سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(119) دعائے استفتاح

  • 12074
  • تاریخ اشاعت : 2014-05-25
  • مشاہدات : 319

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہم نماز کی ابتدا میں دعائے استفتاح کے طورپر "سبحانك اللھم وبحمدك۔۔۔۔الخ"پڑھتے چلے آرہے ہیں مگر آج کل کسی عالم نے بتایا کہ یہ دعا صحیح نہیں  ہے بلکہ "اللھم باعد بینی و بین خطا یای۔۔۔۔۔الخ"پڑھنی چاہیے۔اس کے متعلق راہنمائی فرمائیں کہ ہم کونسی دعا پڑھیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مذکورہ دعائے استفتاح متعدد صحابہ کرامؓ سے مرفوعاً وموقوفاًمروی ہے کہ محدثین کرام نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔حضرت عائشہ ؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ جب نماز کا آغاز کرتے تو مذکورہ دعا پڑھتے ۔(ابوداؤد،الصلوٰۃ ۷۷۶،ترمذی ،الصلوٰۃ :۲۴۳،ابن ماجہ ،اقامۃ الصلوٰات :۸۰۶)

امام حاکم ؒ نے اسے روایت کیا ہے اور علامہ ذہبی ؒ نے اسے صحیح قراردیا ہے۔ (مستدرک :۲۳۵/۱)

لیکن اس کی سند میں راوی حارثہ ہے جس کے متعلق علمائے جرح و تعدیل نے کلام کیا ہے مگر اس حدیث کی ایک دوسری سند سے اسے تقویت پہنچتی ہے۔ (دارقطنی ،حدیث نمبر:۱۱۲۸)

علامہ البانیؒ لکھتے ہیں کہ یہ سند منقطع ہونے کےباوجود پہلی حدیث کےلئے بہترین مؤید ہے۔ اس بنا پر یہ روایت درجہ حسن تک پہچ جاتی ہے۔اگر اس کے ساتھ حضرت ابوسعید خدری ؓ کی حدیث کو ملادیا جائے تو درجہ صحت تک پہنچ جاتی ہے۔ (ارواء الغلیل :۵۰۲/۲)

٭حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ جب رات کے وقت نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہہ کر مذکورہ دعاپڑھتے تھے۔ (نسائی:۱۳۲/۲،دارمی:۲۸۲/۱،مسند امام احمد:۵۰/۳)

شیخ احمدشاکرؒ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے (تحقیق ترمذی ،ص:۱۱،ج ۲)

البانی ؒ نے اس روایت کو حسن قرار دیا ہے۔ (ارواءالغلیل ،ص:۵۳،ج۲)

٭حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسو ل اللہﷺ جب نماز شروع کرتے تو اللہ اکبر کہتے ،پھر اپنے ہاتھوں کو کانوں تک اٹھاتے اس کے بعد مذکورہ دعاپڑھتے ۔ (دارقطنی،حدیث نمبر:۱۱۳۵)

اس حدیث ِانس ؓ کو امام طبرانیؒ نے بھی بیان کیا ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے۔

٭حضرت جابر ؓ سے بھی مرفوعاً یہ دعا مروی ہے لیکن اس کے بعد ‘‘وجھت وجھی للذی’’کا بھی ذکر ہے۔ (بیہقی:۳۵/۱)

حضرت عمرؓ سے موقوفاً یہ دعا پڑھنا منقول ہے۔ (صحیح مسلم،الصلوٰۃ :۸۹۲)

لیکن مسلم کی روایت میں انقطاع ہے ،کیونکہ اس میں ایک راوی عبدہ ہے جس نے حضرت عمرؓ سے نہیں سنا ہے لیکن امام دارقطنی ؒ نے یہ موقوف روایت متعدد اسانید سے موصولاً بیان کی ہے۔ (دارقطنی :۱۱۳۳تا۱۱۳۰)

دارقطنی ؒ نے حضرت عمرؓ سےاس روایت کو مرفوعاً بھی بیا ن کیا ہ ،تاہم وضاحت کردی ہے کہ اس کا موقوف ہوناصحیح ہے۔ (دارقطنی۱۱۲۹)

اس روایت کے پیش نظر بہتر ہے کہ صحیحین کی روایت کے مطابق نماز کے آغاز میں ‘‘اللھم باعدبینی’’پڑھی جائے لیکن اگر کوئی سہولت کے پیش نظر ‘‘سبحانک اللھم وبحمدک’’پڑھتا ہے تو یہ بھی صحیح ہے۔متعدد محدثین کرام نے مجموعی طورپر مذکورہ بالا روایت کو صحیح اور قابل حجت قرار دیا ہے۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

 

فتاوی اصحاب الحدیث

جلد:2 صفحہ:151

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ