سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(08) عصر کےبعد لکھنے کے بارے میں ایک موضوع حدیث

  • 11981
  • تاریخ اشاعت : 2014-05-22
  • مشاہدات : 576

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته


کیا وہ حدیث ثابت ہے جس میں عصر کے بعد لکھنے سے ممانعت آئی ہے ؟ ۔ (اخوکم سہیل )



السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا وہ حدیث ثابت ہے جس میں عصر کے بعد لکھنے سے ممانعت آئی ہے ؟ ۔ (اخوکم سہیل )


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ حدیث علماء نے موضوعا ت کی کتابوں میں ذکر کی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں ، جو اپنی دو محبوب یا مکرم چیزوں سے محبت رکھتا ہے اور ایک روایت میں ہے جو اپنی دو محبوب چیزوں کی عزت کرتا ہے تو عصر کے بعد ہرگز نہ لکھے ۔

علی القاری  اپنی موضوعات ص ، (66) میں کہتے ہیں :

’’مرفوع میں اس کی کوئی اصل نہیں ، امام سخاوی کہتے ہیں شاید معنی یہ ہے ، ’’عصر کے بعد اندھیرا ہو اور چراغ کوئی نہ ہو ‘‘۔

اور امام احمد نے اپنےبعض شاگردوں کی وصیت کی کہ عصر کےبعد کتاب کو نہ دیکھیں ، اسے خطیب نے روایت کیا ہے ۔

میں کہتا ہوں یہ طبیب کا کلام ہے جیسے امام شافعی  نے کہا کہ اوراق اپنے آنکھوں کی دیت کھاتا ہے ‘‘ آھ۔

تو آدمی کو نفع بخش کام سے اس جیسی کمزور حدیث کی وجہ سے نہیں رکنا چاہتے ۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ الدین الخالص

ج1ص48

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ