اعتکاف کرنا صحیح نہیں ہے بلکہ انہیں  بھی  اعتکاف مسجد میں ہی بیٹھنا چاہیے،ا لبتہ انہیں مندرجہ ذیل شرائط کو ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا:

٭عورت کےلئے مردوں سے بایں طور الگ انتظام ہو کہ مردوں کے ساتھ اختلاط کا قطعاً کوئی امکان باقی نہ رہے کیونکہ اختلاط کو اللہ اور اس کےرسول اللہﷺ نے پسند نہیں کیا ہے۔

٭خاوند سے اعتکاف بیٹھنے کی اجاز ت حاصل کی جائے،بصورت دیگر اعتکاف صحیح نہیں ہوگا۔

٭بحالت اعتکاف مخصوص ایام کے آجانے کا بھی اندیشہ نہ ہو۔

٭کسی قسم کے فتنہ و فسا د کا خطرہ بھی  نہ ہو۔

٭خوردونوش اور دیگر لوازم کا باقاعدہ انتطام ہو،تاکہ باہر جانے کی ضرورت نہ  پڑے۔

اگر یہ شرائط پوری نہ ہوں تو عورتوں کے لئے  اعتکاف سے اجتناب زیادہ بہتر ہے،ایسے حالات میں گھر کے کسی گوشہ میں شوق عبادت پورا کرلینا چاہیے،لیکن اسے شرعی اعتکاف نہیں کہا جائے گا اور نہ ہی اعتکاف کی پابندیاں اس پر عائد ہوں گی بعض  حضرات کی طرف سے عورتوں کے لئے اعتکاف کو غیر مشروع کہا جارہا ہے،لیکن اس کی کوئی دلیل پیش نہیں کیا جاتی ،چونکہ ازواج مطہرات کا رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد اعتکاف  کرنا صحیح احادیث سے ثابت ہے۔(صحیح بخاری،الاعتکاف:۲۰۲۶)

اس لئے شرائط بالا کو ملحوظ رکھتے ہوئے عورت مسجد میں اعتکاف کرسکتی ہے۔ صورت مسئولہ میں جو حدیث اس کے عدم جواز پر پیش کی گئی ہے وہ سفر سے تعلق رکھتی ہے اس کا اعتکاف سے کوئی لگاؤ نہیں ہے۔ نابالغ بچی شرعی احکام کی پابند نہیں ہے ۔ اس لئے اعتکاف جیسی پاکیزہ اور مقدس عبادت کو بازیچہ اطفال نہیں بنانا چاہیے۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:239

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ