سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(173) فطرانہ کی ادائیگی فرض ہے؟

  • 12144
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-27
  • مشاہدات : 1456

سوال

(173) فطرانہ کی ادائیگی فرض ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 میں کویت میں مقیم ہوں جبکہ میرے اہل خانہ پاکستان میں ہیں۔ کیا وہ میری طرف سے صدقہ فطر ادا کرسکتے ہیں اگر ادا کرسکتے ہیں تو کس حساب سے دیں گے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صدقہ فطر کے دو مقاصد ہیں: ایک تو روزوں کی تطہیر کا باعث ہے او ر دوسرا مساکین کی غذائی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ پہلے سبب کی وجہ سے صدقہ فطر روزے دار کے بدن کے تابع ہے یعنی جہاں وہ رہتا ہے وہ خود اپنی طرف سے صدقہ فطر ادا کرے۔ ہمارے نزدیک قیمت کی بجائے جنس سے اس کی ادائیگی ہونی چاہیے، کیونکہ محدثین کرام کا یہی موقف ہے۔ اگر اس نے قیمت ادا کرنی ہے تو ظاہر ہے جس ملک میں وہ رہائش پذیر ہے اسی ملک کی کرنسی کے مطابق وہ اس کی ادائیگی کرنے کا پابند ہے۔ البتہ یہ جائز ہے کہ اس کی طرف سے پاکستان میں رہنے والے اہل خانہ صدقہ فطر ادا کریں لیکن قیمت ادا کرتے وقت اس ملک کی کرنسی کا اعتبار کرنا ہو گا۔ جہاں وہ خود رہائش پذیر ہے۔ نیز اگر رہائشی ملک میں صدقہ فطر لینے والے مساکین نہیں ہیں تو اس صورت میں کسی دوسرے ملک میں رہنے والے اس کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرسکتے ہیں تاکہ وہاں کے مساکین کو دیا جاسکے۔ اسی طرح اگر کوئی دائمی بیمار یا بوڑھا اپنے روزوں کا فدیہ دینا چاہتا ہو تو اسے بھی چاہیے کہ اپنے ملک کے حساب سے اس کی ادائیگی کرے، مثلاً: پاکستان میں تقریباً1500/- روپے میں ایک ماہ تک دو ٹائم کا کھانا کھایا جاسکتا ہے، جبکہ کویت میں رہنے والے حضرات کم از کم تقریباً ایک دینار روزانہ کے حساب سے فدیہ ادا کریں گے۔ اسی طرح انہیں پاکستانی کرنسی میں تقریباً چھ ہزار روپے ادا کرنا ہوں گے۔ بہرحال دوسرے ممالک کے رہنے والے اس کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرسکتے ہیں اور انہیں فدیہ بھی دیا جاسکتا ہے۔لیکن اخراجات کے لئے اپنے اس ملک کی کرنسی کا اعتبار ہو گا جہاں وہ رہائش رکھے ہوئے ہے۔    [واللہ اعلم]

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:212

تبصرے