سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(130) عیدین کی نماز کا وقت کتاب وسنت کی روشنی میں

  • 12085
  • تاریخ اشاعت : 2014-05-25
  • مشاہدات : 1539

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بیشتر احباب عیدین کی نماز کے متعلق پوچھتے ہیں کہ کتاب وسنت کی روشنی میں اس کا وقت کیا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

امام بخاریؒ نے اپنی صحیح میں نماز عیدین کےمتعلق ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے‘‘عید کےلئے صبح سویرے جانا۔’’پھر انہوں نے ایک معلق روایت کا حوالہ دیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن بسرؓ نے فرمایا  کہ ‘‘ہم نماز عید سے اس وقت فارغ ہوجاتے تھے جب وقت تسبیح ،یعنی نفل پڑھنا جائز ہوجاتا ہے۔ ’’ (صحیح بخاری،کتاب العیدین :۱۰)

اس معلق روایت کو امام ابوداؤد نے اپنی مکمل سند کے ساتھ ذرا تفصیل سے بیان کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن بسرؓ جب لوگوں کے ہمراہ نماز عید پڑھنے گئے تو امام نے عید  پڑھانے میں دیر کردی،آپ نے اس تاخیر کا شدت سے انکار کرتے ہوئے فرمایا:‘‘ہم تو (عہد نبوی)میں اس وقت نماز عید سے فارغ ہوجاتے  تھے۔’’اس وقت چاشت کا وقت تھا۔ (ابوداؤد،الصلوٰۃ:۱۱۳۵)

طبرانی میں ہے یہ اشراق کا وقت تھا۔ (عمدۃ القاری،ص:۱۸۱،ج۵)

امام بخاریؒ نے اس سلسلہ  میں دوسری حدیث بیان کی  ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :‘‘اس دن ہمارا پہلا کام نماز پڑھنا ،پھر قربانی کرنا ہے،جس نے ایسا کیا اس نے ہماری سنت کو پالیا۔’’(صحیح بخاری،العیدین:۹۶۸)

حافظ ابن حجر ؒ بیان کرتے ہیں کہ اس دن کے آغاز میں نماز عید کی تیاری کےلئے اور کسی چیز میں مصروف نہیں ہوناچاہیے،تیاری کے بعد جلدی روانہ ہوناچاہیے،یہ اس بات کا متقاضی ہے کہ نماز عید کے لئے جلدی کرنا چاہیے۔ (فتح الباری،ص:۵۸۹،ج۲)

ان احادیث کا تقاضا ہے ہے کہ نماز عید طلوع آفتاب سےپہلے نہیں پڑھی جاسکتی ہے اور نہ ہی  عین طلوع کے وقت پڑھنا چاہیے کیونکہ یہ کراہت  کے اوقات ہیں۔طلوع آفتاب کے بعد جب نوافل پڑھنےکا وقت ہوتا ہے تو نمازعید کے وقت کا آغاز ہوجاتا ہ ۔شارح بخاری بن بطال نے اس پر فقہا کا اجماع نقل کیا ہے۔ (شرح بخاری،ابن بطال،ص:۵۶۰،ج۲)

نمازعید کا آخری وقت زوال آفتاب ہے،جیسا کہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہﷺ کو ایک مرتبہ زوال آفتاب کے بعد چاند نظر آنے کی اطلاع ملی تو آپ نےفرمایا:‘‘تمام لوگ کل صبح نماز عید کےلئے عید گاہ پہنچیں۔ ’’ (ابوداؤد،الصلوٰۃ:۱۱۵۷)

اگر اس وقت نمازعید پڑھنے کی گنجائش ہوتی تو آپ اسے کل آیندہ تک مؤخر نہ کرتے ،اس کا واضح نتیجہ یہ ہے کہ نماز عید کا آخری وقت زوال آفتاب تک ہے۔ نماز عید کے متعلق صحابہ کرامؓ و تابعین ؒ کا طرزعمل حسب ذیل ہے:

حضرت عبداللہ بن عمرؓ نماز فجر پڑھتے ،پھر اس حالت میں عید گاہ چلے جاتے ،حضرت سعید بن مسیب بھی ایسا کرتے  تھے۔حضرت رافع بن خدیج ؓ اپنے بیٹوں سمیت کپڑے وغیرہ پہن کر تیاری کرکے مسجد کی طرف چلے جاتے نما زفجر پڑھ کر وہیں بیٹھے رہتے،جب طلوع آفتاب ہوجاتا تو چاشت کےدو نفل پڑھ کر عید پڑھنے کےلئے عید گاہ چلے جاتے۔حضرت عروہ بن زبیرؓ دن چڑھے عیدگاہ جاتے۔ حضرت امام مالک ؒ بھی عید پڑھنے کےلئے اپنے گھر سےدن چڑھے روانہ ہوتے تھے۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ جب سورج خوب روشن ہوجائے تو عیدگاہ جاناچاہیے،البتہ عیدالفطر اس سےکچھ وقت پہلے پڑھ لی جائے،یہ تمام آثار (عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری،ص:۱۸۲،ج۵)سےنقل کیے گئے ہیں۔ اس سلسلہ میں حضرت جندب ؓ سے مروی ہےکہ رسول اللہﷺ عیدالفطر اس وقت پڑھتے تھے جب سورج دونیزے کےبرابر ہوجاتا، اور نماز عید الاضحیٰ اس وقت پڑھتے جب سورج ایک نیزے  کےبرابر ہوجاتا۔ (تلخیص ،ص:۱۲۷،ج۲)

لیکن اس کی سند میں معلیٰ بن ہلال نامی راوی کذاب ہے، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے۔ (تمام المنتہ،ص:۳۴۷)

ان روایات و آثار سے یہ معلوم ہوتا ہےکہ  عید پڑھنے کا وقت طلوع آفتاب کے بعد ہے اور چاشت کا وقت سورج کے ایک نیزے بلند ہونے پر ہوجاتا ہے،بلاوجہ اس میں تاخیر کرنا درست نہیں ہے۔صحابہ کرامؓ اس تاخیر پر انکار کرتے تھے عید الاضحیٰ کے دن قربانی کرنی ہوتی ہے ،اس لئے اسے عید الفطر سے پہلے پڑھنے میں چنداں حرج نہیں ہے،امام شافعیؒ نے ایک مرسل رویات نقل کی ہے کہ رسول اللہﷺ نے نجران میں تعینات حضرت عمرو بن حزم ؓ کو خط لکھا تھا کہ عید الاضحیٰ جلدی پڑھاکرو اور عید الفطر کچھ تاخیر سے ادا کرو۔ (بدائع المنن،ص:۲۷۲،ج۲)

لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔ (الروضۃ الندیہ،ص:۳۶۵،ج۱)

آج کل گھڑیوں کا دور ہے،اس لئے ہمیں دورحاضر کےمطابق گھڑیوں کا حساب لگانا ہوگا۔محکمۂ موسمیات کی تصریحات کےمطابق طلوع فجر سے لے کر طلوع آفتاب تک تقریباًڈیڑھ گھنٹے کا وقفہ ہوتا ہے،اس کا مطلب یہ ہےکہ اگر صبح کی اذان پانچ بجے ہوتو تقریباً ساڑھے چھ بجے سورج طلوع ہوگا،چاشت کا وقت طلوع آفتاب کے تقریباً آدھے  گھنٹے بعد شروع ہوجاتا ہے،ضرورت کے پیش نظر اس میں مزید کچھ تاخیر کی جاسکتی ہے ،اس لئے حضرت عبداللہ بن بسرؓ کی تصریح کےمطابق نماز عید کا وقت نماز چاشت کےوقت ہوتا ہے ۔ اس لئے ہمارے نزدیک لاہور کے اوقات کےمطابق نماز عید کا وقت  سات،ساڑھے سات بجے شروع ہوجاتا ہے،ہمیں چاہیے کہ اس کی تیاری پہلے سے کررکھیں ،اگر طلوع آفتاب کے بعد اس کی تیاری کا آغاز کیا تو نماز عید کا وقت فضیلت نہیں مل سکے گا ،البتہ جو از کا وقت زوال آفتاب تک ممتد ہے،اب یہ ہماری ہمت ہے کہ ہم نے عید کےلئے وقت فضیلت کا انتخاب کرنا ہے یا وقت جواز کا سہارا لینا ہے۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:163

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ