سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(10) مرزائیوں سے دوستی اور قرابت داری قطعا حرام ہے

  • 12154
  • تاریخ اشاعت : 2014-05-31
  • مشاہدات : 967

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کہتے تو ہیں کہ ہم مسلمان ہیں لیکن رشتہ داریا ں مرزائیوں سے کرتے ہیں ۔ ایک لڑکے اور لڑکی کا نکاح ربوہ میں پڑھا اور ایک کا نکاح مولا نا شوق کی مسجد نور پارک میں پڑھا ، اب لڑکے کی شادی مرزائیوں کے گھر کر رہے ہیں تو کیا ہمارا برات کے ساتھ جانا، کھانا پینا جائز ہے یا نہیں (مین بازار عبداللہ پور مسجد نور پارک فیصل آباد )


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

واضح ہو کہ مرزائی خواہ قادیانی ہوں یا لاہوری دونوں گروہ کافر ہیں اور ان کا کفر محتاج بیان نہیں رہا کہ علمائے کرام تو تقسیم ملک سے پہلے بھی ان کے کفر پر مہر تصدیق ثبت کر چکے تھے۔ جیسا کہ شیخ الاسلام حضرت ابو الوفا ء ثنا ء اللہ امرتسری ؒ کے رسالہ فسخ نکاح مرزائیاں سے ظاہر ہے۔ اس رسالہ ہدایت مقالہ میں ہندوستان بھر کے تمام اہل حدیث ، حنفی ، دیو بندی اور بریلوی وغیرہ گروہوں کے تمام سر بر آوردہ اہل علم کی مہر تصدیق ثبت ہے اور اس رسالہ میں دلائل قاطعہ و براہین ساطعہ سے یہ ثابت کر دیا گیا ہے کہ نہ تو کسی مسلمان عورت کا کسی مرزائی نکاح ہو سکتا ہے اور نہ کسی مسلمان کو کسی مرزائی عورت کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے، اور اسی طرح اگر کوئی آدمی مزرائی ہو جائے اور اس کی بیوی مرزائی  نہ ہو تو پہلا نکاح از خود فسخ ہو جاتا ہے۔ عکس ذلک( مولانا امرتسری کے اس رسالے سے پہلے مولانا محمد حسین بٹالوی مرحوم نے مرزائیوں کےکفر پر ایک متففقہ فتوی اپنے اخبار "اشاعتہ السنہ" میں شائع کیا تھا، جس میں تمام مکاتب فکر کے علماء کے فتاوے شامل تھے، یہ سب سے پہلا فتویٰ تھا جو مولانا بٹالوی کی سعی و اہتمام سے مرتب اور شائع ہوا تھا(ص۔ی)

اس کے علاوہ بہاولپور کے جج اور راولپنڈی کے جج محمد اکبر صاحبان بھی تقسیم ملک سے پہلے اور بعد مرزائیوں کو کافر قرار دے چکے ہیں ۔ اور ان کے فیصلے کتابی شکل میں طبع ہو چکے ہیں اور پھر مزید براں یہ کہ پاکستان کی قومی اسمبلی بھی ستمبر 1947 ء میں مرزائیوں کی دونوں شاخوں کو کافر اور غیر مسلم قرار دے چکی ہے اور عالم اسلام نے بھی ان کو کافر قرار دے دیا ہے، لہذااندریں حالات مرزائیوں کے کسی گروہ کے کفر کے دلائل پیش کرنا تضیع اوقات کے سوا کچھ نہیں ۔ مختصر یہ کہ مرزائیوں کے دونوں ٹولے شرعا اور قانونا کافر اور مرتد وں کی ا ولاد ہیں ، اب نہ تو ان کے ساتھ مناکحت جائز ہے اور نہ ان کے ساتھ معاشرت اور خلا ملا جائز ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ہے کہ

﴿وَلا تُمسِكوا بِعِصَمِ الكَوافِ﴾ (الممتحنه :10)یعنی ’’کافرہ عورتوں کو نکاح میں نہ رکھو۔‘‘ اسی طرح یہ بھی حکم ہے کہ کافر شخص کو مسلمان عورت کارشتہ نہ دو۔ چنانچہ ارشاد ہے ولا تنکحو المشرکین  یعنی ’’مشرک (کافر) مردوں کو نکاح نہ دو۔‘‘

ان دونوں آیات شریفہ سے روز روشن کی طرح واضح ہے کہ مرزائیوں کے ساتھ مناکحت قطعا جائز نہیں اور جو شخص ان کے ساتھ مناکحت (رشتہ داری) کرتا ہے۔ وہ بہر حال کافر ہے، اس کے سعوی اسلام کا قطعا اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ وہ اپنے عمل سے قرآن مجید کی نصوص صریحہ کی تکذیب کر رہا ہے۔

اب رہا یہ کہ ایسے مرزائی کے لڑکے کی برات میں شرکت کرنا اور کھانا پینا تو واضح ہو کہ ان کی برات میں شرکت کرنا قطعا جائز نہیں کہ یہ بھی ان کی حوصلہ افزائی میں شامل ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں متعدد نصوص صریحہ میں کافروں ، یہودیوں اور عیسائیوں سے دوستی کرنے سے سختی کے ساتھ روک دیا گیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَتَّخِذُوا اليَهودَ وَالنَّصـٰر‌ىٰ أَولِياءَ ۘ بَعضُهُم أَولِياءُ بَعضٍ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِنكُم فَإِنَّهُ مِنهُم ۗ إِنَّ اللَّـهَ لا يَهدِى القَومَ الظّـٰلِمينَ  ﴿٥١﴾...سورة المائدة

کہ ’’ اے ایماندارو نہ دوستی اختیار کرو یہود و نصاری کے ساتھ وہ تو ایک دوسرے کے دوست ہیں ، اور جو شخص تم میں سے ان کے ساتھ دوستی کی پینگ بڑھائے گا تو وہ انہی میں سے ہو جائے گا۔ بے شک اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدائت نہیں دیتا۔‘‘

امام شوکانی اس آیت کی تفسیر میں رقمطراز ہیں کہ

الظاهر انه خطاب للمومنين حقيقة .........

پھر مزید لکھتے ہیں :

ووجه تعليل النهي بهذه الجملة(بعضهم أولياء بعض) أنها تقتضي أن هذه الموالاة هي شأن هؤلاء الكفار لا شأنكم، فلا تفعلوا ما هو من فعلهم فتكونوا مثلهم، ولهذا عقب هذه الجملة التعليلية بما هو كالنتيجة لها فقال: "ومن يتولهم منكم فإنه منهم" أي فإنه من جملتهم وفي عدادهم وهو وعيد شديد. (فتح الباری ج2ص 49)

کہ ’’اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو کافروں کی دوستی سے روک دیا ہے اور وجہ یہ بیا ن کی ہے کہ کافروں کے ساتھ دوستی کرنا کسی کافر کا کام ہے نہ کہ کسی مسلمان کا ۔ لہذا تم ان کے ساتھ دوستی اور ربط ضبط مت رکھو ورنہ تم بھی انہی کےحکم میں شامل ہو جاؤ گے۔‘‘

اور یہ دوستی ایسا کبیرہ گناہ ہے جو کہ کفر کی مسئلزم ہے۔

 ﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَتَّخِذوا ءاباءَكُم وَإِخوٰنَكُم أَولِياءَ إِنِ استَحَبُّوا الكُفرَ‌ عَلَى الإيمـٰنِ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِنكُم فَأُولـٰئِكَ هُمُ الظّـٰلِمونَ ﴿٢٣﴾...سورة التوبه

’’اے اہل ایمان ! نہ دوست رکھو تم اپنے باپوں کو اور اپنے بھائیوں کو اگر وہ کفر کو ایمان کے مقابلے میں پسند کریں اور تم میں جو شخص ان کو دوست رکھے گا تو ایسے لوگ ظالم ہیں ۔‘‘

(3) منافقین کے بارے میں فرمایا:

﴿فَأَعرِ‌ضوا عَنهُم ۖ إِنَّهُم رِ‌جسٌ ۖ وَمَأوىٰهُم جَهَنَّمُ ...﴿٩٥﴾...سورة التوبه

’’ پس تم ان سے منہ پھیر لو کہ وہ گندے اور پلید لوگ ہیں ۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔‘‘

امام محمد بن علی سو کابی ؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

قال لما رد النبى ﷺ قال للمومنين لاتكلموهم ولا تجالسوهم فاعرضوا عنهم كما امر الله . (تفسير فتح القدير ج2 ص 97)

سدی کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک سے واپس لوٹے تو منافقین جھوٹے عذر پیش کرنے لگے تو آپ ﷺ نے مومنوں کو  حکم دیا کہ تم ان منفقوں سے نہ بات کرو اور نہ ان کے ساتھ بیٹھو اٹھو بلکہ  ان سے منہ پھیر لو ۔‘‘

﴿فَإِنَّ اللَّـهَ لا يَر‌ضىٰ عَنِ القَومِ الفـٰسِقينَ ﴿٩٦﴾...سورة التوبه

’’پس بے شک اللہ تعالیٰ ان فاسقوں (منافقوں ) سے راضی نہیں ہو گا۔‘‘

مشہور مفسر سید معین الدین محمد بن عبدالرحمن شافعی المتوفیٰ 864ء لکھتے ہیں:

عن ابن عباس كانوا ثمانين من المنافقين امرنا حين قدمنا المدينة فاعرضوا عنهم كما امر الله. (جامع البيان 283)

کہ جنگ تبوک میں پیچھے رہ جانے والے منافقین کی تعداد اس افراد پر مشتمل تھی۔ جب ہم مدینہ میں پہنچے تو ہم کو حکم دیا گیا کہ ہم ان کے ساتھ گفتگو اور بیٹھنا اٹھنا بند کر دیں ۔

(5) امام ابن کثیر سورہ آل عمران کی آیت

﴿هُوَ الَّذى أَنزَلَ عَلَيكَ الكِتـٰبَ مِنهُ ءايـٰتٌ مُحكَمـٰتٌ هُنَّ أُمُّ الكِتـٰبِ وَأُخَرُ‌ مُتَشـٰبِهـٰتٌ ۖ فَأَمَّا الَّذينَ فى قُلوبِهِم زَيغٌ فَيَتَّبِعونَ ما تَشـٰبَهَ مِنهُ ابتِغاءَ الفِتنَةِ وَابتِغاءَ تَأويلِهِ ۗ وَما يَعلَمُ تَأويلَهُ...﴿٧﴾...سورة آل عمران

کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

«وعن عائشة رضي الله عنها  قالت: تلا رسول الله  صلى الله عليه وسلم  هذه الآيةَ: ﴿ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ ﴾ إلى قوله: ﴿ أُولُو الْأَلْبَابِ ﴾ قالت: قال رسول الله  صلى الله عليه وسلم  فإذا رأيت الذين يتَّبعون ما تشابه منه، فأولئك الذين سمَّى الله، فاحذرُوهم»(تفسیر ابن کثیر ج1ص 345)

’’حضرت عائشہ ؓفرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرما کر فرمایا کہ جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو متشابہ آیات کا پیچھا کرتے ہوں تو یہی وہ لوگ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جن کی مذمت کی ہے۔ لہذا تم ان کی مجلسوں سے بچو۔‘‘

مشہو ر اور نامور مفسر امام شو کانی لکھتے ہیں :

ولفظ ابن جرير وغيره الذين عنى الله فلا تجالسوهم (فتح القدير ج1 ص318،319)

کہ متشابہ آیات پر بحث کرنے والے ہی اللہ نے اس آیت میں مراد لئے ہیں ۔ لہذا تم ان گمراہوں کے ساتھ میل ملاپ اور بیٹھنا اٹھنا نہ رکھو۔

ان تصریحات سے معلون ہوا کہ مرزئیوں کے دونوں گروہوں سے رشتہ داری کرنا ، میل ملاپ رکھنا ۔ ان کی تقریبات میں شمولیت کرنا اور ان کی اقتدا میں نماز پڑھنا وغیرہ قطعا جائز نہیں ۔ ورنہ عذاب الہی کا خطرہ خارج از امکان نہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس خطرہ کا الارم بھی دے رکھا ہے۔ ملاحظہ ہو آیت

﴿قُل إِن كانَ ءاباؤُكُم وَأَبناؤُكُم وَإِخوٰنُكُم وَأَزوٰجُكُم وَعَشيرَ‌تُكُم وَأَموٰلٌ اقتَرَ‌فتُموها وَتِجـٰرَ‌ةٌ تَخشَونَ كَسادَها وَمَسـٰكِنُ تَر‌ضَونَها أَحَبَّ إِلَيكُم مِنَ اللَّـهِ وَرَ‌سولِهِ وَجِهادٍ فى سَبيلِهِ فَتَرَ‌بَّصوا حَتّىٰ يَأتِىَ اللَّـهُ بِأَمرِ‌هِ ۗ وَاللَّـهُ لا يَهدِى القَومَ الفـٰسِقينَ  ﴿٢٤﴾...سورة التوبه

لہذا ان لوگوں کی برات میں شمولیت سے باز رہنا ضروری اور ناگزیر امر ہے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہن سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص126

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ