سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(200) اگر بچہ ختنہ شدہ پیدا ہو تو ختنے کی جگہ استر ا پھیرنا واجب نہیں

  • 11963
  • تاریخ اشاعت : 2014-05-22
  • مشاہدات : 778

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
جو بچہ ختنہ شدہ پیدا ہو تو کیا اس پر استر ا پھرنا واجب ہے ؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

با رھویں فصل ختنہ کے و جوب کو سا قط کرنے والے امو ر کے با رمیں ۔ کچھ امو ر سے ختنہ کا وجوب سا قط ہو جا تا ہے جو یہ ہیں :

(1)اگر کسی شخص کا پید ائشی طو ر پر پردہ (ذکر کرسر ) پر نہ ہو تو اسے ختنےکی ضرروت نہیں ہے کیونکہ وہ چیز ہی پید ا نہیں ہو ئی جسکا ختنہ کیا جا تاہے اور یہ متفقہ علیہ ہے ۔

لیکن متاخرین میں سے بعض نےکہا ہے کہ ختنہ کی جگہ پر استر اگزارنا مستحب ہے کیو نکہ ما مو ر پر اسکی اتنی ہی قدرت ہے ۔ اور نبیﷺ نےفرما یا ہے :

« اذا امر تکم بامر فاتو ا منہ ما استطعتم »

’’جب میں تمھیں کسی چیز کا حکم دوں تو اپنی استطا عت کے مطا بق اس پر عمل کر و ۔‘‘

(بخا ری (2؍ 1082) مسلم فی الفضائل ( 2؍ 262)

اور ختنہ میں واجب دو کا م تھے ۔ استر ے کا پھیرنا اور کاٹنا سا قط ہو گیا  ہے تو استر ے لگانے کے استحباب سے پیچھے مت ہٹ ۔ صحیح بات یہ ہےکہ یہ مکر وہ ہے ، ایسے کامو ں میں اللہ کی عبا دت ہےنہ ہی اس کا تقر ب اور شریعت ایسے عبث کامو ں سے منزہ ہےکیو نکہ یہ عبث ہےاس میں کو ئی فا ئدہ نہیں اور مقصو د استر کا پھیرنا نہیں بلکہ یہ فعل مقصو د کا وسیلہ ہےجب مقصو د سا قط ہو چکا ہےتو وسیلے میں کو ئی معنی نہ رہا ۔

اور اسکی نظیر ہے جو بعض نےکہا ہے کہ جس کے سر پر بال نہ اگےہوں تو اس کیلئے حج و عمر ے میں استر ا سر پر  پھیر لینا مستحب ہے ۔ اور اسی طر ح اصحا ب احمد  وغیر ہ میں سے بعض کا کہنا ہے کہ اگر کو ئی قر اءت نہ کر سکتا ہواو ر نہ اسے کو ئی ذکرمسنو ن یا د ہو یا وہ گو نگا ہو تو ، صرف زبا ن ہی ہلائے ۔

ہمارے شیخ ( شیح الا سلا م ابن تیمہ  ) کہتے ہیں : اگر یہ کہا جا ئے کہ اس سے نما ز با طل ہو جا تی ہےتو یہ زیا دہ صحت کے قریب ہے کیونکہ یہ عبث کام ہے اور عبث خشو ع کےمنا فی ہےاورزائد عمل ہے جو مشروع نہیں ۔ مقصد یہ ہےکہ جو بغیر پر دے کے پیدا ہو ا ہےاسکا کو ئی ختنہ نہیں ، یہ تب ہےجب کہ پر دہ سر ے سے نہ ہو ، اور اگر ذکر کا سر صر ف ظا ہر ہو اس طر ح کہ پیشا ب کا سو راخ واضح ہےاواسکا ہے تو اسکا ختنہ کراناضروری ہےتاکہ سارا حشفہ ( ذکر کا سر ) ظاہر ہو جا ئے ۔ الخ ۔

کیو نکہ مر د کیلئے واجب ہےکہ وہ سا ری جلد کا ٹ لی جا ئے جس نے حشفہ کو ڈھا نپ رکھا ہےتاکہ سارا حشفہ منکشف ہو جائے اور عورت کے لئے فر ج کے اوپر جلد کا معمو لی جزء کا ٹنا واجب ہے جیسے پہلے بیا ن ہو چکا ہے ۔

اور تحفۃ الا حوذی ( 4؍8 ) میں ہے ، الما وردی کہتے ہیں : ‘‘ مرد کا ختنہ یہ ہے کہ وہ جلد جس نے حشفے کو چھپا رکھا ہے کا ٹنا تا کہ جلد باقی نہ رہے اور اول حشفے یے جڑ سے پورا استیعا ب کرنا ضروری ہے اور کم از کم اتنا کافی ہے کہ اتنی جلد بھی باقی نہ رہے جو حشفے کو ڈھا نپے اورامام الحر مین کےنزدیک مر دوں کے حق میں قلفے کو کا ٹنا ہے ۔ یہ وہ جلد ہوتی ہے جس نے حشفے کو ڈھانپ رکھا ہو تا ہے تا کہ جلد میں سے کچھ بھی نفکی نہ ہے ۔

اور ابن الصبا غ کہتےہیں : ‘‘ یہا ں تک کہ سا را حشفہ کھل جا ئے اور امام نےکہا ہے کہ عورت کے ختنہ میں اسی قدر مستحب ہے جس پر ختنہ کا نا م بو لا جا سکے ۔

اور الماوردی کہتےہیں کہ ‘‘ اس کا ختنہ وہ جلد کا ٹنا ہے جو مدخل ذکر سے اوپر فر ج کے اوپر گھنی یا مر غ کی کلقی  کے مانند ہوتی ہےاور واجب کے اوپر کا ٹنا ہےنہ کہ جڑسے کاٹنا ہے ۔ الخ ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ الدین الخالص

ج1ص437

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ