سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(182) داڑھی کترانے کی ایک ضعیف حدیث کا ذکر

  • 11932
  • تاریخ اشاعت : 2014-05-21
  • مشاہدات : 483

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته


خطیب  ابو سعید خدری ﷜ سے مرفوعا لائے  ہیں ’’کوئی اپنی داڑھی  کے طول سے  ہر گز  نہ کترے   لیکن کنپٹی سے کتر سکتا ہے‘‘۔ اس حدیث کا کیا مطلب ہے  اور کیا یہ صحیح  ہے ؟۔فیروز 1415/3/11 بروز بدھ۔



السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

خطیب  ابو سعید خدری ﷜ سے مرفوعا لائے  ہیں ’’کوئی اپنی داڑھی  کے طول سے  ہر گز  نہ کترے   لیکن کنپٹی سے کتر سکتا ہے‘‘۔ اس حدیث کا کیا مطلب ہے  اور کیا یہ صحیح  ہے ؟۔فیروز 1415/3/11 بروز بدھ۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ حدیث خطیب بغدادی ﷫  تاریخ بغداد((187/5  میں لائے  ہیں  اور علی المتقی نے کنز العمال ((663/6 رقم(1781) اپنے  لفظوں  میں ذکر کیا ہے  اور ابن عدی نے الکامل (2018/5) میں نکالا ہے ۔ اور اس کی سند میں  عفیر بن معدان  کو محدثین  نے ضعیف  کہا  ہے۔ ابو حاتم کہتے ہین کہ  اس کی حدیث مین مشغول  نہیں ہونا چا ہیے ۔

یحیٰ  کہتے ہیں :کچھ بھی  نہیں ‘‘۔

 احمد کہتے ہیں : عطاء کی حدیث غریب ہے ، مجھے معلوم نہیں  عفیر بن معدا ن  کے علاوہ  اس  سے کسی نے روایت   کی ہو‘‘۔

تو ثابت ہوا کہ  یہ حدیث ثابت نہیں ہے تو کنپٹیوں  سے بال کترانا  جائز نہیں ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ الدین الخالص

ج1ص405

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ