سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(42) قرآن کو بلا وضو ہاتھ لگانا

  • 11994
  • تاریخ اشاعت : 2014-05-24
  • مشاہدات : 461

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
«لا یمسه الا المطھرون»اس آیت کریمہ کے پیش نظر کیا قرآن پاک کو بلاوضو ہاتھ لگایا جاسکتا ہے یا نہیں کتاب و سنت کے مطابق جواب دیں؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

«لا یمسه الا المطھرون»اس آیت کریمہ کے پیش نظر کیا قرآن پاک کو بلاوضو ہاتھ لگایا جاسکتا ہے یا نہیں کتاب و سنت کے مطابق جواب دیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سوال میں ذکر کردہ آیت کا معنی یہ ہے کہ ‘‘قرآن مجید کو پاک لوگوں کے سوا اور کوئی نہیں چھو سکتا۔’’(۵۶/الواقعۃ:۷۹)

مفسرین نے اس آیت کریمہ کے کئی ایک مطلب بیان فرمائے ہیں۔جن کی تفصیل حسب ذیل ہے:

٭پاکیزہ لوگوں سے مراد فرشتے ہیں،یعنی یہ کتاب قرآن مجید لوح محفوظ میں ثبت  ہے  وہاں سے پاک  فرشتے ہی لا کر رسول اللہ ﷺ تک پہنچاتے ہیں کسی شیطان کی وہاں تک دسترس نہیں ہو سکتی جو اسے لاکر کسی کا ہن کے دل پر نازل کردے۔

٭قرآن پاک کے مطالب ومضامین تک رسائی  صرف ان لوگوں کی ہوسکتی ہیں جن کے خیالات پاکیزہ ہوں اور کفروشرک کی آلودگی سے پاک ہوں۔عقل صحیح اور قلب سلیم رکھتے ہوں۔جن لوگوں کے خیالات ہی گندے ہوں ان کی رسائی قرآن کریم کےبلند پایہ مطالب تک نہیں ہوسکتی ۔قرآن پاک کو صرف پاکیزہ لوگ ہی چھو سکتے ہیں۔ناپاک اور گندے لوگوں کو چاہیے کہ وہ اسے ہاتھ نہ لگائیں۔شرعی اصطلاح میں لفظ طاہر یا مطہرچار چیزوں کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے:

(۱)کفارومشرکین کے مقابلہ میں بندہ مؤمن کو طاہر کہا جاتا ہے ،خواہ وہ جنبی ہی کیوں نہ ہو۔

(۲)جنابت آلودہ آدمی کے مقابلہ میں غیر جنبی کو طاہر کہا جاتا ہے ،خواہ وہ بے وضو ہو۔

(۳)بے وضو کے مقابلہ میں باوضو آدمی پاک ہے،خواہ اس کے کپڑوں پر نجاست لگی ہوئی ہو۔

(۴)نجاست آلو د جسم یا نجس کپڑوں والے شخص کےمقابلہ میں وہ شخص طاہر ہے جس کے جسم یا کپڑوں پر نجاست نہ ہو۔ ایسے حالات میں قرآنی آیات کا مفہوم متعین کرنے کے لئے صاحب قرآن کے ارشادات کی طرف رجوع کرنا ہوگا،چنانچہ احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ اس سے مراد باوضو انسا ن ہے،یعنی بے وضو انسا ن کو چاہیے کہ وہ قرآن پاک کو ہاتھ لگانے سے اجتناب کرے،جیسا کہ رسول اللہﷺ نے اہل یمن کے نام سے ایک ہدایت نامہ میں فرمایا تھا:‘‘طاہر انسان کے علاوہ اور کوئی قرآن پاک کو ہاتھ نہ لگائے۔’’(دارمی ،کتاب الطلاق،ص:۱۶۱،ج۲)

یہ حدیث حضرت عمروبن حزم ،حکیم بن حزم ،عبداللہ بن عمر اور حضرت عثمان بن ابی العاص ؓ سےمتعدد کتب حدیث میں مروی ہے۔اگرچہ تمام مرویات میں کچھ ضعف پایا جاتا ہے ،تاہم کثرت طرق کی وجہ سے اس کی تلافی ممکن ہے،جیسا کہ علامہ البانی ؒنے اس حدیث کےمتعلق وضاحت کرتے ہوئے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ (ارواءالغلیل،ص:۱۶۰،ج۱)

صحابہ کرامؓ کے عمل سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔چنانچہ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کے بیٹے حضرت مصعب بن سعدؓ کہتے ہیں کہ میرے والد گرامی قرآن پاک کی تلاوت کررہے تھے اور میں خود قرآن پاک پکڑے ہوئے تھا،اسی دوران مجھے خارش کی حاجت ہوئی تو والد گرامی نے فرمایا‘‘شاید تو نے خارش کے دوران اپنی شرمگاہ کو ہاتھ لگایا ہے ’’میں نے کہا ہاں ،تو فرمانے لگے جاؤ!وضو کرکے آؤ۔چنانچہ میں وضو کرکے دوبارہ واپس آیا۔ (بیہقی ،ص:۸۸،ج۱)

حضرت سلمان فارسی ؓ سے بھی اسی قسم کا ایک واقعہ منقول ہے ،اسحاق مروزی کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل ؒ سے پوچھا کیا بے وضو آدمی قرآن پاک کو ہاتھ لگاسکتے ہیں فرمایا:ہاں،لیکن قرآن پاک دیکھ کر پڑھنے کی صورت میں اسے باوضو ہونا چاہیے کیونکہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :‘‘قرآن پاک کو بے وضو آدمی ہاتھ نہ لگائے۔’’صحابہ کرام ؓ اور تابعین کا یہی معمول تھا۔(ارواءالغلیل،ص:۱۶۱،ج۱)

اس سے معلوم ہوا کہ قرآن پاک کو باوضو ہوکرہاتھ لگانا چاہیے ہاں!حفظ کرنے والے بچوں کو اس کے متعلق رعایت ہے اس کی تفصیل مغنی لابن قدامہ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ (ص۲۰۲ج۱ واللہ اعلم)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص85

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ