سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

آواز سے سرچ کریں
(183) ذاتی استعمال کے لیے خریدے گئے پلاٹوں پر زکوٰۃ
  • 12168
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-24
  • مشاہدات : 1368

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں ایک سرکاری ملازم ہوں میرے پاس کوئی ذاتی مکان نہیں ہے میں نے اپنی تنخواہ میں سے تھوڑی تھوڑی رقم پس انداز کرکے اقساط پردوپلاٹ اس لئے خریدے ہیں کہ ریٹائر منٹ کے بعدایک کوبیچ کردوسرے پرمکان تعمیر کر سکوں، کیاایسے ذاتی استعمال کے لئے خریدے گئے ان پلاٹوں پرزکوٰۃ دیناضروری ہے؟ اولین فرصت میں جواب دیں ۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

زکوٰۃ کے لئے تین شرائط ہیں:

1۔  رقم وغیرہ نصاب کوپہنچ جائے ۔

2۔  وہ ضروریات سے فاضل ہو۔

3۔  اس پرسال گزرے ۔

صورت مسئولہ میں پلاٹوں کی مالیت اگرچہ نصاب کوپہنچتی ہے لیکن وہ ذاتی ضرورت کے لئے خریدے گئے ہیں، اس قسم کے پلاٹوں پرزکوٰۃ نہیں ہے، ہاں جوپلاٹ تجارتی مفاد کے پیش نظر خریدے گئے ہوں، ان کی بازاری قیمت کے مطابق ہرسال زکوٰۃ ادا کرناضروری ہے ۔ [واللہ اعلم ]

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:221

تبصرے