سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(142) نمازِ تسبیح اور وتروں کی دعا

  • 12097
  • تاریخ اشاعت : 2014-05-25
  • مشاہدات : 615

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کتاب و سنت کے حوالے سے مندرجہ ذیل سوالات کے جواب درکار ہیں :

٭نماز تسبیح باجماعت اداکرنی چاہیے یا انفرادی طورپر وضاحت کریں۔

٭وتروں میں دعائے قنوت ہاتھ اٹھا کرمانگیں یا ہاتھ باندھ کر یا چھوڑ کرتفصیل سے لکھیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

رسول اللہﷺ نے اپنے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب ؓ کو نماز تسبیح پڑھنے کی ترغیب دلائی کہ اسے آپ روزانہ ادا کریں یا ہفتہ میں ایک مرتبہ اگر ایسا ممکن نہ ہوتو مہینہ میں ایک مرتبہ یا سال میں ایک بار،اگر ایسا نہ کرسکتے ہوں تو کم ازکم زندگی میں ایک مرتبہ ضرور پڑھیں۔(ابوداؤد،التطوع:۱۲۹۷)

حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ  یہ حدیث کثر ت طرق کی بنا پر حسن درجہ کی ہے لیکن اس نماز کو باجماعت ادا کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے ،اس لئے نماز تسبیح پڑھنے والے کو چاہیے کہ پہلے اس کا طریقہ سیکھے،پھرتنہائی میں اسے اکیلا پڑھے۔ ہمارے ہاں یہ رویہ انتہائی افسوس ناک ہے کہ فرض نمازوں پر توجہ نہیں دی جاتی ہے،البتہ نماز تسبیح ادا کرنے  کے لئے بے قراری اور بے تابی  کی کیفیت رہتی ہے۔ فرض نمازوں کی پابندی کرنے والوں کے لئے نماز تسبیح بہت فائدہ مندہے۔

*قنوت وتر میں ہاتھ اٹھانے کےمتعلق کوئی مرفوع روایت کتب حدیث میں مروی نہیں ہے، البتہ حضرت عبداللہ بن مسعود،حضرت ابن عباس اور حضرت ابوہریرہؓ سے نماز وترمیں قنوت کےوقت ہاتھ اٹھاناثابت ہے،جیسا کہ امام مروزیؒ نے قیام اللیل میں ذکر کیا ہے۔(مختصر قیام اللیل،ص:۲۳۰)

اسی طرح مصنف ابن ابی شیبہ میں بھی آثار ملتے ہیں ۔ا س سلسلہ میں دو حنبل القدرائمہ حدیث کا مناظر ہ بھی قابل ملاحظہ ہے ۔امام ابو حاتم رازی ؒ کا بیان ہے کہ مجھے ایک  مرتبہ امام ابوزرعہ ؒ نے فرمایا کہ آپ  قنوت وترمیں ہاتھ اٹھاتے ہیں؟میں نے کہا:نہیں ،پھر میں نے سوال کیا کہ آپ اٹھاتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ ہاں،میں تواٹھاتا ہوں۔امام ابو حاتم ؒ نے اس کی دلیل پوچھی تو آپ نے فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث جس میں ہے کہ وہ یعنی حضرت عبداللہ بن مسعودؓ قنوت وتر میں ہاتھ اٹھاتے ہیں۔ اس پر امام ابوحاتم نے کہا ا س روایت کو نقل کرنے والے لیث بن ابی سلیم ہیں۔(جو محدثین کےہاں ثقہ نہیں ہیں )امام ابوزرعہ ؒ کہنے لگے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ کا عمل بھی قنوت وتر میں ہاتھ اٹھانے کا ہے امام ابوحاتم ؒ نے اس کا جواب دیا کہ اس میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے  جو قابل اعتبار نہیں ۔امام ابوزرعہؒ کہنے لگے حضرت ابن عباس ؓ کا عمل ہمارے لئے حجت ہے امام ابوحاتم ؒ فرمانے لگے:اسے تو عوف بن ابی جمیلہ نے بیا ن کیا ہے۔جو محدثین کے ہاں ناقابل اعتبار ہے امام ابوزرعہؒ نے فرمایا:تمہارے پاس ہاتھ نہ اٹھانے کی کیا دلیل ہے۔امام ابو حاتم ؒ نے فرمایا حضرت انس ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ دعائے استسقاء کے علاوہ دیگر کسی مقام پر ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔ یہ جواب سن کر امام ابوزرعہؒ خاموش ہوگئے۔ (تاریخ بغداد،ص:۷۶،ج۲)

ہمارے نزدیک اس مسئلہ  میں توسیع ہے ہاتھ اٹھا کر یا ہاتھ اٹھائے بغیر دونوں طرح سے دعا مانگی جاسکتی ہے،البتہ تکبیر تحریمہ کی طرح ہاتھ اٹھانا ،پھر باندھ لینا محل نظر ہے۔ (واللہ اعمل بالصواب)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:178

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ