سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

کیا حضرت عمر حضرت علی کے داماد تھے؟

  • 12127
  • تاریخ اشاعت : 2014-05-28
  • مشاہدات : 9544

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا حضرت عمر ﷜ حضرت علی ﷜ کے داماد تھے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شیعہ سنی متنازعہ مسائل میں سے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ کیا سیدنا عمر فاروق ﷜ کو سیدنا علی ﷜ کی داماد کا شرف و اعزاز حاصل ہے ؟ علمائے اہل سنت کے نزدیک حضرت عمر ﷜ کو یہ شرف یقیناً حاصل ہے جب کہ آج کے شیعہ علماء اس شرف و قرابت کے قائل نہیں ، حالانکہ اکابر شیعہ علمائے کرام حضرت عمر ﷜ کے اس شرف وقرابت کو بہر نوع تسلیم کر چکے ہیں ۔ پیش نظر مقالہ میں اسی مختلف فیہ مسئلہ کاحل فریقین کی صحیح اور معتبر کتب کے حوالہ جات کےحوالہ جات کے ساتھ قارئین کرام کی خدمت میں محض اس لیے پیش کر رہا ہوں تاکہ حضرت عمر ﷜ کے اس شرف وقرابت کو تسلیم نہ کرنے والے حضرات اپنے رویہ پر ٹھنڈے دل و دماغ سے غور وفرما سکیں اور جدل و مخاصمت کی مچلتی ہوئی ہوا میں قدرے ٹھہراؤ پیدا ہو سکے ۔

﴿وَما ذٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزيزٍ  ٢٠﴾... سورة ابراهيم
﴿وَما تَوفيقى إِلّا بِاللَّ٨٨﴾...سورة هود
﴿إِن أُر‌يدُ إِلَّا الإِصلـٰحَ ٨٨﴾...سورة هود

حضرت ام كلثوم ( زينب صغرىٰ ) بنت علی ﷜ جوکہ سیدہ فاطمہ الزھراء ؓ بنت رسول اللہ ﷺ کی سب سے چھوٹی بیٹی تھیں بلاشبہ حضرت عمر فاروق ﷜ کی زوجہ محترمہ تھیں اور یہ ایسی حقیقت واقعیہ ہے کہ سنی محدثین کرام کے علاوہ خود شیعہ محدثین اور مؤرخین کو بھی اس حقیقت کا اقرار اوراعتراف ہے ۔

سنی کتب اور نکاح ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہا صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ ’’ثعلبہ بن ابی مالک کہتے ہیں کہ حضرت عمر ﷜ نے مدینہ کی عورتوں میں چادریں تقسیم کیں ۔ ایک عمدہ چادر بچ رہی ۔ ان کے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک نے کہا کہ حضرت ! آپ یہ چادر رسول اللہﷺ کی نواسی حضرت علی﷜ کی صاحبزادی ام کلثوم ؓ کو عنایت فرما دیجیے جو آپ کی بیوی ہیں ۔ الفاظ یہ ہیں : ياامير المؤمنين اعط هذا بيت رسول اللهﷺ التى عندك .امیر المؤمنین حضرت عمر ﷜ نے فرمایا : میری بیوی ام کلثوم کے مقابلہ میں بی بی ام سلیط اس چادر کی زیادہ مستحق ہیں ۔ وہ انصاری عورت تھیں انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی تھی ۔ امیر المؤمنین کہنے لگے : یہ بی بی ام سلیط ؓ جنگ احد میں پانی کی مشکیں اپنی کمر پر لاد لاد کر ہمارے لیے لاتی تھیں ۔ (بخاری : باب حمل النساء القرب الی الناس فی الغزو ج1 ص3)

شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ اس حدیث کی شرح میں اس حقیقت کو یوں بیان فرماتے ہیں :

كان عمر قد تزوج ام كلثوم بنت علي وامها فاطمه ولهذا قالوا لها بنت رسول الله وكانت قد ولدت له في حياته وهي اصغر بنات فاطمه. (فتح الباری شرح صحیح بخاری ، باب حمل النساء القرب الی الناس فی الغزو ص59)

کہ حضرت ام کلثوم امیر المومنین جناب عمر فاروق ﷜ کی بیوی تھیں ، ان کی والدہ محترمہ کانام فاطمہ بنت رسول اللہﷺ ہے ، اسی لیے لوگوں نے ان کو بنت رسول اللہﷺ کہا ، بی بی کلثوم ؓ رسول اللہ ﷺ کی حیات ہی میں پیدا ہوئی تھیں اوریہ حضرت فاطمہ ؓ الزھراء کی سب سے چھوٹی بیٹی تھیں ۔

نواب وحید الزمان ﷫ اس حدیث کی شرح میں رقم طراز ہیں : حضرت عمر ﷜ نے یہ چار حضرت ام کلثوم کو اس خیال سے نہ دی کہ ان کی بیوی تھیں اور  غیر عورت کو جس کا حق زیادہ تھا مقدم رکھا ۔ سبحان اللہ ۔ ( تیسیر الباری ج3ص 108)

علامہ کرمانی صحیح بخاری کی اس حدیث شرح میں لکھتے ہیں کہ ام کلثوم فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ کی بیٹی ہیں جو رسول اللہ کی حیات میں پیدا ہوئی تھیں ۔ امیر المومنین حضرت عمر ﷜ نے حضرت علی ﷜ سے اس محترمہ کار شتہ طلب کیا تو حضرت علی﷜ نے فرمایا : اگر آپ کومیری بیٹی پسند ہے تو میں نے اس کانکاح آ پ سے کر دیا۔ (کرمانی شرح البخاری حاشیہ صحیح البخاری ص403)

امیر المومنین فی الحدیث حضرت امام بخاری ﷫ کی اس صحیح حدیث کے بعد ہم کسی اور سنی کتاب کی تصریح اور حوالہ کی مزید ضرورت محسوس نہیں کرتے اور پھر مزید برآں شیخ الاسلام امام ابن حجر العسقلانی﷫ اور علامہ کرمانی کی صراحت کےبعد کسی قسم کی کوئی تشنگی باقی نہیں رہ جاتی ۔ تاہم اتمام حجت کےلیے اکابر شیعہ علماء کی کتب معتبرہ سے ایسے گیارہ دلائل پیش کیے دیتے ہیں  جن میں حضرت عمر فاروق﷜ کو حضرت علی ﷜ کا داماد تسلیم کیا گیا ہے ۔ لیجیے پڑھیے !

شیعہ محدثین اورمؤرخین کی کتب معتبرہ اور صحاح اربعہ

دلیل اول ( از فروع کافی) :

اس کتاب کے مؤلف اور شیعہ کے ثقہ الاسلام ابو جعفر بن یعقوب بن اسحاق کلینی الرازی المتوفی 328تا 329ھ اپنی اس کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں کہ میں نے اس کتاب کو امام غائب مہدی المنتظر پر پیش کیا تو انہوں نے فرمایا : ھذا کاف لشیعتنا یعنی اس پر مہر تصدیق ثبت فرمائی اور کہا کہ یہ کتاب ہمارے شیعوں کے لیے کافی ہے دوسری کتاب کی حاجت نہیں ۔

ملاخلیل شارح کافی اپنی کتاب الصافی شرح اصول کافی میں لکھتے ہیں : ’’ ہمارے علماء کی ایک جماعت کا کہنا یہ ہے کہ آثار صحیح اس پر دلالت کرتے ہیں کہ جوحدیث بھی کافی (اصول و خروع ) میں مروی ہے بالکل صحیح ہے ۔ ‘‘ (الصافی : ص36) ان دونوں وضاحتوں سے ثابت ہوا کہ شیعہ دنیا میں کافی ( اصول وفروع ) کو صحیح اور مستند کتاب اور اس کی احادیث کا انکار گویا امام کو جھٹلاتے کے مترادف ہے ، اور سنیوں کی صحیح البخاری کے پائے کی کتاب سمجھی جاتی ہے ، اس لیے ہم نے اس کتاب کے حوالہ جات کو مقدم رکھا ہے ۔ اب حوالہ جات ملاحظہ فرمائیے !

1۔ عن أبى عبد الله فى تزويج أم كلثوم فقال إن ذلك فرج غصبناه . ( فروع كافى باب تزويج ام كلثوم كتاب النكاح ج5ص 346)

امام جعفر صادق سے جب بى بى ام کلثوم زینت صغریٰ بنت علی ﷜ کے نکاح کے متعلق پوچھا گیا ( کہ اس کا نکاح حضرت عمر ﷜ سے کیسے ہو گیا ؟ تو فرمانےلگے کہ یہ ایک رشتہ ہم سے چھین لیا گیا تھا ۔

دلیل ثانی:۔

جناب جعفر صادق کا بیان ہے کہ جب حضرت عمر فاروق﷜ نے امیر المومنین علی ﷜ سے ام کلثوم بنت علی ﷜ کا رشتہ طلب فرمایا تو آپ نے جواب میں فرمایا: وہ ابھی جوان نہیں ہوئی تو اس جواب کے بعد حضرت عمر ﷜ نے حضرت عباس ﷜ بن عبدالمطلب سے ملاقات کی اور دریافت کیا کہ کیا میں بیمار ہوں؟ تو حضرت عباس ﷜ نے پوچھا : کیوں کیا بات ہے ؟ تو حضرت عمر ﷜ نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے آپ کو بھتیجے (علی﷜) سے ان کی بیٹی ام کلثوم کا رشتہ طلب کیا ہے ، انہوں نے انکار کر دیا ہے ۔ یاد رکھیے ! اگر اس نے میری فرمائش پوری نہ کی تو میں تم  سے آب زمزم کی انتظامی سربراہی واپس لے لوں گا اور تمہاری ایک ایک بزرگی ختم کر دوں گا اور علی ﷜ پر چوری کے دو گواہ قائم کر کے چوری کی حد میں اس کا داہناہاتھ کاٹ دوں گا تو حضرت عباس ﷜ نے حضرت علی ﷜ سے حضرت عمر﷜ کے جذبات کی اطلاع کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی دختر ام کلثوم کا نکاح کامعاملہ میرے سپرد کر دو تو حضرت علی ﷜ نےیہ معاملہ حضرت عباس ﷜ کے سپرد کر دیا ۔ ( فروع کافی : 5/ 346طبع دار الکتب الاسلامیہ طہران )

دلیل ثالث :۔

عن عبدالله بن سنان، ومعاوية ابن عمار، عن أبي عبدالله عليه السلام قال: سألته عن المرأة المتوفى عنها زوجها أتعتد في بيتها أو حيث شاء‌ت؟ قال: بل حيث شاء‌ت، إن عليا عليه السلام لما توفي عمر أتى أم كلثوم فأخذ بيدها فانطلق بها إلى بيته.

’’عبد اللہ بن سنان اور معاویہ بن عمار سے روایت ہے کہ ہم نے امام جعفر صادق سے یہ مسئلہ دریافت کیا کہ جب کسی عورت کا شوہر فوت ہو جائے تو وہ عدت وفات کہاں گزارے ؟ اپنے شوہر کے گھر بیٹھے یا جہاں چاہے گزارے ؟ تو آپ نے جواب میں فرمایا کہ جہاں چاہے بیٹھے ۔ کیونکہ جب داماد علی ﷜ حضرت عمر﷜شہید ہوگئے تو حضرت علی ﷜ اپنی بیٹی ام کلثوم کاہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے تھے ۔

دلیل رابع :۔

سلیمان بن خالد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جعفر بن صادق ﷜ سے پوچھا کہ بیوہ عورت عدت وفات كہاں پوری کرے ؟ اپنے شوہر کے گھر عدت پوری کرے یا جہاں چاہے بیٹھ سکتی ہے ؟ آپ نےمیرے جواب میں کہا :جہاں چاہے اپنی عدت پوری کرے اور اپنی اس رائے کو مدلل کرتے ہوئے فرمایا کہ جب حضرت عمر ﷜ فوت ہوئے تھے تو حضرت علی ﷜ اپنی دختر ام کلثوم ( زوجہ عمر ﷜ ) کے پاس تشریف لائے اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے تھے ۔ ( فروع کافی : کتاب الطلاق 6/ 116)

تبصرہ :قارئین کرام ! اس تعصب مذہبی کہیے گا یا سبائی ہاتھ کی صفائی کہ جب نکاح ام کلثوم کا دلائل قاطعہ اور براہین ساطعہ کی وجہ سے انکار نہ کر سکے تو حضرت علی ﷜ جیسے غیور اور جسور انسان کے بے بس اور مجبور محض ظاہر کر دیا ، گویا حضرت علی ﷜ جن کے بارے شیعہ حضرات لافتى إلا على ولاسيف إلا ذوالفقار  اور مولیٰ مشکل کشا کہتے نہیں تھکتے بصورت اکراہ و مجبوری اس نکاح کامعاملہ حضرت عباس ﷜ کو سونپ کر اپنی جان چھڑائی تھی ۔ سبائی حضرات اس حقیقت واضحہ کی کوئی بھی تاویل کریں مگر یہ حقیقت اپنی جگہ بہر حال اور بہر نوع قائم اور دائم ہے کہ حضرت عمر ﷜ حضرت علی ﷜ کے داماد اور بی بی ام کلثوم بنت علی ﷜ کے شوہر نامدار تھے ۔ مزید پڑھئے ۔ اللہ کی توفیق سے ہم دلائل اور براہین قاہرہ کی برکھا برسائے دیتے ہیں ۔؏

حجت تمام کرتے ہیں آسمان سے ہم

دلیل خامس:

شیخ الطائفہ ابو جعفر محمد بن جعفر طوسی متوفی 460ھ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’تہذیب الاحکام ‘‘ میں غیر مبہم الفاظ میں اعتراف کیا ہے کہ بی بی ام کلثوم بنت علی ﷜ جوسیدہ فاطمہ الزھراہ ؓ کے بطن سے تھیں حضرت عمر ﷜ کی زوجہ محترمہ تھیں۔

’’ عن عبدالله بن سنان، ومعاوية ابن عمار، عن أبي عبدالله عليه السلام قال: سألته عن المرأة المتوفى عنها زوجها أتعتد في بيتها أو حيث شاء‌ت؟ قال: بل حيث شاء‌ت، إن عليا عليه السلام لما توفي عمر أتى أم كلثوم فانطلق بها إلى بيته.‘‘( تهذيب الاحكام،كتاب النكاح)

عبد اللہ بن سنان اور معاویہ بن عمار سے ر وایت ہے کہ ہم نے امام جعفر صادق سے یہ مسئلہ دریافت کیا کہ جب کسی عورت کا شورہ فوت ہو جائے تو وہ عدت وفات کہاں گزارے ؟ اپنے شوہر کے گھر بیٹھے یا جہاں چاہے گزارے ؟ تو آپ نے جواب میں فرمایا کہ جہاں چاہے بیٹھے۔ کیونکہ جب داماد علی ﷜ حضرت عمر شہید ہو گئے تو حضرت علی ﷜ اپنی بیٹی ام کلثوم کاہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے تھے ۔

دلیل سادس :۔

عن سليمان بن خالد قال: سألت عنعبد الله  عن امرأة توفى زوجها أين تعتد في بيت زوجها تعتد أو حيث شاءت؟ قال: بل حيث شاءت ثم قال: إن علياعليه السلام لما مات عمر أتى أم كلثوم فأخذ بيدها فانطلق بها إلى بيته .(تهذيب الاحكام :حواله مذكوره )

’’سلیمان بن خالد کہتے کہ میں نے حضرت جعفر صادق سے پوچھا کہ بیوہ عورت عدت وفات کہاں پوری کرے ؟ اپنے شوہر کے گھر عدت پوری کرے یا جہاں چاہے بیٹھ سکتی ہے ؟ آپ نے میرے جواب میں کہا : جہاں چاہے اپنی عدت پوری کرے اور اپنی اس رائے کو مدلل کرتے ہوئے فرمایا کہ جب حضرت عمر ﷜ فوت ہوئے تھے تو حضرت علی ﷜ اپنی دختر ام کلثوم ( زوجہ عمر ﷜) کے پاس تشریف لائے اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے تھے ۔‘‘

ان دونوں روایات کا درجہ استناد:

فروع کافی کی روایات نمبر 3 ونمبر 4 کو ہم سے شیعہ کی صحاح اربعہ میں شامل کتاب ’’تہذیب الاحکا ‘‘ سے دوبارہ اس لیے نقل کیا ہے تاکہ قارئین کو ان روایتوں کے پائے کا علم ہو جائے کہ شیعی محدثین نے ان روایات کو صرف قبول ہی نہیں کیا بلکہ ان سے مسائل فقہیہ کا استخراج بھی کیا ہے تاکہ کسی شخص کو ان روایتوں کو کمزور یا ضعیف کہنے کی جرات ہی نہ ہو ، کیونکہ محدث اس روایت سے ہی مسئلہ اخذ کرتا ہے جس کو وہ صحیح سمجھتا ہے ، ضعیف اور کمزور روایت سے استدلال کی کوئی تک ہی نہیں ہوتی ۔ جب اصل اور مستدل ہی کمزور ہو تو فرع اور استدلال لامحالہ تار عنکبوت ہی ہو گا۔

دلیل سابع:۔

حضرت جعفر ﷫ اپنے والد حضرت باقر ﷫ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ام کلثوم بنت علی بن ابی طالب ﷢ اور اس کابیٹا زید بن عمر بن خطاب دونوں ماں بیٹا ایک ہی وقت فوت ہوےئ اور یہ علم نہ ہو سکا کہ ان دونوں سے میں سے کو ن پہلے فوت ہوا ! اور ان دونوں میں سے کوئی دوسرے کا وارث نہ بن سکا اور ان دونوں کی نماز جنازہ بھی اکٹھی پڑھی گئی ۔ (تهذيب الاحكام9/ 262۔263)

دیکھئے ! کتنے صاف اور کھلے الفاظ میں اقرار کیا گیا ہے کہ حضرت کلثوم بنت علی نہ صرف عمر فاروق﷜ کی زوجہ محترمہ تھیں بلکہ ان کے بطن سے ایک بیٹا بھی تولد ہوا جس کا نام زیدب ن عمر ﷜ تھا۔

دو روایتیں ( یعنی نمبر 3ونمبر 4 ) جناب ابوجعفر محمد بن حسن طوسی المتوفی 460ھ اپنی کتاب ’’ استبصار فیما اختلف من الاخبار ‘‘ میں بھی لائے ہیں ، یہ کتاب شیعہ کی صحاح اربعہ میں شمار ہوتی ہے ۔ مولف کے اس طرز عمل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ دونوں روایتیں ان کے نزدیک غایت درجہ کی صحیح ہیں ، ورنہ وہ ان کو بار بار نقل نہ کرتے ۔

دلیل ثامن :۔

عن عبدالله بن سنان، ومعاوية ابن عمار، عن أبي عبدالله عليه السلام قال: سألته عن المرأة المتوفى عنها زوجها تعتد في بيتها أو حيث شاء‌ت؟ قال: بل حيث شاء‌ت، إن عليا عليه السلام لما توفي عمر أتى إلىأم كلثوم فانطلق بها إلى بيته- (كتاب الاستبصار :باب المتوفى عنها زوجها ان تبيت عن منزلها ام لا –( ج3ص 302)

عبد اللہ بن سنان اور معاویہ بن عمار کہتے ہیں کہ ہم نے امام جعفر صادق سے دریافت کیا کہ بیوہ عورت اپنی عدت کہاں پوری کرے ؟ کیا ضروری ہے کہ وہ اپنے شوہر ہی کے گھر عدت پوری کرے ؟ کہا: جہاں چاہے عدت پوری کر سکتی ہے کیونکہ عمربن خطاب کی وفات پر حضرت علی ﷜ اپنی بیٹی ام کلثوم کو حضرت عمر کے گھر سے اپنے گھر لے آئے تھے ۔

دلیل تاسع:۔

عن سليمان بن خالد قال: سألت أبا عبد الله ع عن امرأة توفى زوجها أين تعتد في بيت زوجها تعتد أو حيث شاءت؟ قال: بلى حيث شاءت ثم قال: إن عليا ع لما مات عمر أتى أم كلثوم فأخذ بيدها فانطلق بها إلى بيته . (كتاب الاستبصار :باب المتوفى عنها زوجها ان تبيت عن منزلها ام لا –( ج3ص 302)

سلمان بن خالد کہتے ہیں کہ ہم نے امام جعفر صادق سے دریافت کیا کہ بیوہ عورت اپنی عدت کہاں پوری کرے ؟ کیا ضروری ہے کہ وہ اپنے شوہر ہی کے گھر عدت پوری کرے ؟ کہا: جہاں چاہے عدت پوری کر سکتی ہے کیونکہ عمر بن خطاب کی وفات پر حضرت علی ﷜ اپنی بیٹی ام کلثوم کو حضرت عمر کے گھر سے اپنے گھر لے آئے تھے ۔

دلیل عاشر :۔

قاضی نور اللہ شوستری شہید ثالث جو کہ گیارہویں صدی کے مشہور شیعہ مجتہد ہیں اپنی مایہ ناز کتاب مجالس المؤمنین میں فروع کافی کی دوسری روایت کو فارسی زبان میں یوں لکھتے ہیں :

درکتاب استغاثہ وغیرہ آں مسطور است کہ چوں عمر بن خطاب جہت ترویج خلافت فاسدہ خود داعیہ تزویج ام کلثوم دختر حضرت امیر نمودو آں حضرت جہت اقامت حجج مکررا اظہار بادامتناع نمود آخر عمر ﷜ عباس ﷜ راخود طلبید وسوگند ہوردہ گفت کہ اگر علی رابد امادی من راضی نمیسادی آنچہ در دفع او ممکن باشد خواہم کر د ومنصب سقایتا حج و زمزم را از تو خواہم گرفت عباس ملاحظہ نمود کہ اگر ایں نسبت واقع نشود آں فظ وغلیظ مرتکب چناں امر ناصواب خواہد شد ، امیر علیہ السلام التماس والحاح نمود کہ نکاح آں مطہرہ مظلومہ رابو تفویض نماید چوں مبالغہ عباس در آں با ب از حد گزشت آنحضرت از روئے اکراہ ساکت ستدند ، تا آنکہ عباس از خود ارتکاب ترویج اور نمود وجہت اطفاء نائرہ فتنہ اور راباں منافق ظاہر الاسلام عقدفرمود۔ (مجالس المومنین ج1 ص 182، کشف الاسرار ص39)

’’کتاب استغاثہ وغیرہ میں منقول ہے کہ جب عمر بن خطاب نے اپنی خلافت کو ترویج دینے کےلیے حضرت علی ﷜ کی بیٹی ام کلثوم کارشتہ طلب کیا تو آپ نے دوبارہ حجت قائم کرنے کےلیے اس سے انکار کر دیا ۔ آخر کارحضرت عمر ﷜ نے حضرت عباس ﷜ کو اپنے پاس بلایا اور قسم کھا کر کہا کہ اگر آپ نے حضرت علی ﷜ کو مجھے اپناداماد بنانے پر تیار نہ کیا تو مجھ سے جو کچھ ہو سکا کروں گا اور سقایہ حج اور زمزم کامنصب تجھ سے واپس لے لوں گا۔ جب حضرت عباس ﷜ نے یہ معلوم کر لیا کہ یہ سخت آدمی اس ناروامعاملہ کو اسی طرح کرے گا جیسا کہ وہ کہہ کر رہا ہے تو حضرت عباس﷜ نے حضرت علی﷜ کو چمٹ کر التماس کی کہ اس مطہرہ مظلومہ کے نکاح کا معاملہ اس کے ہاتہ دے دیں ۔ جب حضرت اس بارے میں حدسے گزر گئے تو حضرت علی ﷜ نے بصورت اکراہ خاموش اختیار کر لی یہاں تک کہ حضرت عباس ﷜ پھر اپنے آپ اس نکاح کے مرتکب ہوئے اور بھڑکنے والے فتنہ کی آگ کو بجھانے کی خاطر اس منافق ظاہر اسلام (عمر﷜) کے ساتھ عقد کیا ۔

قارئین کرام ! اندازہ فرمائیے قاضی نور اللہ شیعہ مجتہد نے کتنے زہریلے الفاظ میں اس نکاح کا اقرار کیا ہے اور حضرت علی﷜ کی رضامندی کو کتنی چابکدستی سے غتر بود کرنے کی کوشش کی ہے اور فاورق اعظم ﷜ پر کتنا ناپاک حملہ کیا ہے ایک طرف تو انہیں حضرت علی﷜ کی دامادگی کا شرف حاصل ہو رہا ہے اور دوسری طرف ان پر منافقت کا فتویٰ لگا کر فتنہ سبائیت کو ہوا دی جا رہی ہے اور تیسری طرف ام کلثوم کو مظلومہ اور مجبورہ ثابت کرکے حضرت عمر ﷜ سے نفرت ولائی جار ہی ہے ۔

خرد کانام جنوں رکھ دی جنوں کا خرد

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

اگر آپ تھوڑی سابھی غور فرمائیں گے تو آپ پر یہ راز کھل جائے گا کہ حب اہل بیت کا لبادہ اوڑھ کر اہل بیت سے کس قدر دشمنی کی جار ہی ہے اور ان کی غیرت کامذاق اڑایا جا رہا ہے ۔ ( العیاذ باللہ) وہ اتنے کمزور تھے کہ وہ اپنی بیٹیوں کی عزت کی حفاظت نہ کر سکتے تھآ ۔ جبکہ شیعی عقیدہ کےمطابق حضرت علی ﷜ مولیٰ مشکل کشا ہیں اور چودہ سو سال کے بعد ان کی مدد کر سکتے ہیں اور یاعلی مدد ان کا ورد بن چکا ہے جس کا آغاز عبد اللہ بن سباء نے کیا تھا ۔

خزاں کے ہاتھ سے گلشن میں خار تک  نہ رہا

بہار کیسی نشان بہار تک نہ رہا

دلیل احد عشر :

لیجیے ! ہم آپ کی خدمت میں پیش کیے دیتے ہیں ایسی روایت جو شیعہ کی معتبر تاریخ کتاب ناسخ التواریخ میں درج ہے جو نہ صرف قاضی نور اللہ کی اس دوہری پالیسی کی تردید کر رہی ہے بلکہ اس رشتہ کے معاملہ میں حضرت علی﷜ کی مکمل رضامندی کابھی کھلا ثبوت ہے ۔ وہ روایت حسب ذیل ہے :

’’حضرت علی ﷜ نےحضرت عمر﷜ سے اپنی بیٹی ام کلثووم کا نکاح بڑی خوشی سے خود کیا ، مہر وصول کیااور بیٹی کو اپنے شوہر عمر فاروق ﷜ کی اتباع کی وصیت فرمائی ۔‘‘ (ناسخ التواریخ ج2ص 296)

مزید برآں یہ کہ خود قاضی صاحب موصوف اپنی اس کتاب ’’مجالس المومنین ‘‘ میں ایک دوسرے مقام پر حضرت علی ﷜ کی اس مجبوری کا خود بھی ذکر نہیں کرتے ۔ فرماتے ہیں :

نبی اکرمﷺ نے اپنی بیٹی عثمان ﷜ کو دی اور علی ﷜ ولی نے اپنی بیٹی عمر ﷜ کو دی ۔ (مجالس المومنین ج1ص 204)

مناظر اسلام مولانا محمد صدیق بلوچ کا قول فیصل :۔

فرماتے ہیں چوتھی صدی کا محدث اعظم محمدبن یعقوب بن اسحاق کلینی رازی اپنی مایہ ناز کتاب ’’کافی ‘‘ میں دو مقام پر چار ہندسوں کے ساتھ اس واقعہ کو بیان کرے اور پانچویں صدی کا شیعی محدث علامہ ابوجعفر محمد بن حسن بن علی طوسی جس کو شیعی دنیا میں امام مسلم کا رتبہ حاصل ہے ، اپنی دونوں تصنیفوں میں اس روایت کو متعدد طرق سے نقل کرے ۔ اس بنا پر اس روایت کو درجہ تواتر کیوں حاصل نہ ہو گا ؟ حالانکہ شیعی اصول حدیث کی کتابوں میں اس سے کم درجہ کی اخبار کو درجہ تواتر میں شمار کیا گیا ہے ۔ دیکھیے ’’معالم الاصول ‘‘ میں منقول ہے :

(ترجمہ) ’’تواتر معنوی کا بیان ۔ بہت سی جنگیں کے واقعات کثرت سے آتے ہیں اور مختلف ہوتے ہیں لیکن ہر ایک خبر ان سے التزامی اور تضمنی کے اعتبار سے ایک ہی منتج ہوتی ہے اور ان سے ایک قدر مشترک کا علم حاصل ہو جاتا ہے اور ایسی خبر کانام ’’متواتر من جہت المعنی‘‘ رکھا جاتا ہے جیسا کہ حضرت علی﷜ امیر المومنین کے جنگی واقعات ہیں کہ آپ نے فلاں شخص کو غزوہ بدر میں اس طرح قتل کیا اور فلاں کے ساتھ احد میں یہ سلوک کیا وغیرہ وغیرہ ۔ پس یہ خبریں التزامی طور پر آپ کی شجاعت پر دلالت کرتی ہیں اگرچہ ان جزئیات سے کوئی شے بھی قطعی علم کے درجہ کو نہیں پہنچتی ۔ ‘‘ (معالم الاصول )

جب جنگی خبروں کو تواتر کا درجہ دیا جارہا ہے تو اس حدیث کو کیوں نہ درجہ تواتر حاصل ہو گا ؟ اور خبر متواتر سے علم یقینی حاصل ہوتا ہے اور اس کا انکار ناممکن ہے ، اسی لیے تو کتاب ’’مراۃ العقول شرح فروع واصول ‘‘ کےمصنف نے اس روایت کو منکرین پر تعجب کااظہار کیا ہے ، فرماتے ہیں :

تلك الأخبار وما سيأتي بأسانيد أن عليا عليه السلام لما توفي عمر أتى أم كلثوم فانطلق بها إلى بيته وغير ذلك مما أوردته في كتاب بحار الأنوار إنكار ذلك عجيب

یہ تمام حدیثیں اور جوبعد میں باسناد ذکر کی جائیں گی کہ جب حضرت عمر فاروق ﷜ فوت ہو گئے تو حضرت علی ﷜ ام کلثوم کے پاس آئے اور ان کو اپنے گھر لے گئے اس کے سوا جن روایات کو میں نے اپنی کتاب ’’ بحار الانوار ‘‘ میں ذکر کیا ہے ان کا انکار کرنا عجیب بات ہے ۔

حدیث متواتر سے انکار ناممکن ہے :۔

تکثیر اسناد کے ساتھ روایت کے بیان ہونے کےبعد اس سے انکار مشکل نہیں ناممکن ہوتا ہے ہے ، کیونکہ متواتر کے سچے ہونے اور واقع ہونے کی کوئی شک ہوتا ہی نہیں جیسا کہ ’’معالم الاصول ‘‘ میں متواتر کی تعریف میں لکھا ہے :

فالمتواتر هو خبر جماعة يفيد بنفسه العلم بصدقه ولاريب فى امكانة ووقوعه . (ص169)

یعنی متواتر وہ روایت ہے جسے ایک جماعت بیان کرے اور وہ بذات خود فائدہ علم یقینی کا دیتی ہے بلحاظ اپنے سچے ہونے کے ، اس کے وقوع اور امکان میں کسی قسم کے شک کی بھی گنجائش نہیں ہوتی ۔

کتاب ’’معالم الاصول ‘‘ شیعہ کےنزدیک اصول حدیث وفقہ کی یکتا کتاب ہے ۔ ان مذکورہ حدیثوں کی روشنی میں جو تعداد اسناد کے اعتبار سے حد تواتر کو پہنچ چکی ہیں انکار کرنا گویا شیعہ مذہب سے انکار کے مترادف ہے ۔

آ ‎پ متعجب ہوں گے کہ جب اتنی روایات صحیح موجود ہیں تو پھر شیعہ حضرات اس رشتہ کا انکار کیوں کرتےہیں؟ اصل بات وہی ہے جو ہم ابتدا میں ذکر کر آئے ہیں کہ جب عمر فاروق ﷜ کو داماد فاطمہ الزھراہؓ کا شرف حاصل ہو جاتا ہے تو پھر تمام شیعی اعتراضات جو خلیفہ ثانی عمر فاروق ﷜ پر کئے جاتے ہیں ان کی حقیقت ھباء منشورا کی سی رہ ہے اور تمام شیعی مذہب کا تارہ وپور بکھر کر رہ جاتا ہے اس لیے وہ اتنی بین روایات کے ہوتے ہوئے بھی اپنے بوسیدہ اعتراضات اور ہٹ دھرمی سے باز نہیں آتے اور میں نہ مانوں کی رٹ لگائے جاتے ہیں ، حالانکہ حضرت عمر ﷜ کو حضرت علی ﷜ و فاطمہؓ کا داماد تسلیم کرلینے سے شیعہ سنی اختلاف کی بنیاد ہی ختم ہو جاتی ہے ، حالانکہ حضرت عمر﷜ کو حضرت گہرے مراسم رکھتے اور یوں آپس میں شیرو شکر تھے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کو پکا مسلمان سمجھتے تھے۔ ورنہ حضرت علی ﷜ ایک منافق ، ظاہر الاسلام اور کافر سے اپنی صاحبزادی کانکاح کیوں کرتے ؟ اگر وہ حضرت علی ﷜ کے حقوق کے غاصب ہیں تو انہوں نے بایں قوت وحشمت اپنےبدترین دشمن کو شرف دامادی کیوں عطا کیا ؟ دراصل بات یہ ہے کہ حضرت عمر سبائی پروپیگنڈہ کا ہدف بنایا گیا ہے ، ورنہ ان کے مخلص مسلمان ہونے اور اسلام کی خدمات میں صحابہ کرام ﷢ یا اہل بیت کو کسی قسم کا انکار یا شک وشبہ نہ تھا ۔

ایک تاویل اور اس کا جواب :۔

شیعہ حضرات حضرت عمر فاروق کی دشمنی میں اس رشتہ کا انکار کرتے ہوئے اس کی یہ تاویل کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر ﷜نے حضرت علی﷜ سے ام کلثوم بنت علی ؓ کا رشتہ طلب کیا تھا تو حضرت علی ﷜ نے ایک جن عورت کو اپنی بیٹی ام کلثوم کی صورت میں ڈھال کر عمر ﷜ سے بیاہ دیا تھا ۔

جواب :اہل علم وتحقیق شیعہ علماء خود ایسی پوچ تاولوں کو مسترد کرتےہوئے اس حقیقی واقعہ کو کھلے دل اور شرح صدر کے ساتھ تسلیم کر چکے ہیں ۔ جیسا کہ ’’فروع کافی ‘‘ کے محشی علامہ علی اکبر غفاری دلیل اول کےحاشیہ میں اس رشتہ کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

ام كلثوم هذه هى بنت أمير المؤمنين عليه السلام قد خطبها إليه عمر فى زمن خلافته . (حاشيه فروع كافى : ج5 ص 436)

’’یہ بی بی ام کلثوم امیر المومنین علی بن ابی طالب ﷜ کی دختر ہیں اور حضرت عمر بن خطاب ﷜ نے اپنی خلافت میں اس بی بی کا رشتہ حضرت علی ﷜ سے طلب کیا تھا ۔‘‘

لیجئے جناب! اس پوچ تاویل کا بھانڈا بیچ چورا ہے کے پھوٹ گیا ۔

ہوا مدعی کا میرے حق میں فیصلہ اچھا

زلیخا نے کیا خود پاک دامن ماہ کنعاں کا

ایک اور تاویل اور اس کاجواب :-

ام کلثوم نامی عورت جس کانکاح حضرت عمر ﷜ سے ہوا وہ ابوبکر صدیق ﷜ کی بیٹی تھی ۔

جواب : اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق ﷜ کی دختر کانام بھی ام کلثوم تھا، مگر اس کا یہ مطلب ہرگز صحیح نہیں کہ حضرت علی﷜ کی بیٹی کانام ام کلثوم نہ تھااور پھر ’’تہذیب الاحکام ‘‘ کی وہ روایت جو پیش نظر مقالہ کی دلیل نمبر 7 میں

عن جعفر ، عن أبيه عليهما السلام قال : ماتت أم كلثوم بنت عليّ وابنها زيد بن عمر بن الخطاب في ساعة واحدة لا يُدرى أيّهما هلك قبل فلم يُورَّث أحدهما من الآخر وصُلِّي عليهما جميعاً.کی کیا تاویل کروگے؟ (ملاحظہ فرمائیے تہذیب الاحکام ، کتاب المیراث )

خلاصہ کلام یہ کہ رسیدہ ام کلثوم بنت علی ﷜ جوکہ سیدہ فاطمہ ؓ کےبطن سے تھیں اور رسول اللہ ﷺ کی نواسی تھیں ، بلاشبہ حضرت عمر فاروق﷜ سے بلاجبرو اکراہ بیاہی گئی تھیں اور ان کے بطن سے ایک لڑکا زید بن عمر بن خطاب﷜ پیدا ہوا تھا اور اس رشتہ کی روایت خود شیعہ علمائے اصول کے نزدیک متواتر ہے اور متواتر روایت کا انکار بڑی جسارت ہے اور مذہب شیعہ سے انکار کے مترادف ہے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص84

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ