سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(178) عشر کس پیدوار سے نکالا جائے

  • 12163
  • تاریخ اشاعت : 2024-04-20
  • مشاہدات : 972

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں آڑھت کاکاروبار کرتا ہوں اس کے ساتھ زمیندارہ بھی کررکھا ہے۔ جس رقبہ پرکاشتکاری کرتا ہوں وہ میں نے ٹھیکہ پرلیاہوا ہے کاشتکاری پرجوخرچ آتا ہے وہ رقم آڑھت کے ہی سرمایہ سے لیتا ہوں اورمیں نے اس رقم کی زکوٰۃ اد اکررکھی ہے۔ دریافت طلب امریہ ہے کہ پیداوار کاعشر ٹھیکہ کی رقم منہاکرکے اد اکرناہے یامجھے کل پیداوار سے اد اکرناہوگا، نیز جو رقم میں آڑھت کے سرمایہ سے زمیندار ہ پرخرچ کرتا ہوں اسے بطور قرض شمار کرکے خود کو مقروض قرار دے سکتا ہوں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 ہم نے اہلحدیث مجریہ ۱۷اپریل۲۰۰۴ شمارہ نمبر ۱۴میں عشر سے متعلق ایک فتویٰ میں لکھا تھا کہ اگرزمین کو ٹھیکے پردے دیاجائے توزمیندارچونکہ زمین کامالک ہوتا ہے وہ ٹھیکے کی اس رقم کواپنی مجموعی آمدنی میں شامل کرکے زکوٰۃ ادا کرے گا بشرطیکہ وہ نصاب کوپہنچ جائے اوراس کی ضروریات سے فاضل ہو، نیز اس پرسال بھی گزرجائے ۔زمین ٹھیکے پرلینے والا کاشت کرنے میں خودمختار ہوتا ہے اورپیداوار کامالک بھی وہی ہوتا ہے تووہ صاحب اختیار ہونے کی حیثیت سے عشرادا کرے گا۔ٹھیکے کی رقم اس سے منہا نہیں کی جائے گی ۔اس پرمزید عرض ہے کہ ایک آدمی زمین خریدلیتاہے اوراس کامالک بن جاتا ہے ۔خریدنے کے لئے ادا شدہ رقم کوزرعی پیداوار سے منہانہیں کیاجاتا بلکہ کل پیداوار سے عشر ادا کیا جاتا ہے، اسی طرح ٹھیکے پرزمین کاشت کرنے والا بھی ایک یا دو سال تک زمین کامالک ہی ہوتا ہے وہ بھی ٹھیکہ کی رقم کوپیداوار سے منہانہیں کرے گا بلکہ وہ زمین کی مجموعی پیداوار سے عشر ادا کرے گا۔ اگراس نے قرض لے کرٹھیکہ ادا کیاہے تواس کی دوصورتیں ہیں:

1۔  وہ قرض کسی دوسرے شخص سے لیا ہے اوروہ اس کے ذمے واجب الادا ہے۔ ایساقرض پیداوار سے منہاکیاجائے گا اس کے بعد جوپیداوار فاضل ہوگی اس سے عشر ادا کرناہوگا۔

2۔  وہ ’’قرض ‘‘اس نے اپنے ہی کسی کاروبار سے لے کر زمین کاٹھیکہ اد اکیا ہے اوراس کے ذمے واجب الادا نہیں ہے، اس قسم کا ’’قرض‘‘ پیداوار سے منہانہیں ہو گا۔ صورت مسئولہ میں سائل نے اپنے ہی ایک کاروبار آڑھت سے رقم نکال کرٹھیکہ اد اکیا ہے یہ ایساقرض نہیں ہے جواس کے ذمہ واجب الا دا ہو، لہذا اس صورت میں وہ ’’مقروض ‘‘شمارنہیں کیا جائے گا ۔اسی طرح بعض لوگ پیداوار کے سلسلہ میں اٹھنے والے اخراجات کوپیداوار سے منہا کرنے کی گنجائش تلاش کرتے ہیں کاشتکار کومتعدد مالی اخراجات کی وجہ سے پیداوارنصف عشر، یعنی بیسواں حصہ دینے کی رعایت دی گئی ہے اگراس رعایت کے باوجود ٹھیکہ کی رقم ،کھاد ،سپرے کے اخراجات اورکٹائی کے لئے تھریشر کی مزدوری بھی منہا کردی جائے توا س کے بعد باقی کیابچے گا جس سے عشر ادا کیا جائے، لہٰذا ہمارا رجحان یہ ہے کہ کاشت کار کسی قسم کے اخراجات منہاکئے بغیر اپنی کل پیداوار سے بیسواں حصہ بطورعشراداکرے بشرطیکہ اس کی پیداوار پانچ وسق تک پہنچ جائے ۔جس کا جدید نظام کے مطابق 630کلوگرام وزن بنتا ہے۔ اگراس سے کم ہے توعشر نہیں ہے، ہاں، اگر وہ چاہے توفی سبیل اللہ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔     [واللہ اعلم بالصواب]

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:218

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ