سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(398) کس عذر کی وجہ سے روزہ چھوڑنا جائز ہے؟

  • 1200
  • تاریخ اشاعت : 2024-02-22
  • مشاہدات : 1703

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

وہ کون سے عذر ہیں جن کی وجہ سے روزہ چھوڑنا جائز ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

وہ عذر جن کی وجہ سے روزہ چھوڑنا جائز ہے، مرض اور سفر ہیں جیسا کہ قرآن مجید میں آتا ہے۔ اسی طرح ایک عذر یہ بھی ہے کہ عورت حاملہ ہو اور روزہ رکھنے کی صورت میں اسے اپنے یا اپنے بچے کے بارے میں خطرہ ہو۔ اسی طرح وہ عورت بھی معذور ہے جو بچے کو دودھ پلاتی ہو اور روزے کی صورت میں اسے اپنے یا اپنے بچے کے بارے میں خطرہ ہو۔ اسی طرح یہ عذر بھی قابل قبول ہے کہ کوئی انسان کسی معصوم کو تباہی سے بچانے کے لیے روزہ چھوڑنے پر مجبور ہو، مثلاً: وہ دیکھے کہ ایک شخص دریا میں ڈوب رہا ہے یا ایک شخص ایسی عمارت میں پھنسا ہوا ہے جس کو آگ لگ گئی ہے اور وہ اسے بچانے کے لیے روزہ چھوڑنے پر مجبور ہو تو اس کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اس کی جان بچانے کے لیے روزہ چھوڑ دے اسی طرح جہاد فی سبیل اللہ کے لیے طاقت و قوت کی خاطر بھی روزہ چھوڑنا جائز ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے فتح مکہ کے موقع پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا تھا:

«إِنَّکُم لاقواالعدوغدا،والفطرأقوی لکم فأفطرواْ» (صحيح مسلم، الصيام، باب اجر المفطر فی السفر اذا تولی العمل، ح: ۱۱۲۰)

’’تم لوگ کل دشمن سے برسرپیکارہوگے لہذاروزہ نہ رکھنا تمہارے لیے موجب قوت ہے۔‘‘

اس لئے جب کوئی ایسا سبب موجود ہو جس کی وجہ سے روزہ چھوڑنا جائز ہو اور انسان اس عذر کی وجہ سے روزہ چھوڑ دے، تو دن کے باقی حصے میں اس کے لیے کھانے پینے وغیرہ سے رکنا لازم نہ ہوگا، مثلاً: اگر ایک شخص نے کسی معصوم کو ہلاکت سے بچانے کے لیے روزہ توڑا تو وہ اسے بچانے کے بعد بھی روزے کو چھوڑے رکھے گا کیونکہ روزہ اس نے ایک جائز سبب سے توڑا تھا، اس لئے باقی دن کھانے پینے سے رکنا اس کے لیے لازم نہیں ہوگا یہ روزہ توڑنے کے جائز سبب کی وجہ سے اس کے لیے اس دن کی حرمت زائل ہوگئی، لہٰذا اس مسئلہ میں راجح قول کی بنیاد پر ہم یہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی مریض دن کے وقت صحت یاب ہو جائے اور اس نے روز انہ رکھاہو تو اس کے لیے کھانے پینے سے رکنا لازم نہ ہوگا اور اگر حائضہ دن کو پاک ہو جائے تو اس کے لیے بھی دن کے باقی حصے میں کھانے پینے سے رکنا لازم نہیں ہے، کیونکہ ان سب لوگوں نے جائز سبب کی وجہ سے روزہ توڑا تھا۔ ان کے حق میں اس دن روزے کی حرمت نہیں ہوگی کیونکہ شریعت نے ان کے لیے روزہ توڑ دینے کو جائز قرار دیا ہے، لہٰذا ان کے لیے کھانا پینا ترک کرنا لازم نہیں ہے۔ اس کے برعکس اگر دن کے وقت ماہ رمضان کے آغاز کا علم ہو جائے تو پھر باقی سارا دن کھانا پینا چھوڑ دینا لازم ہے مذکورہ دونوں صورتوں میں فرق لازم ہے کیونکہ دن کے وقت جب دلیل کے ساتھ رمضان کا آغاز ثابت ہوگیا، تو اس دن ان کے لیے کھانے پینے سے رکنا واجب ہے کیونکہ دلیل قائم ہونے سے قبل جہالت کی وجہ سے وہ معذور تھے۔ اس لیے اگر انہیں یہ معلوم ہو جائے کہ آج رمضان ہے، تو ان کے لیے کھانے پینے سے رکنا لازم ہوگا لیکن دوسرے لوگ جن کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے، ان کے لیے علم کے باوجود روزہ چھوڑنا جائز ہے اس طرح دونوں صورتوں میں فرق عیاں ہوجاتا ہے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ ارکان اسلام

عقائد کے مسائل: صفحہ372

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ