سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

باغ فدک سے محرومی پر حضرت فاطمۃالزہراء تا دم مرگ ناراض رہیں۔

  • 12132
  • تاریخ اشاعت : 2014-05-28
  • مشاہدات : 6510

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

باغ فدک سے محرومی پر حضرت فاطمۃالزہراء تا دم مرگ ناراض رہیں۔ فغضبت حتى توفيت  (بخاری)فاطمة بضمة منى من اغضبها اغضبنى(بخارى)  چنانچہ صغریٰ کبریٰ سے اللہ اور اس کے رسولﷺ کی ناراضی بھی ثابت ہوتی ہے ایسے اصحاب ثلاثہ بہشتی اور مغفور کیوں کر قرار پائے؟یا للعجب ، حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ شیخین کے حق میں کہتے تھے، كاذبا خائنا خاورا - جیسا کہ حضرت عمر ؓ نے خود اعتراف بھی کر لیا تھا(صحیح بخاری) لہٰذا آپ کے پاس کوئی صحیح جواب ہو تو تحریر کریں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اولاً یہ ہے کہ حضرت فاطمہؓ کی ناراضی والی حدیث تو حضرت علی ؓ کے بارے میں ہے۔«فاطمة بضمة منى فمن اغضبها فقداغضبنى» ص532 بخاری)پھر آپ کے درج شدہ الفاظ صحیح نہیں ہیں آپ نے« فغضبت حتى توفيت  كو فمن اغضبها فقداغضبنى» کے ساتھ ملا کر غضب کر دیا۔ آخری الفاظ تو حضرت علیؓ کے متعلق ہیںٌ پھر اس سے صغریٰ کبریٰ نکالتے ہوئے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو( معاذاللہ) اس کا مصداق قرار دیا ہے جو کہ سراسر ظلم ہےثانیاً بخاری شریف میں فغضبت حتى توفيت  کے ساتھ دوسرے الفاظ بھی ہیں جو یہ ہیں۔

«عن عائشة فقال لهما أبو بكر: سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول: لا نورث، ما تركناه صدقة، إنما يأكل آل محمد من هذا المال.قال أبو بكر: والله لا أدع أمراً رأيت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يصنعه فيه إلاّ صنعته.قال: فهجرته فاطمةعليها السلام فلم تكلّمه حتى ماتت» (بخارى شريف ص995، 996)

 اس روایت میں حضرت ابوبکرؓ کی معذرت اور اس کی دلیل جس کے بعد حضرت فاطمہ کا دوبارہ مطالبہ نہ کرنا صاف طور پر ذکر ہے اور فہجرت کا معنی یہ ہے کہ پھر جناب فاطمہؓ نے جناب ابوبکرؓ سے فدک کے معاملے پر ملاقات نہیں کی اور پھر چھ ماہ کے بعد اپنے ابا جی ﷺ کو جا ملیں اور بخاری کی دوسری حدیث میں وجدت کا لفظ بھی آیا ہے ۔ جس کا معنی ندمت اور حزنت ہے اس لیے اب معنی یوں ہو گا  کہ حضرت صدیقؓ سے آپ نے جب معقول جواب سنا تو اپنے دعوے پر نادم ہوئیں اور غضبت کا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ینہیں اپنے آپ پر غصہ آیا ہو۔

جواب2:۔ اغضاب اور غضب میں نمایاں فرق ہے۔ اغضاب کا معنی بلاوجہ ناراض کرنا ہوتا ہے لیکن حضرت ابونکر صدیقؓ نے تو حدیث’’ لا نورث، ما تركناه صدقة ‘‘ کی وجہ سے مجبوری کا اظہار فرما رہے ہیں اور حضرت ابوبکر صدیقؓ  کا یہ راست فیصلہ ومااتاكم الرسول فخذوه  کے عین مطابق تھا۔

بجرم عشق تو میکشند و غوغائیت      

تونیز سربام آکہ خوش تماشہ الیت

حضرت فاطمہ کی یہ ناراضگی اور رنجیدگی محض غلط فہمی کی بناء پر تھی اور اہل اللہ کی ایسی رنجیدگی جس کی بنیاد غلط فہمی پر ہو اس کا کوئی نتیجہ نکالنا صحیح نہیں ہوتا۔ ورنہ حضرت ہارونؑ پر حضرت موسیٰؑ ناراض ہو گئے تھے، تو کیا حضرت ہارونؑ مغضوب علیہ قرار پائیں گے؟ ہرگز ہرگز نہیں۔

جواب 3:حضرت فاطمہ ؓ اور حضرت ابوبکرؓ کی صلح ہو گئی تھی جیسا کہ بہیقی نے نقل کیا ہے۔

«روى البيهقي من طريق الشعبي أن أبا بكر عاد فاطمة فقال لها علي هذا أبو بكر يستأذن عليك قالت أتحب أن آذن له قال نعم فأذنت له فدخل عليها فترضاها حتى رضيت»(حاشیہ بخاری شریف ص532ص1)

’’حضرت ابوبکر ؓ نے حضرت فاطمہؓ کو راضی کر لیا اور وہ راضی ہو گئیں۔‘‘

علاوہ ازیں حضرت ابوبکر ؓ نے بقول شیعہ مصنف کے فدک بھی حضرت فاطمہ ؓ کو دے دیا۔( ملاحظہ ہو: اصول کافی ص 355 ) اور شیخ ابن مطہر جلی نے بھی منہاج الکرامہ میں اعتراف کیا ہے:

لما وعظت فاطمة ابابكر فى فدك – كتب لها كتابا وروها عليها   اور حجاج السالکین میں ہے:
فقالت : والله تفعلن فقال والله لأفعلن فقالت اللهم اشهد فرضيت بذالك وأخذت العهد عليه . (تحفه اثنا عشريه فارسى ص279)

 زلیخا نے کیا خود پاک دامن ماہ کنعاں کا

حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حجرت فاطمہؓ کو فدک کی تحریر لکھ دی تھی۔(جلاء العيون اردو ص 151)

حضرت علی ؓ پر ناراضگی:۔

جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے اس کے برعکس من اغضبها فقداغضبنى حضرت علیؓ کے حق میں وارد ہیں۔ جیسا کہ خود شیعہ لٹریچر میں موجود ہے۔ جلاءالعیون ص137 اور ص63،62مترجم اردو کو ملاحظہ کر لیا جائے۔حضرت امام صادق سے روایت ہے کہ حضرت علیؓ نے ابو جہل کی بیٹی(جمیلہؓ) سے نکاح کرنا چاہا۔ جناب فاطمہؓ ناراض ہو کر میکے چلی آئیں، حجرت نبیﷺ نے جناب امیر کو کہا کہ جاٴو ابوبکرؓ اور عمر ؓ کو بلا لاوٴ، پس جناب امیر گئے۔ ابوبکر و عمرؓ کو بلا لائے، جب نزدیک رسول خدا ہوئےتب آپﷺ نے ارشاد فرمایا: یاعلی! تم نہیں جانتے کہ فاطمہ میرے پارہ تن ہے اور میں فاطمہؓ سے جس نے اسے ایذاء دیا اس  نے مجھے ایذء دیا الخ۔ اور بالکل یہی واقعہ ہماری کتب احادیث میں بھی موجود ہے چنانچہ ترمذی شریف میں ہے۔

«عن عبد الله بن الزبير ، أن علياًً ذكر إبنة أبي جهل ، فبلغ النبي ، فقال  إنها فاطمة بضعة مني ، يؤذيني ما آذاها ، وينصبني ما أنصبه»ا  (ص549ج2)

حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت ھے کہ حضرت علیؓ نے ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہا تو جب آنحضرتﷺ کو اطلاع  پہنچی تو فرمایا کہ فاطمہؓ میرا گوشہ جگر ہے، جو چیز فاطمہؓ کو تکلیف دہ ہے وہ مجھے بھی تکلیف دہ ہے، جو چیز اس کیلیے بوجھ کا سبب ہے وہ میرے لیے بھی ہے۔(مسلم شريف ص290ج2)

اسی طرح شیعہ اصول کے مطابق تو صغریٰ کبریٰ جوڑ کر حضرت علیؓ کے حق میں بھی وہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے جو نتیجہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے حق میں نکالنے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے۔فرمائیے کیا آپ کے اصول کے مطابق حضرت علیؓ مغضوب علیہ ہو  گئے۔ یا للعجب۔ اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے  چراغ سے۔بحمدللہ ہمارے نزدیک لاریب حضرت علیؓ اپنے پیشروٴں کی طرح جنتی ہیں چوتھے درجہ اور چوتھے خلیفہ برحق تھے۔

خلفاء ثلاثہ مغفور اور جنتی ہیں:

خلفاء ثلاثہؓ کے جنتی ہونے پر دلائل یہ ہیں، چند آیات ملاحظہ ہوں:

﴿الَّذينَ آمَنوا وَهاجَر‌وا وَجاهَدوا في سَبيلِ اللَّـهِ بِأَموالِهِم وَأَنفُسِهِم أَعظَمُ دَرَ‌جَةً عِندَ اللَّـهِ ۚ وَأُولـٰئِكَ هُمُ الفائِزونَ * يُبَشِّرُ‌هُم رَ‌بُّهُم بِرَ‌حمَةٍ مِنهُ وَرِ‌ضوانٍ وَجَنّاتٍ لَهُم فيها نَعيمٌ مُقيمٌ ﴾(التوبه : 20تا 21)

’’جو ایمان لائے اور ہجرت کی اور جہاد کیااللہ کی راہ میں مالوں کے ساتھ اور جانوں کے ساتھ، یہی لوگ اللہ کے ہاں درجے میں بڑے ہیں اور یہی فلاح پانے والے ہیں۔ ان کا رب ان کو اپنی رحمت رضامندی اور جنت کی نوید سناتا ہے اور ان کے لیے اس جنت میں دائمی نعمتیں ہیں۔‘‘

﴿إِنَّ اللَّـهَ اشتَر‌ىٰ مِنَ المُؤمِنينَ أَنفُسَهُم وَأَموالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الجَنَّةَ ﴾ (التوبه :111)

’’اللہ تعالیٰ نے مومنین سے ان کی جانوں اور مالوں کو اپنی جنت کے عوض خرید لیا ہے۔‘‘

﴿أُولـٰئِكَ كَتَبَ في قُلوبِهِمُ الإيمانَ وَأَيَّدَهُم بِر‌وحٍ مِنهُ ۖ وَيُدخِلُهُم جَنّاتٍ تَجر‌ي مِن تَحتِهَا الأَنهارُ‌ خالِدينَ فيها ۚ رَ‌ضِيَ اللَّـهُ عَنهُم وَرَ‌ضوا عَنهُ أُولـٰئِكَ حِزبُ اللَّـهِ ۚ أَلا إِنَّ حِزبَ اللَّـهِ هُمُ المُفلِحونَ ﴾(المجادلہ : 22)

’’یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ نے جن کے دلوں کی تختیوں میں ایمان کندہ کر دیا ھے اور ان کی غائب سے تائید فرمائی ھے اور انہیں ایسی جنت میں داخل فرمائے گا جس کے نیچے نہریں چلتی ہیں اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ پر خوش ہو گئے یہی اللہ کی جماعت ہے اور خبردار اللہ کی جماعت ہی فلاح پانے والی ہے۔‘‘

﴿وَالسّابِقونَ الأَوَّلونَ مِنَ المُهاجِر‌ينَ وَالأَنصارِ‌ وَالَّذينَ اتَّبَعوهُم بِإِحسانٍ رَ‌ضِيَ اللَّـهُ عَنهُم وَرَ‌ضوا عَنهُ وَأَعَدَّ لَهُم جَنّاتٍ تَجر‌ي تَحتَهَا الأَنهارُ‌ خالِدينَ فيها أَبَدًا ۚ ذٰلِكَ الفَوزُ العَظيمُ﴾(التوبه :100)
﴿لـٰكِنِ الرَّ‌سولُ وَالَّذينَ آمَنوا مَعَهُ جاهَدوا بِأَموالِهِم وَأَنفُسِهِم ۚ وَأُولـٰئِكَ لَهُمُ الخَير‌اتُ ۖ وَأُولـٰئِكَ هُمُ المُفلِحونَ ﴾ (التوبه :88)

اور بھی ایسی بے شمار آیات قرآنیہ ہیں جن میں ان قدسیوں کے محامد و محاسن اور مناقب و فضائل کے تذکرے موجود ہیں۔ بلکہ خود شیعہ کی کتابیں بھی خلفاء ثلاثہ کے فضائل سے بھری پڑی ہیں چند حوالے نگارش کیے دیتا ہوںفروع کافی ص146ج3۔ تفسیر حسن عسکری ص231 تفسیر آیت غار تفسیر قمی ص 157 تفسیر آیت غار۔ کشف الغمہ 220 مطبوعہ ایران احتجاج طبرسی۔ مجمع البیان28 آية الذى بالصدق وغيره -

آخری بات اور اس کا جواب:

آخر میں جو یہ لکھا ہے کہ ’’ حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ شیخین کو کاذب،آثم، خائن اور غادر سمجھتے تھےاور حضرت عمرؓ نے  اس کا اعتراف بھی کر لیا تھا۔‘‘

اس کے جواب میں گزارش ہے کہ یہ بھی کم علمی کی دلیل ہے۔ حضرت عمرؓ نے اعتراف نہیں کیا بلکہ حضرت علی ؓ اور حضرت عباسؓ کو بطور تنبیہ ایسا فرما رہے ہیں کہ جو فیصلہ حضرت ابوبکرؓ نے آنحضرت ﷺ کے حکم کی تعمیل ماتركنا صدقة  صادر فرمایا اور میں نے اسی کو بحال رکھا، کیا تم لوگ مجھے اور حضرت ابوبکرؓ کو تعمیل ارشاد نبوی ﷺمیں کاذب، آثم ، غادر اور خائن سمجھتے ہو حالانکہ خدا جانتا ہے کہ میں اپنے موقف میں صادق ، بار، راشد اور متبع حق ہوں اصل الفاظ یہ ہیں۔ والله يعلم انى الصادق بار راشدتابع للحق ( صحيح مسلم ص91ج2)۔ یہ تو روزمرہ کا محاورہ ہے کہ جب کسی شریف آدمی کو ناکردہ  گناہ میں دھر لیا جاتا ہے تو وہ بطور استفہام اور استعجاب کے ایسے الفاظ استعمال کرتا ہے۔جیسے کسی کو چوری کا الزام دیا جائے تو وہ کہے گا کہ کیا تم مجھے چور سمجھتے ہو؟ اس کے کہنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ وہ اعتراف جرم کر رھا ہے بلکہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ جب تم جانتے ہو کہ میں ایسا ہرگز نہیں ہوں تو میرے متعلق تمہیں اسکا شبہ کیوں  گزرتا ہے؟فاعهم ولا تكن من المعائدين ، جناب والا اسی مسلم شریف میں ہے کہ جب حضرت ابوبکرؓ نے حضرت علیؓ کو ٹھوس جواب دے کر مطمئن کر دیا تو حضرت علی ؓ نے تمام رنجش اور خلش بھلا کر بیعت کر لی تھی اصل الفاظ یہ ہیں۔

«ثم قام على فعظم من حق ابى بكر وذكر فضيلته وسابقته ثم مضى الى ابى بكر فبايعه »(صحيح مسلم ص92ج2)

’’کیا حضرت علیؓ نے کاذب ،آثم اور غادر خائن کی بیعت کی تھی؟ جب وہ مل بیٹھے تھےتو آپ لوگوں کو کیوں اعتراض ہے؟ علاوہ ازیں ۔ مسلم شریف ج2 ص90 پر یہی الفاظ حضرت عباسؓ سے بھی مذکور ہیں جن کا حدف حضرت علی ؓ ہیں، حضرت عمر فاروقؓ کی عدالت میں حضرت عباسؓ و علیؓ دونوں پیش ہوتے ہیں۔ حضرت عباس ؓ ان القابات کے ساتھ حضرت علیؓ کے خلاف دعویٰ دائر کرتے ہیں

«فقال عباس ياامير المومنين !اقض بينى وبين هذا الكاذب الاثم الغادر الخائن »(مسلم ص90ج2بروايت مالك بن انس )
اب حضرت علیؓ کی طرف سے جو جواب ہو گا ہماری طرف سے حضرت فاروقؓ کے حض میں بھی قبول فرما لیا جائے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص113

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ